
’انوارِ مستجاب‘‘—نام ہی میں ایک خاص خوبصورتی، کشش اور معنویت ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر اسرار الدین چترال سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، محقق اور پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ جغرافیہ کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ اردو، انگریزی اور کھوار زبان میں متعدد کتب اور تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں۔ ’’انوارِ مستجاب‘‘ ان کی اہم تصانیف میں سے ایک ہے، جبکہ ان کی دیگر کتب بھی چترال کے علمی و ادبی سرمائے میں قابلِ قدر اور قابلِ ستائش اضافہ ہیں۔
پروفیسر اسرار الدین سے میرا تعلق اس وقت سے ہے جب سے شعور کی آنکھ کھلی۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور شخصیت کے لیے ہمیشہ دل میں احترام رہا ہے۔ وہ روز ادارہ کے بانی ارکان میں بھی شامل ہیں اور اسی حوالے سے ان سے شرفِ ملاقات کا سلسلہ بھی وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے۔
2020ء کا ایک دن میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ مجھے پروفیسر صاحب کے ہمراہ چترال کے غریب اور مستحق طلبہ کے لیے اسلام آباد کی نجی جامعات میں اسکالرشپس کے حصول کے سلسلے میں مختلف اداروں کے دورے کا موقع ملا۔ تقریباً بارہ گھنٹے ان کی رفاقت میں گزرے۔ یہ بارہ گھنٹے میرے لیے محض ایک سفر یا ملاقات نہیں تھے؛ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں کے مطالعے سے زیادہ سیکھنے کا موقع مل گیا ہو۔
میں نے قریب سے دیکھا کہ وہ طلبہ کے مسائل کو کس سنجیدگی، خلوص اور دردِ دل کے ساتھ متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو، تیاری اور مؤثر اندازِ پیشکش نے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا۔ الحمدللہ، اس کوشش میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
آج بھی اس عمر میں چترال کے طلبہ کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد اور خدمت کا جذبہ میرے لیے قابلِ تحسین ہے۔ اللہ پاک انہیں صحت، سلامتی اور چترال کے طلبہ کی خدمت کا یہ جذبہ ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین۔
’’انوارِ مستجاب‘‘ مولانا محمد مستجابؒ کی زندگی، شخصیت اور دینی خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔ کتاب میں ان کی دینی وابستگی، عبادت، تقویٰ، سادگی، دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔
مولانا مستجابؒ لوگوں کو صرف دین کی بات سننے تک محدود نہیں کرتے تھے بلکہ عملی زندگی کی اصلاح، اچھے اخلاق اور کردار سازی کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے۔ ان کی دعوت میں انسان کے ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا پیغام بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
کتاب میں مولانا مستجابؒ سے منسوب بعض غیر معمولی واقعات اور کرامات کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان واقعات کی نوعیت اور علمی حیثیت ایک الگ سوال ہے، جسے اگلی قسط میں سوالیہ اور تحقیقی انداز میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
مجموعی طور پر ’’انوارِ مستجاب‘‘ مولانا محمد مستجابؒ کی دینی وابستگی، اخلاص، تقویٰ، کردار اور دعوتی جدوجہد کو سمجھنے کی ایک قابلِ قدر علمی و ادبی کاوش ہے۔
نوٹ: ’’انوارِ مستجاب‘‘ کا یہ خلاصہ تین اقساط میں پیش کیا جائے گا۔