
عید الاضحیٰ اور اسلامی معاشرے میں ایثار و غریب پروری کی اہمیت..بشیرحسین آزاد۔۔
عید الاضحیٰ صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایثار، ہمدردی، مساوات اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم درس دیتی ہے۔ آج جب کہ عید قربان کی آمد آمد ہے اور بازاروں میں خریداری کا رش نظر آرہا ہے، ایسے میں معاشرے کے اُن سفید پوش، نادار اور غریب خاندانوں کو یاد رکھنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جو مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بہت سے بچے نئے کپڑوں، جوتوں اور عید کی خوشیوں کی خواہش دل میں لیے خاموش رہتے ہیں، مگر حالاتِ زندگی ان کی خواہشات کو دبا دیتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں صرف اپنی خوشیوں تک محدود رہنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کا حکم دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“پس تم اس قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج و فقیر کو بھی کھلاؤ۔”
(سورۃ الحج: 28)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
“اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج: 37)
ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی کا اصل مقصد صرف رسم ادا کرنا نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور محتاجوں کی مدد کرنا ہے۔ اگر ہمارے فریزر گوشت سے بھر جائیں اور ہمارے پڑوس میں کوئی غریب بچہ گوشت کی خوشبو ترستا رہے تو یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔”
(مسند احمد)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ غرباء، یتیموں اور مساکین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ عید کے موقع پر خاص طور پر غریبوں کو خوشیوں میں شریک کرتے تھے تاکہ معاشرے میں محرومی اور احساسِ کمتری پیدا نہ ہو۔
آج ہمارے معاشرے میں بعض لوگ ضرورت سے زیادہ خریداری، فضول خرچی اور نمود و نمائش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ ایک کی بجائے کئی کئی جوڑے، مہنگی اشیاء اور بے جا اخراجات کیے جاتے ہیں، جبکہ بہت سے سفید پوش خاندان ایسے ہیں جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھی اپنی عزت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد خاموشی سے کرنا، ان کے گھروں تک راشن، کپڑے، جوتے اور قربانی کا گوشت پہنچانا حقیقی اسلامی جذبہ ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، مال اور آسائشوں کو قربان کیا جائے اور انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی جائے۔ اگر ہم اپنے اردگرد موجود غریب، بیواؤں، یتیموں اور مزدور طبقے کو اپنی خوشیوں میں شریک کرلیں تو یہی عید کی اصل روح ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس عید پر صرف اپنے گھروں تک خوشیاں محدود نہ رکھیں بلکہ معاشرے کے محروم طبقے کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں۔ یہی قرآن و سنت کا پیغام ہے اور یہی ایک اسلامی معاشرے کی حقیقی پہچان بھی۔
