تازہ ترینمضامین

ایک ننھے دل کا بڑا سبق..صلاح الدین صالح

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے ہزاروں دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ننھے بچے کو دریا کے کنارے ایک زخمی بطخ ملی، جس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ بچہ اسے اٹھا کر روتے ہوئے اپنے والدین کے پاس آیا۔ جہاں عام طور پر ایسے مواقع پر لاپرواہی یا بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے، وہیں اس بچے نے ایک مختلف مثال قائم کی۔ والدین کی جانب سے یہ کہنے کے باوجود کہ بطخ مرنے والی ہے، بچے نے اصرار کیا کہ اسے اسپتال لے جایا جائے۔ مگر راستے میں وہ بے زبان پرندہ دم توڑ گیا۔

اس کے بعد جو منظر سامنے آیا، وہ ہماری اجتماعی سوچ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ بچے نے اس بطخ کو اپنے سینے سے لگایا، اسے چوما، اور اپنے ہاتھوں سے اس کے لیے قبر کھود کر اسے باعزت دفن کیا۔ اس دوران اس کے آنسو اور اس کی بے بسی انسانیت کا وہ سبق دے رہے تھے جو شاید بڑے بڑے درسگاہوں میں بھی نہ سکھایا جا سکے۔

یہ واقعہ محض ایک جذباتی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ پیغام ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو شوق، تفریح یا روایت کے نام پر بے زبان پرندوں اور جانوروں کا شکار کرتے ہیں، اور دوسری طرف ایک معصوم بچہ ہے جو ایک زخمی بطخ کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل انسانیت کہاں کھڑی ہے؟

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ ایسے مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو رحم، ہمدردی اور زندگی کے احترام کا درس دے رہے ہیں؟ یا ہم غیر محسوس انداز میں انہیں بے حسی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟

یہ وقت ہے کہ متعلقہ ادارے، خصوصاً محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف کے ادارے، ضلعی انتظامیہ اور سماجی تنظیمیں اس واقعے کا نوٹس لیں۔ اس بچے کی حوصلہ افزائی کی جائے، اسے باقاعدہ اعزاز دیا جائے تاکہ نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی ہو بلکہ معاشرے میں ایک مثبت پیغام بھی پھیلے۔ ایسے بچوں کو سامنے لانا اور ان کے کردار کو سراہنا اس لیے ضروری ہے تاکہ باقی بچے بھی ان سے سبق سیکھیں۔

ضلعی سطح پر ایک باقاعدہ پروگرام منعقد کیا جا سکتا ہے، جس میں اس بچے کو خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا جائے، اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اسناد، انعامات اور تعریفی اسناد دی جائیں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس مثبت پہلو کو اجاگر کرے، تاکہ معاشرے میں رحم، محبت اور احساس کی فضا کو فروغ ملے۔

اس بچے کے والدین بھی قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے ایک حساس اور دردِ دل رکھنے والا بچہ پروان چڑھایا۔
ایسے والدین دراصل معاشرے کے حقیقی معمار ہوتے ہیں، جو خاموشی سے انسانیت کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔

آخر میں، شکاریوں اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یہ ایک خاموش مگر گہرا پیغام ہے کہ طاقت کا استعمال نہیں، بلکہ رحم اور ہمدردی ہی اصل انسانیت ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO