
دھڑکنوں کی زبان ۔۔سگے بھائیوں کا عذاب “۔۔محمد جاوید حیات
مجھے رب نے سگے بھائیوں کی صورت میں نعمتیں دی ہیں بے مثال بھائی ہیں رب کا شکر ہے لیکن دو دن پہلے میری تحریریں پڑھنے والے ایک بھائی نے مجھے ایک خط لکھا استدعا کی کہ آج کے سگے بھائی اپنے بھائیوں سے دشمنوں جیسا سلوک کیوں کرتے ہیں؟ اس پر ذرا قلم اٹھائیے ..ان کے خط میں بہت ساری ناقابل بیان باتیں لکھی ہوئی تھیں. مایوسی اور ناامیدی نے اسے کڑکا دیا تھا .مجھے ایسی بد سلوکی کا شکر ہے تجربہ نہیں البتہ ایک سگے بھائی جو ماں جائی کہلاتا ہے اس کا اپنے بھائی سے ایسا ناروا سلوک بے جا ہے ..قران میں بھائی کو طاقت قرار دیا گیا .حضرت لوط ع نے اپنی قوم کے مقابلے میں کہا یا کاش میرا کوئی مضبوط بھائی ہوتا .یہ بھائی لفظ ہی عجیب حوصلہ اور طاقت ہے کسی کو بھائی کہنے سے ایک ہمت عقیدت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ایک خوشگوار احساس جسم و جان میں سرایت کر جاتا ہے .بے شک دور کے تقاضے بدلے ہیں اقدار بدلے ہیں رشتے ناطوں کے پیمانے ایسے نہیں رہے .لالچ حسد نے لوگوں کو بیمار کیا ہے دنیا کی چکا چوند نے مقابلے کی ایک فضا قائم کی ہے ایک بھائی کی دنیاوی ترقی دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور کامیاب بھائی بھی یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے رشتے ناطے ہیں .آج کل کے المیوں میں بڑا المیہ جائیداداور وراثت کا ہوتا ہے باپ کے اندوختے بچوں یعنی ورثاء کے لیے ایک نہ ختم ہونے والے مسائل پیدا کر دیتے ہیں .یہ المیہ دوریاں پیدا کرتا ہے خاندان کے اندر رشتوں کا تقدس بھی ڈھواں ڈول ہے .تایا کبھی ابو ہوا کرتا تھا تائی امی ہوا کرتی تھی آج کل یہ عام سے جنتا ہیں اور جتنے رشتے تھے پھوپا پھوپی خالہ خالو .دادا دادی اپا بھائی جان اور یہ کتنے اہم اور پیارے رشتے تھے جن کا تعارف کرنا نہیں پڑتا ہے آج کل یہ ان جان سے ہیں اجنبی سے …ان کا تعارف کرانا پڑتا ہے تعارف کرائیں بھی متعارف کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا .اس کی بڑی وجہ شاید خاندان کے ایسے بڑے ہیں جو بچوں کے سامنے ان افراد (رشتہ داروں)کی کمزوریاں گنواتے ہیں ان کو برا بھلا کہتے ہیں بچے یہ سب کچھ سنتے ہیں .. حالانکہ باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے ان کی ماں کی غیر موجودگی میں ان کی تعریف کرے کہے کہ بچو! وہ تمہاری ماں ہے ان کا احترام تم پہ لازم ہے میں ان کو سست کہہ سکتا ہوں ڈانٹ سکتا ہوں لیکن تمہیں ان کا خیال رکھنا ہوگا .ماں بھی بچوں کے سامنے ان کے باپ کی غیر موجودگی میں اس کی تعریف کرے .ہم ایسا نہیں کرتے بچوں کو سب سے نفرت کا درس دیتے ہیں دنیا میں سب سے بھیانک مخالفت دو سگے بھائیوں والی مخالفت ہے اسی کے لیے محاورہ ہے خون سفید ہونا.بے وفائی اور بے غیرتی کا انتہا کو پہنچنا .سیدھی سی بات ہے کہ ایک نہ ایک فریق تھوڑا سا صبر کرے تو یہ مخالفت اور دشمنی وقتی ہو سکتی ہے ختم ہو سکتی ہے مگر ایسا نہیں ..شیطان مردود ہے .استین کے سانپ ہیں فسادی ٹولے ہیں جو ایسا کرنے نہیں دیتے .کہتے ہیں غصہ حماقت سے شروع ہوتی ہے اور ندامت پہ ختم ہوتی ہے .یہی فسادات ہماری حماقت کے شاخسانے ہیں .بھائی کی مثال دائیں ہاتھ کی ہے دست راست ہے معمولی تنازعات کا انا کا مسلہ بنایا جائے تو بھائی جیسے عظیم رشتے سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے .گھروں کے اندر بھابیوں کا بڑا جردار ہوتا ان کی وجہ سے خاندان ٹوٹتے بھی ہیں جڑتے بھی ہیں گزرے زمانوں میں مشترک خاندان کا رواج تھا خاندان والے بخوشی اکھٹے گزارتے کوئی رنجشیں جنم نہیں لیتیں .صبرو شکر کا تصور تھا بزرگوں کا احترام تھا .آج زندگی کی رنگینیوں نے یہ روایات مٹا دئیے ہیں .سگے بھائی اگر آپس کی چپقلشوں پہ آجائیں تو ان خاندانوں پر عذاب نازل ہوتا ہے یہ نہ بجھنے والی آگ ہے نہ بھرنےوالا زخم ہے نہ بھولنے والی تلخی ہے آج کی زندگی جہان رنگیں ہے وہاں پیچیدہ بھی ہے اگر یہ پیچیدگیاں سگے بھائیوں میں پیدا ہو جائیں تو عذاب ہیں .بھائیوں کی خوبصورتی اور معیار یہ ہے کہ وہ قربانی کا جذبہ رکھیں معافی کے جوہر سے ملا مال ہوں .آج کے دور کا بڑا عذاب سگے بھائیوں کا عذا ب ہے اگر خدا نخواستہ سگے بھائیوں کی مخالفت حد سے بڑھ جائے تو انسانیت کی بھی تذلیل ہے.ان کے درمیان مخالفت کی جو آگ لگائی جاتی ہے اس کو بجھانا بھی انہی بھائیوں نے ہے ان کو اس عظیم رشتے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیئے بھائی کے خط میں جو تلخی ہے وہ اپنی جگہ لیکن انگریزی میں کہتے ہیں ..”خون پانی سے بھاری ہوتا ہے” ..اسی کے لیے اردو ضرب المثل ہے اپنا اپنا پرایا پرایا ..آج کے دور کی خود عرضی نے سب کچھ تباہ کردیا ہے ہر انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وقت گزر جائے گا برے اچھے وقت زمانے کی گردیشیں ہیں .انسان کی ہر دو کیفیات غم و خوشی ہیں اگر خدا نخواستہ انسان کبھی جذباتی فیصلہ کرے پھر کول ہونے کے بعد افسوس اور پچھتانا پڑے تب کیا ہوگا اللہ کے دین میں تین دن سے زیادہ ناراضگی کی گنجائش ہی نہیں ہے اللہ کرے کہ ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے ..یہ معمولی رنجشیں کہیں روگ نہ بن جائیں یہ زمانہ جاہلیت کا طرز ہے ..حالی نے اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے کی کیا خوب عکاسی کی ہے ..
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا ..
کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا ..
لب جو کہیں انے جانے پہ جھگڑا ..
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا ..
یوں ہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں ..
یوں ہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں …
یہی حال ہمارا ہوتا جارہا ہے..یہی جاہلیت ہے علم و دانش کے اس دور میں جاہلیت اچھی تو نہیں لگتی …….