
موسم بہار اور پھولوں کی بارش۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر
جب موسم بہار آتا ہے تو پرندے درختوں پہ چہچہانے لگتے ہیں درختوں پر نٸے شگوفے پھوٹتے ہیں کلیاں مسکراتی ہیں اور سورج کی نرم دھوپ ہر چیز کو اپنی پناہ میں لیتی ہے ۔۔
موسم بہار کے شروع ہوتے ہی لوگ اپنے گھروں کو صاف اور اُجلا بنا دیتے ہیں قالین اور پردے سب دھو کر دوبارہ استعمال میں لاۓ جاتے ہیں شدید سردی میں گھر کو متاثر کیا ہوتا ہے اس لیے ہم صفاٸی کرکے ہر چیز کو چمکاتے ہیں اور گھر کے سامان کو نٸے سرے سے ترتیب دیتے ہیں ۔ہماری ذہین بھی ہمارے گھر ہی کی طرح ہے اس میں بھی کٸ قسم کا کوڑا کباڑ جمع ہوتا رہتا ہے۔موسم بہار کے آتے ہی ہمیں اپنی ذہین کی بھی صفاٸی کر لینا چاہٸےتاکہ انے والا وقت خوبصورت ہو جاٸے اور ہماری کامیابیوں اور کمرانیوں کے لٸے راستہ صاف ہو جاۓ ۔جب تک ہم اپنی ذہین کو صاف نہیں کریں گے تو ہماری صحت بھی اچھی نہیں رہے گی اور ہم اپنی خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کر سکیں گے۔
ہمیں اپنے ذہین سے پرانی سب چیزوں کو نکال کر باہر پھینک دینا چاہٸے تاکہ اس میں نۓ اور تخلیقی خیالات داخل ہوں جو ہماری صحت اورخوشیوں کے لٸے بہترین کام انجام دیں۔اس لٸے موسم بہار میں باقاعدگی سے ذہین کی صفاٸی کرنا ضروری ہے۔
اپنے ذہین میں پاکیزگی کا خیال لاٸیں پاگیزگی ایک شفاٸی قوت ہے اور یہ انسان کیلے صحت اور دولت تخلیق کرتی ہے ۔اس لٸے ہماری ذندگی کو مسلسل پاکیزگی کے عمل سے گزرنا چاہٸے۔جب ہمیں کوٸی مسٸلہ درپیش ہو تو ہمیں اپنے منفی خیالات کو استعمال کرنے کی بجاۓ اس سے سبق سیکھنا چاہٸے اس سبق سے آپ کو ایک قانوں ملے گا جو آپ اپنی کامیابی کیلے استعمال کر سکتے ہیں ہمیں اپنے مساٸل کا سامنا کرنا چاہٸےاور ان کیلے اپنی اس طاقت کو استعمال کرنا چاہٸے کہ یہ مسٸلہ کچھ بھی نہیں ہے میں اس کو حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہوں اسطرح آپ اپنی قوت کو شکست دے دیں گے جو آپ کو سٸلہ حل کرنے سے روکتی ہے
اپنے ذہیں میں سوچٸے کہ یہ مسٸلہ میرے اوپرحاوی ہونے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن یہ صرف میرے ذہیں کا ایک سایہ ہے یہ ساٸہ میرے ماضی کی سوجوں کی وجہ سے ہے۔اس کے بعد آپ خود کو بہت زیادہ آزاد محسوس کریں گے اور اپنے مسٸلے کی تہ تک پہنچ کر اس کا حل تلاش کر لیں گے۔
اس لٸے چینی کہاوت ہے ”ہزاروں میلوں کا سفر پہلا قدم اٹھانے سے ہی طے ہو سکتا ہے“ تو دیر کس بات کی ہے اپنے ذہین سے تمام قسم کے کوڑے کباڑ،منفی جذبات ،غصہ اور عداوت و دُشمنی کے جذبات کی صفاٸی کرنا آپ کی ترقی کا پہلا قدم ہے۔۔۔یہ پہلا قدم آپ کو ہر صورت میں اُٹھانا ہے تب ہی آپ اپنے ذہین کو آذاد کرکے کامیابیوں کی جانب گامزن ہوں گے۔۔۔۔

