
ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی کی ممکنہ نجکاری: اپر چترال کے عوام کا شدید ردعمل، آل پارٹیز کانفرنس طلب
اپر چترال (رپورٹ: شہزاد احمد) اپر چترال کی اہم ترین طبی سہولت، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (THQ) بونی کی ممکنہ نجکاری کے فیصلے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس اقدام کو غریب دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا
ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ٹی ایچ کیو بونی پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی، عملے کی قلت اور بنیادی طبی سہولیات کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں ہسپتال کو کسی نجی ادارے یا کاروباری شخصیت کے حوالے کرنے کی خبروں نے عوام میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ شہریوں کا موقف ہے کہ:
نجکاری سے علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔
نجی ادارے عوامی خدمت کے بجائے اپنے مالی منافع کو ترجیح دیں گے۔
سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کے بعد ہسپتال کو بیچنا حکومت کی انتظامی کمزوری کا ثبوت ہے۔
سیاسی و سماجی محاذ آرائی
اس سنگین صورتحال پر غور کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آج بروز جمعہ ایک اہم آل پارٹیز کانفرنس (APC) طلب کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ تمام سیاسی و سماجی جماعتیں اس فیصلے کے خلاف ایک بھرپور تحریک کا اعلان کریں گی تاکہ ہسپتال کو نجی ہاتھوں میں جانے سے بچایا جا سکے۔
”مہنگائی کے اس دور میں حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان سے علاج کی سستی سہولت بھی چھین رہی ہے۔ ہم اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔” —
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اداروں کی نجکاری کے بجائے ان کی حالت زار بہتر بنانے پر توجہ دے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
ٹی ایچ کیو بونی میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف تعینات کیا جائے۔
جدید مشینری اور مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
نجکاری کی تمام تجاویز کو فی الفور مسترد کر کے ہسپتال کی سرکاری حیثیت برقرار رکھی جائے۔


