تازہ ترینمضامین

حج و عمرہ کی قبولیت: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد ۔۔۔

 عمرہ اور حج اسلام کے عظیم عبادات میں شامل ہیں، جن کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی کی امید رکھتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ان مقدس عبادات کی ادائیگی کے لیے حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف حج یا عمرہ ادا کر لینے سے انسان کی بخشش یقینی ہو جاتی ہے؟ یا اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط بھی ضروری ہیں؟ قرآن و سنت اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

حج و عمرہ کی اصل روح

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

“وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ”

(سورۃ البقرہ: 196)

ترجمہ: “اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔”

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ دکھاوے، شہرت یا دنیاوی مفاد کے لیے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے”

(صحیح بخاری)

یعنی اگر نیت خالص نہ ہو تو عبادت کی قبولیت مشکوک ہو جاتی ہے۔

حقوق العباد کی اہمیت

اسلام میں حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حقوق (نماز، روزہ وغیرہ) میں کمی کرے تو اللہ چاہے تو معاف فرما دیتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک متاثرہ شخص خود معاف نہ کرے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس کے ذمے اپنے بھائی کا کوئی حق ہو، وہ آج ہی اس سے معاف کروا لے، اس دن سے پہلے جب نہ دینار ہوگا نہ درہم”

(صحیح بخاری)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کسی کا حق مار کر حج یا عمرہ پر جانا انتہائی خطرناک عمل ہے۔

حرام مال سے عبادت کی حیثیت

اگر کوئی شخص حرام مال سے حج یا عمرہ کرتا ہے تو اس کی عبادت کی قبولیت کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ حدیث میں آتا ہے:

“اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے”

(صحیح مسلم)

یعنی اگر مال حلال نہ ہو، یا کسی کا حق دبا کر عبادت کی جائے تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔

دکھاوے اور ریاکاری کا انجام

بعض لوگ حج اور عمرہ محض دکھاوے، عزت یا معاشرتی مقام حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عمل ریاکاری کہلاتا ہے، جو ایک بڑا گناہ ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“پس تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں”

(سورۃ الماعون: 4-6)

جب عام نماز میں دکھاوا قابل مذمت ہے تو حج جیسے عظیم فریضے میں ریاکاری کس قدر نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کیا ایسے لوگوں کا حج یا عمرہ قبول ہوگا؟

علمائے کرام کے مطابق:

اگر ارکانِ حج و عمرہ درست ادا کیے جائیں تو فرض ادا ہو جاتا ہے

لیکن قبولیت (مقبول حج) کا دار و مدار نیت، حلال کمائی اور حقوق العباد کی ادائیگی پر ہے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں”

(صحیح بخاری)

اور حج مبرور وہ ہے جو:

خالص اللہ کے لیے ہو

حلال مال سے کیا گیا ہو

گناہوں سے بچتے ہوئے ادا کیا گیا ہو

اور جس کے بعد انسان کی زندگی میں نیکی کی تبدیلی آئے

حج و عمرہ سے پہلے اور بعد کی ذمہ داریاں

حج یا عمرہ سے پہلے:

قرض ادا کرنا

لوگوں کے حقوق واپس کرنا

معافیاں طلب کرنا

نیت کو خالص کرنا

حج یا عمرہ کے بعد:

اگر کسی پر ظلم کیا ہو تو اس سے معافی مانگنا

حقوق العباد ادا کرنا

اپنی زندگی کو نیکی کی طرف بدلنا

نتیجہ

حج اور عمرہ محض ایک سفر یا رسم نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی تربیت ہے۔ اگر کوئی شخص لوگوں کے حقوق غصب کر کے، حرام مال کے ساتھ، یا دکھاوے کے لیے یہ عبادت ادا کرتا ہے تو اس کی قبولیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت، حلال رزق، حقوق العباد کی ادائیگی اور اخلاص کے ساتھ حج و عمرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ریاکاری اور گناہوں سے بچائے۔ آمین۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock