داد بیداد

داد بیداد۔۔شہر پشاور کی تو سیع ۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

شہر پشاور کا ایک نام پشور بھی ہے چارسدہ اور نوشہرہ کے نواحی دیہات کے لوگ اس کو شہر(خار) کہتے ہیں ڈیڑھ سو سال پہلے کا شہر مسلسل تو سیع کے مراحل سے گذررہا ہے حا لیہ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نیو پشاور ویلی سمیت سات اہم رہائشی منصو بوں پر کام کررہی ہے جن میں کچھ مکمل ہو چکے ہیں باقی منصوبوں میں تیز تر اور بہتر ترقی کے لئے 34ارب روپے کی لاگت سے کا م جاری ہے ہاوسنگ کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے پریس کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ منصو بوں میں میرٹ اور شفافیت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے ڈیجیٹل ایب اور دیگر جدید سہولیات سے کام لیا جارہا ہے ان منصوبوں کے ذریعے 30447کنال اراضی پر 38784فلیٹس اور پلاٹ عوام کو دیئے جائینگے احساس اپنا گھر سکیم کاپہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اس سہو لت کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے 114کامیاب درخواست گذار وں کو قرضوں کے چیک دینے کا عمل بہت جلد شروع ہو گا احساس اپنا گھر منصو بے کے دوسرے مر حلے پر کا م جا ری ہے یہ تمام اقدامات تاریخی شہر پشاور کو توسیع دیکر جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے منصو بے کا حصہ ہیں علامہ اقبال نے 100سال پہلے پیش گوئی کی تھی

نہیں میری نظر سوئے کوفہ و بعداد

کرینگے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

میری عمر کے جو شہر ی گذشتہ نصف صدی سے شہر کی تو سیع کو دیکھ رہے ہیں وہ جا نتے ہیں کہ گل بہار اور یو نیور سٹی ٹاون بننے کے بعد پرانے شہر کے لو گوں نے پیپل منڈی اور مینا بازار کی گنجا ن گلیوں سے نکل کر با ہر آباد ہونا شروع کیا، پھر ریس کورس اور شامی روڈ کی کھلی فضاء میں گھر بننے لگے تو محلہ سیٹھیاں اور کریم پورہ جیسے قدیم اور تاریخی محلوں کے صاحب ثروت لوگ اندرون شہر سے باہر منتقل ہوگئے حیات آباد کی نئی بستی نے قدیم پشورکے بہت سارے پشوریوں کو اپنے وسیع دامن میں جگہ دی کل ہی کی بات ہے 1990اور 1991میں لو گ حیات اباد کو محفوط جگہ نہیں سمجھتے تھے 1993میں جو لوگ حیات اباد منتقل ہوئے وہ خوف کے سایے میں رہتے تھے آہستہ آہستہ حالات بدلنا شروع ہوئے اور اگلے 20برسوں میں حیات اباد محفوظ بستی بن گئی اب شہر پشاور کی پیشانی کا نیا جھومر ریگی ماڈل ٹاون آباد ہوناشروع ہوا ہے اس کے بغل میں ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے رہائشی منصوبے پر کام جاری ہے، صوبائی حکومت کے سات نئے منصوبے اور خاص کر نیو پشاور ویلی کی سکیمیں اس کے علاوہ ہیں گویا شہر پشاور اپنا دامن پھیلا رہا ہے، رہائشی منصوبوں کی ترقی کے ساتھ رئیل اسٹیٹ کے کارو بار کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی مل رہی ہے اس کے ساتھ ہی وادی پشاور کا زرخیز زرعی رقبہ سکڑتا جارہا ہے اور سیمنٹ سریا کی نئی فصل اگائی جارہی ہے،

افکار تازہ سے ہے جہان ِ تازہ کی نمود

کہ سنگ وخشت سے ہو تے نہیں جہا ں پیدا

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock