
آبنائے ہُرمُز کے بھنور میں دنیا کی تیرتی معیشت ۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق..محمد اقبال شاکر
آبنائے ہُرمُز ایک انتہاٸی اہم 35 کلومیٹر چوڑی سمندری گزرگاہ ہے جو کٸی صدیوں سے تجارتی اورسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے جو عالمی تیل کی 20فیصد سے زاٸد سپلاٸی کی بھی واحد گزرگاہ ہے جو عراق ایران جنگ سے اب تک جعرافیاٸی،سیاسی تنازعات کا مرکز بنی ہوٸی ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ دنیا کا اہم ترین تیل بردار راستہ بن گیا۔
آبنائے ہُرمُز سے سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کویت اور ایران سے یومیہ تقریبا 22ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے ان ملکوں میں پاکستان،چین،جاپان،جنوبی کوریا،یورپ ،شمالی امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کو آبناۓ ہٰر مُز کے زریعے سے تیل کی تجارت ہوتی ہے آبناۓہُرمُز مشرق وسطی کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء ،یورپ،شمالی کوریا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے اس وجہ سے بھی اس کی خاص اہمیت ہے اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکہ کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20فیصد تیل اور 30فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے یہاں سے روزانہ تقریبا 90 اور سال بھر میں 33ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں جو تیل اور گیس سے لدے ہوتے ہیں۔
33کلومیٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں ہر لین کی چوڑاٸی تین کلو میٹر ہے جہاں سے بڑے بڑے اٸل ٹنکرز گزرتے ہیں مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20فصد حصہ بھی یہاں سے جاتا ہے ہُرمُز سے سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کویت اور ایران سے روزانہ کے حساب سے 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پنچایا جاتا ہے دنیا کو سب سے ذیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی بر آمدات کیلے بھی ہُرمُز پر انحصار کرتا ہے اس کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے خلیج فارس کے اندر ایرا،عراق،کویت،سعودی عرب،بحرین،قطر،یو اے ای اور عمان موجود ہیں جن کی تعداد 8ہے۔
دنیا کی دوسری معیشت چین کی روانی کیلے خلیج سے اپنی ضرورت کا نصف حصہ تیل منگواتا ہے جبکہ جاپان یہان سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71فیصد تیل بھی اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں یہ تینوں ممالک لیگژیری گاڑیاں برقی سامان خلیجی ملکوں کو اس راستے سے ترسیل کرتے ہیں۔
حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ایران آبناۓ ہُرمُز کو جنگی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے اور آبناۓ ہُرمُز پر ناکہ بندی کرکے ہر قسم کی تجارت کیلے بند کر دیا ہے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے علاوہ آبدوزیں،اینٹی شپ میزاٸل اور جنگی کشتیاں تعینات کیا ہے جس کی وجہ دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا اور تیل کی قیمتین بڑھ چکی ہیں آبناۓ ہُر مُز نہ صرف ایران کیلے ایک چوک پواٸنٹ نہیں بلکہ دنیا کیلے زندگی کی لکیر ہے جس کی وجہ سے دنیا کی معیشت آبنائے ہُرمُز کی بھنور میں تیر رہی ہے جس سے دنیا میں بھوک افلاس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے
پاکستانی حکومت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہد ہو چکا ہے اور مکمل جنگ بندی کیلے کوششیں جاری ہیں انشااللہ دنیا کا امن تباہ نہیں ہونے دیں گے دنیا میں امن قاٸم کریں گے اور دنیا کی امن کیلے اپنی خدمات جاری رکھیں گے اور امن کے دشمنوں کو کھبی کامیاب نہیں ہونے دیں گے تمام امن پسند ممالک سے اُمید کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں امن قاٸم کرنے کیلے نیک نیت اور دل سے آگے بڑھیں گے ۔۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد
