Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

معمولی سے غیر معمولی تک

……. فداالرحمن …….

دنیا میں ہر غیر معمولی کا م معمولی تعارف سے ہی شروع ہوتا ہے ۔ہر غیر معمولی واقعے کے پیچھے ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔ یہ معمولی سے غیر معمولی تک کا ہی سفر ہوتا ہے جس کی منزل ایک اہم اور عظیم کارنامہ ہے ۔فطرت بھی غیر معمولی وقعات کو ایک معمولی تعارف سے شروع کرتی ہے ۔ایک معمولی سا پرندہ ہدہد کی اطلاع سے ایک غیر معمولی عظیم پیغمبر حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں کتنے ہی غیر معمولی واقعات پیدا ہوتے ہیں۔ خواہش اور حاصل میں فاصلے مٹ جاتے ہیں حکمت والے ایسے علم کا اظہار کرتے ہیں کہ دور کا نظارہ اڑتا ہوا پاس آتا ہے ۔ ( ہائی سین برگ کو اس پے بھی سوچنا تھا )۔ہدہدنے ہل چل مچا دی اور معمولی نے غیر معمولی کی راہ دیکھا دی ۔ایک بچے نے خواب دیکھا (یہ کوئی طاہرالقادری کا خواب نہیں تھا ) باپ نے کہا !بیٹا اپنے بھائیوں کو نہ سنانا۔ بھائی سن گئے بس پھر واقعات شروع ہو گئے قرآن کریم میں اس واقعے کو بہت ہی احسن کہا گیا ہے معمولی سی بات تھی ” خواب” غیر معمولی واقعات مصر کی بادشاہی ,پیغمبری ،قرآن میں تذکرہ اور دنیا میں ایک عظیم مثال حسن یوسف ،پھر علامات ،برادران یوسف ۔اتنے اپنے اتنے بیگانے ۔۔۔۔۔۔۔ایک عام اور معمولی سا انسان جس کا نام ”دھیدو” تھا ایک گاوں میں لڑکی سے ملا ۔گاوں کی زندگی میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے ۔معمولی سی بات ہے لیکن اس معمولی واقعے کو ایک غیر معمولی شاعر مل گیا ۔وارث شاہ نے معمولی کو کہاں سے کہا ں پہنچادیا ۔وارث شاہ کے اپنے عرفان نے ہیر رانجھے کے قصے کو راہ سلوک بنا دیا ۔ہیر کو ”پر ” لگ گئے رانجھے کو رفعت خیال کے گھوڑے پر سوار کرادیا گیا ۔ شاعر نے جس انداز سے حسن بیان کی گل کاریاں کی ہیں وہ بس اسی کا حصہ ہیں ۔نہ ہیر ڈاکٹر ،نہ رانجھا پروفیسر، نہ وارث شاہ صدر شعبہ بس ان پر مقالہ نگار ڈاکٹر نے کتنے بڑے امکانات پیدا کئے ۔ایک چھوٹے سے واقعے نے کہ” دھیدو رانجھا ‘ ‘ گھر سے بھاگ گیا ۔ بس وہ گھر سے نکل کر ادب کے گھر جا پہنچا عرفان کے گھر میں داخل ہوا اور نصیب کی           منزلوں کا سفیر ہوا لیکن اب ایسے کیفیات کم دیکھنے کو ملتی ہیں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف آیاز میں
ایک جج نے تین با وردی جرنیلوں کے سامنے ایک معمولی سا لفظ ’’نو‘‘ کہا بس پھر وہ معمولی سا لفظ جر ات انکار کا ایک نعرہ مستانہ بن گیا ۔ ملکی تا ریخ کی سب سے بڑی وکلا تحریک ،دو سابق وزرائے اعظم کو سوہنی دھرتی کی مٹی نصیب ۔۔با وردی صدر کو مسند شاہی سے رخصت کرکے عدالتی کٹہرے میں لایا گیا ۔اور سنگین غداری کے کیس میں ارٹیکل 6 کے دائرے میں بند کر دیا گیا ۔تاریخ کے اوراق میں مرد انکار رقم ہوا اور ایک عہد افتخار کا اضافہ ہوا ۔ہمارے ہاں بھی معمولی باتیں ہو رہی ہیں بس ان کا غیر معمولی نتیجہ سمجھنے والا کوئی نہیں ہمارے منفی راویے ایک پنکچیر ٹائر کی طرح ہوتے ہیں جب تک انہیں نہ بدلا جائے گاڑی نہیں چل سکتی ۔آج کے دور میں معمولی الفاظ کا استعمال کچھ اسطرح عام ہوچکا ہے جو شعور میں بیداری کا تقاضا تو کرتا ہے مگر اس سے سمجھا نہیں جاتا اگر اس سے اس کے روح کے مطابق سمجھا جائے تو کافی آسانیاں پیدا ہونگی۔(خدا کرے کہ کپتان خان کوبھی کچھ سمجھ آجائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔