مضامین

*چترال کے گورنمنٹ دارالعلوم: علم، دین اور کردار سازی کے روشن مینار*..تحریر: ابوسلمان

چترال کی سرزمین ہمیشہ سے علم، دین اور روحانیت کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ جتنے بلند ہیں، اتنی ہی بلند یہاں کے علمی و دینی اداروں کی روایت بھی ہے۔ انہی تابناک روایات کا تسلسل دارالعلوم شاہی مسجد چترال اور دارالعلوم ربانیہ دروش چترال ہیں، جو نہ صرف دینی علوم کے فروغ کا عظیم ذریعہ ہیں بلکہ یہ دونوں ادارے حکومتِ خیبر پختونخوا کے زیرِ انتظام گورنمنٹ دارالعلوم ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔
*دارالعلوم شاہی مسجد چترال*
دارالعلوم شاہی مسجد چترال ایک تاریخی اور مرکزی دینی ادارہ ہے جو قلبِ شہر میں واقع ہو کر پورے ضلع چترال کے لیے علمی و روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارہ حکومت کی سرپرستی میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی، فکری اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔
یہاں قرآنِ کریم کی ناظرہ و حفظ تعلیم، تجوید، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم باقاعدہ نصاب کے تحت پڑھائے جاتے ہیں۔ دارالعلوم شاہی مسجد نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ایسے علما، خطبا اور مبلغین تیار کیے ہیں جو نہ صرف مساجد و مدارس بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں دینِ اسلام کی صحیح ترجمانی کر رہے ہیں۔
*دارالعلوم ربانیہ دروش چترال*
دارالعلوم ربانیہ دروش چترال بھی ایک اہم گورنمنٹ دارالعلوم ہے جو تحصیل دروش اور گرد و نواح کے لیے علم و ہدایت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ ادارہ سادگی، اخلاص اور اعلیٰ تعلیمی نظم و ضبط کی روشن مثال ہے۔
دارالعلوم ربانیہ میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی کردار سازی، تقویٰ، اعتدال اور خدمتِ خلق کے جذبے کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے علما مختلف علاقوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرے میں امن، رواداری اور اخلاقِ حسنہ کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔
*گورنمنٹ دارالعلوم: ایک امتیازی حیثیت*
دارالعلوم شاہی مسجد چترال اور دارالعلوم ربانیہ دروش چترال کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے سرکاری سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔ اس حیثیت نے نہ صرف ان کے تعلیمی نظم کو مضبوط بنایا ہے بلکہ نصاب، امتحانی نظام اور انتظامی امور میں بھی معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا ہے۔
یہ ادارے اس حقیقت کا عملی ثبوت ہیں کہ ریاست اور دین ایک دوسرے کے معاون بن کر معاشرے کو فکری و اخلاقی استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔
بلاشبہ دارالعلوم شاہی مسجد چترال اور دارالعلوم ربانیہ دروش چترال چترال کی دینی و علمی تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔ یہ ادارے محض تعلیم گاہیں نہیں بلکہ کردار سازی کی ایسی درسگاہیں ہیں جہاں سے نکلنے والے افراد معاشرے کے لیے چراغِ راہ بنتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گورنمنٹ دارالعلوم کی سرپرستی مزید مضبوط کی جائے تاکہ یہ ادارے آنے والی نسلوں کو بھی علم، عمل اور اخلاص کا پیغام دیتے رہیں اور چترال کی سرزمین ہمیشہ علم و دین کی خوشبو سے معطر رہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock