مضامین

*خود کشی ایک عظیم گناہ، ایک سنگین انسانی المیہ اور اسلام کی روشن تعلیمات*۔۔تحریر: ابوسلمان محمد قاسم

زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت اور عظیم امانت ہے۔ اسلام انسان کو نہ صرف اپنی جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے بلکہ ہر ایسے عمل سے بھی روکتا ہے جو اس کی جان، عزت اور وقار کو نقصان پہنچائے۔ افسوس کہ آج کے دور میں ذہنی دباؤ، مایوسی، معاشی مشکلات، خاندانی مسائل اور تنہائی کے باعث خود کشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے خاندان، معاشرے اور امت کا المیہ ہے۔
اسلام اس مسئلے کو نہایت متوازن انداز میں دیکھتا ہے۔ ایک طرف خود کشی کو سخت حرام اور کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے، اور دوسری طرف مایوس انسان کے لیے اللہ کی رحمت، صبر، دعا، امید، تعاون اور علاج کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔
*زندگی اللہ کی امانت ہے*
قرآن مجید نے واضح حکم دیا:
“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔” (سورۃ النساء: 29)
اسی طرح فرمایا:
“اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔” (سورۃ البقرہ: 195)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انسان اپنی جان کا مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا امانت دار ہے۔ جس ذات نے زندگی عطا کی، اسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زندگی کا وقت مقرر کرے۔
*خود کشی: حرام اور کبیرہ گناہ*
اسلام میں خود کشی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے اپنے آپ کو کسی لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا، وہ جہنم میں ہمیشہ اپنے ہاتھ میں وہی ہتھیار لیے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خود کشی کی، وہ جہنم میں ہمیشہ زہر پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کی، وہ جہنم میں بار بار گرتا رہے گا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث اس جرم کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہے اور انسان کو اس ہولناک انجام سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔
*خود کشی: اللہ کی رحمت سے مایوسی*
مایوسی شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔” (سورۃ الزمر: 53)
اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا:
“اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں۔” (سورۃ یوسف: 87)
ایک مسلمان کبھی حالات سے مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ہر رات کے بعد صبح اور ہر تنگی کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔
خود کشی کے اہم اسباب
1۔ *ذہنی بیماریاں*
ڈپریشن، شدید اضطراب، ذہنی دباؤ، بے خوابی اور دیگر نفسیاتی امراض انسان کی سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کو اپنی زندگی بے مقصد محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسے حالات میں اسے گناہ گار کہہ کر چھوڑ دینا درست نہیں، بلکہ اس کی دلجوئی، علاج اور مدد کرنا اسلامی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
2۔ *معاشی مسائل*
غربت، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ اور معاشی پریشانیاں انسان کو مایوسی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ لیکن قرآن کریم یقین دلاتا ہے:
“اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔” (سورۃ الطلاق: 2-3)
3۔ *خاندانی اور سماجی دباؤ*
گھریلو جھگڑے، ناکامی، بے عزتی، تنہائی، تعلیمی دباؤ اور معاشرتی توقعات بھی خود کشی کی بڑی وجوہات ہیں۔ ایسے افراد کو تنقید نہیں بلکہ محبت، حوصلہ اور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام کا علاج: صبر، امید اور توکل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔” (سورۃ الشرح: 5-6)
اور فرمایا:
“صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔” (سورۃ الزمر: 10)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، ہر حال میں اس کے لیے بھلائی ہے۔ اگر خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے۔” (صحیح مسلم)
یہ تعلیمات انسان کے دل میں امید، حوصلہ اور اللہ پر کامل اعتماد پیدا کرتی ہیں۔
*طبی علاج بھی سنت کے مطابق ہے*
اسلام علاج کی ترغیب دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“علاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی نازل فرمائی ہے۔” (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
لہٰذا اگر کسی شخص کو خود کشی کے خیالات آئیں، شدید ڈپریشن ہو یا ذہنی کیفیت بگڑ رہی ہو تو اسے فوراً ماہرِ نفسیات یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ علاج کروانا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ سنت کے مطابق عمل ہے۔
*احساسات کو چھپانے کے بجائے بیان کریں*
اسلام بھائی چارے، ہمدردی اور تعاون کا دین ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔” (سورۃ المائدہ: 2)
اگر کسی کے دل میں شدید غم، مایوسی یا خود کشی جیسے خیالات پیدا ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین، شریکِ حیات، کسی نیک دوست، استاد، عالمِ دین یا ماہرِ نفسیات سے ضرور بات کرے۔ خاموشی اکثر تکلیف بڑھا دیتی ہے، جبکہ گفتگو امید کی نئی راہیں کھول دیتی ہے۔
*معاشرے کی ذمہ داری*
خود کشی کی روک تھام صرف حکومت یا ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ والدین اپنی اولاد کی بات سنیں، اساتذہ طلبہ کی ذہنی کیفیت پر توجہ دیں، علماء امید اور رحمت کا پیغام عام کریں، اور معاشرہ تنقید کے بجائے ہمدردی، تعاون اور سہارا فراہم کرے۔
خود کشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں کی تباہی کا راستہ ہے۔ اسلام انسان کو امید، صبر، دعا، توکل، علاج اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر حالات مشکل ہوں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت فرماتا ہے۔ اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ ہر اندھیری رات کے بعد روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتِ زندگی کی قدر کرنے، ہر حال میں صبر و شکر اختیار کرنے، مایوسی سے بچنے اور دوسروں کے لیے آسانی اور امید کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔