
تجاوزات کے خاتمے سے روزگار کے تحفظ تک۔۔تحریر : نورالہدیٰ یفتالیٰ
کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کو باعزت زندگی کے لیے درکار سہولیات فراہم کرنا ہوتی ہے۔ روٹی، کپڑا، مکان، معیاری تعلیم، صحت، انصاف، جان و مال کا تحفظ، روزگار اور سماجی تحفظ ایسی بنیادی ضروریات ہیں جن کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قیامِ ملک کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ بنیادی تقاضے آج بھی بڑی حد تک تشنۂ تکمیل ہیں۔
ملک کے سیاسی افق پر حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے اور وعدے بھی تبدیل ہوتے رہے، مگر ایک جملہ ہمیشہ مستقل رہا کہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں عوامی مسائل کے مستقل حل کے بجائے اقتدار کی سیاست کو ترجیح دی گئی۔ نتیجتاً آج بھی لاکھوں پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیمی نظام، کمزور صحت کی سہولیات اور انصاف کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں معاشی دباؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، یوٹیلیٹی بلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ریاست غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جو قانون کی حکمرانی اور شہری نظم و ضبط کے لیے ضروری ہیں، مگر دوسری جانب ان اقدامات کے سماجی اور معاشی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے مختلف شہروں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں دکانیں اور کاروباری مراکز متاثر ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قانون کی بالادستی کے لیے غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دکانوں اور کاروباروں سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش بھی انہی سے جڑا ہوا تھا۔ جب کسی دکان کا انہدام ہوتا ہے تو صرف ایک عمارت نہیں گرتی بلکہ اس کے ساتھ کئی گھروں کے چولہے بجھنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر تجاوزات غیر قانونی تھیں تو برسوں تک انہیں قائم رہنے کی اجازت کس نے دی؟ متعلقہ سرکاری ادارے، بلدیاتی حکام اور وہ عناصر جو اپنی ذمہ داریوں میں غفلت یا مفادات کی بنیاد پر خاموش رہے، کیا ان کی کوئی جوابدہی نہیں ہونی چاہیے قانون کا تقاضا صرف کمزور طبقے کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ان تمام افراد کو احتساب کے دائرے میں لانا بھی ہے جنہوں نے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو ممکن بنایا۔
ریاست کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ متاثرہ شہریوں کی بحالی بھی ہے۔ اگر تجاوزات کے خاتمے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں تو حکومت کو متبادل روزگار، کاروباری زونز، سستی مارکیٹوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے خصوصی منصوبوں کا اعلان کرنا چاہیے۔ خالی سرکاری اراضی اور مناسب مقامات پر منظم تجارتی مراکز قائم کرکے متاثرین کو منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔
ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو صرف عمارتیں گرانا جانتی ہو، بلکہ وہ ہے جو قانون کی عملداری کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے معاشی اور سماجی مستقبل کی بھی حفاظت کرے۔ پاکستان کو اگر حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بننا ہے تو اسے صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کے انسانی اور پائیدار حل بھی تلاش کرنا ہوں گے۔ کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں میں نہیں بلکہ اس کے مطمئن اور باوقار شہریوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
