
ہم عہد پلاسٹک میں جی رہے ہیں۔۔تحریر :نورالہدیٰ یفتالیٰ
پاکستان میں گلگت بلتستان ہنزہ میں بھی انتظامیہ نے پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری اور خریدو فروخت پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ وہاں خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔اور آغا خان رورل سپورٹ کے تعاون سے وہان کے لوکل آرگنایزیشن قراقرم اریا ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پلاسٹک کے شاپنگ بیگ کو ختم کر کے وہاں
کپڑے کی شاپنگ بیگ تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کئے۔
اور ہم چترال میں ہم عہدِ پلاسٹک میں جی رہے ہیں۔ ہم پلاسٹک کھا رہے ہیں، پلاسٹک پی رہے ہیں، پلاسٹک اوڑھ رہے ہیں، پلاسٹک پہن رہے ہیں اور پلاسٹک کی بو میں سانس لے رہے ہیں۔ پلاسٹک ہمارے جسموں میں داخل ہو چکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ ہم بازار سے دودھ، دہی، سالن اور کھلے جوس پلاسٹک کی تھیلیوں میں خرید کر لاتے ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیوں میں کھانے پینے کی اشیاء ڈالنے سے اس کے خطرناک اجزاء ان میں شامل ہو کر ہمارے جسم کا حصہ بن رہے ہیں۔
کھلی ہوا میں جلائے جانے والے کچرے کے ڈھیر، جو صفائی کے نام پر جلائے جاتے ہیں، ان میں 90 فیصد کچرا پلاسٹک کی تھیلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ زہریلا دھواں ہمارے سانس میں شامل ہوتا ہے۔ گھر میں ہمارے برتن اب زیادہ تر پلاسٹک کے ہو چکے ہیں۔ صبح سب سے پہلے پلاسٹک کا برش ہی ہمارے دانت صاف کرنے کے کام آتا ہے۔ دوپہر میں گھر سے لے جانے والا کھانا اکثر پلاسٹک کی تھیلیوں میں لے جایا جاتا ہے، جنہیں بعض اوقات گرم پانی میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ کھانا گرم ہو جائے۔ گرم گرم بریانی بھی اب پلاسٹک کی تھیلیوں میں پیک ہو کر آپ تک پہنچتی ہےپانی تو آپ پیتے ہی ہیں صاف منرل واٹر مگر ہر گھونٹ کے ساتھ پلاسٹک بھی آپ کے اندر اتر رہا ہوتا ہے اور مشروب ہو یا خوراک اب تقریباً ہر چیز پلاسٹک میں لپٹی ہوئی آپ تک پہنچتی ہے اور آہستہ آہستہ آپ کا حصہ بنتی جا رہی ہے
ایک تحقیق کے مطابق کہ ایک بوتل میں تقریباً 10.4 مائیکرو پلاسٹک ذرات شامل ہو جاتے ہیں۔ ان ذرات میں پولی پروپائلین، نائلون اور پولی تھین شامل ہوتے ہیں۔ زمین میں دفن ہونے والی تھیلیاں، جو ہزاروں برس میں بھی تحلیل نہیں ہوتیں، اپنے اجزاء زمین میں منتقل کر رہی ہیں ۔وہی زمین جو ہمارے لیے فصلیں اور پھل اگا رہی ہے۔ جانور جن کا ہم گوشت کھاتے ہیں، ان کے جسموں سے بھی پلاسٹک کے ذرات مل رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے نظامِ ہضم سے باہر نہیں ہو پاتے۔ سمندری مخلوق، خصوصاً مچھلیاں، بھی ان پلاسٹک تھیلیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
ہماری ضرورت کی بہت سی اشیاء میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے، جیسے شیمپو، میک اپ کا سامان، شیونگ جیل، دانتوں کی پیسٹ اور اس طرح کی درجنوں اشیاء میں مائیکرو پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔ تو اب آپ کو یقین آ گیا ہوگا کہ ہم واقعی عہدِ پلاسٹک میں جی رہے ہیں۔
پلاسٹک بیگ یا شاپر ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہم ہر سال 55 ارب پلاسٹک تھیلیاں استعمال کرتے ہیں اور ہر سال ان میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ لگ بھگ چار دہائیاں گزرنے کے بعد ہمیں احساس ہونے لگا ہے کہ شاپر ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور اس نے ہر سمت تباہی پھیلا دی ہے۔شاپنگ بیگ کو ٹھکانے لگانا ایک انتہائی مشکل عمل ہے۔ یہ پانی میں 10 سے 20 سال میں گلتا ہے، جبکہ زمین میں تحلیل ہونے میں تقریباً 500 سال تک لگ سکتے ہیں۔ جب شہروں اور جنگلوں میں ہر سال کھربوں پلاسٹک بیگ بکھرے نظر آنے لگے تو لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ ماحول کی صفائی، خوبصورتی اور توازن کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
جب ندی نالے شاپروں سے بھر گئے اور بارشوں کے دوران سڑکیں زیرِ آب آنے لگیں تو معلوم ہوا کہ یہ تھیلیاں نالوں میں پھنس کر سیوریج کے نظام کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ سڑکوں پر یہ ہر طرف اڑتی پھرتی ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں کچرا اٹھانے کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز کے باوجود کچرا جمع کرنے کا نظام کمزور ہے، اور عمومی طور پر کچرا سڑک کنارے ہی جلا دیا جاتا ہے۔ اس کچرے میں موجود پلاسٹک جلنے سے زہریلا دھواں پیدا ہوتا ہے جو شہریوں میں خطرناک بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔
پلاسٹک بیگز سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تباہی سے بچنے کے لیے کئی سمجھدار ممالک نے ان کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور دکانداروں کو متبادل اپنانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ پلاسٹک جلانے سے نہ صرف سانس کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ اس کے دھوئیں سے کینسر جیسے مہلک امراض بھی جنم لے رہے ہیں، جو ہماری آنکھوں، جلد اور نظامِ تنفس کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق پولی تھین کا بے دریغ استعمال مختلف بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں اور ماحول دوست متبادل اختیار کریں۔
