داد بیداد

دادبیداد۔۔سپیشل برانچ۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی ختم نہ ہونے والی لہر اپنے کرشمے دکھا رہی ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی، بربادی اور افراتفری پھیلانے کے لئے علمائے کرام کو چُن چُن کر شہید کیا جا رہا ہے تا کہ اس کے ردِ عمل میں مزید بدامنی اور لاقانونیت کا راستہ ہموار کیا جائے۔ ترنگزئی چارسدہ میں چوٹی کے عالم دین شیخ الحدیث شیخ محمد ادریس رحمت اللہ علیہ کی شہادت اس سلسلے کی ایک اور واردات ہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں تین باتیں عموماً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اگر ملزم پکڑا بھی جائے تو عدالت سے اس کو ضمانت مل جاتی ہے، اپیل کے مرحلے میں اس کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ مزید وارداتوں کو روکنے کے لئے کسی حکومت نے نئی حکمتِ عملی نہیں بنائی جبکہ دہشت گرد ہر بار نئی حکمتِ عملی اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ مزید کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

خوف اور دہشت کے موجودہ ماحول میں پچھتر یا اسی سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کو دو مثالیں یاد آتی ہیں۔ یہ بات ہمیں آج بھی یاد ہے کہ سرفراز خان مجسٹریٹ تن تنہا پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کو کنٹرول کرتا تھا اور بڑی بڑی سزائیں سناتا تھا۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پولیس کا ایک شعبہ سپیشل برانچ ہوا کرتا تھا جس کے تربیت یافتہ اور دیانت دار اہلکار وردی کے بغیر ہر گاؤں اور محلے میں مخبری اور جاسوسی کا کام کرتے تھے، ہر سازش کو بے نقاب کرتے تھے، ہر ملزم کی شناخت کرتے تھے اور ہر واردات کا کھوج لگاتے تھے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی میز سے لے کر صوبائی چیف ایگزیکٹو کی میز تک سپیشل برانچ کی ڈائری پر فوری ایکشن لیا جاتا تھا۔ لاء اینڈ آرڈر کو بحال رکھنے اور نظم و نسق کو بہتر کرنے میں اس ڈائری کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔

سننے میں آتا ہے کہ سپیشل برانچ آج بھی موجود اور فعال ہے مگر اس کی ڈائری کو منہ نہیں لگایا جاتا۔ اس کے مقابلے میں سیف سٹی کے کیمرے پر اعتماد کیا جاتا ہے اور سات یا آٹھ کے قریب دوسری ایجنسیوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کے کان بہرے ہو گئے، حکومت کی آنکھیں بینائی سے محروم ہو گئیں اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک حکومت یا ریاست کے مقابلے میں طاقتور اور مضبوط ہو گیا۔ آج اگر سپیشل برانچ کو 1960ء کے عشرے کی طرح وقعت دی گئی تو دہشت گردی کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس سلسلے میں حکمرانوں اور پُرامن وطن چاہنے والوں کی توجہ کے لئے دو مزید گزارشات بے جا نہیں ہوں گی۔ 1960ء کے عشرے میں سپیشل برانچ کی ڈائریوں کو فوقیت دینے میں پولیس رولز، ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ عدلیہ کا بھی نمایاں کردار تھا۔ 1980ء کے عشرے میں اعلیٰ عدلیہ کو سیاست اور کرپشن کی بھینٹ چڑھا کر کمزور کیا گیا، 2001ء میں ضلعی انتظامیہ کو توڑ دیا گیا، ڈپٹی کمشنر کو بے دست و پا کیا گیا، پولیس رولز میں ناجائز اور ناروا ترمیم کر کے پولیس کی طاقت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مقتدرہ یعنی آپریشن کا حصہ الگ ہوا، تفتیش کا حصہ الگ ہوا، عدالت میں فوجداری مقدمات کی پیروی یعنی پراسیکیوشن کا شعبہ الگ ہوا۔ ضلعی پولیس افسر کے اختیارات ختم کر کے اس کے دفتر کو ڈاک خانے کی حیثیت دے دی گئی۔ شاعر کا قول ہے:

“وہ اختیار کسی کام کا نہیں صاحب

کہ جس میں آدمی اوروں کے اختیار میں ہو”

مزید ظلم یہ ہوا کہ کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کی ترقی روک دی گئی۔ ان کی جگہ باہر سے (ASI) اے ایس آئی لانے کا قانون بن گیا۔ 18 اور 20 سال سروس کرنے والے اہلکار ترقی سے محروم ہو کر بددلی کا شکار ہوئے۔ دہشت گردی کی خطرناک لہر کو روکنے کے لئے 1960ء کے عشرے کی پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کو واپس لے آنا وقت کا تقاضا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ:

“وہی دیرینہ بیماری، وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی”

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock