آواز اقبال

ایران اور امریکہ مذاکرات ناکام! جنگ میں اصل ہار کس کی ہوگی؟ اقبال عیسیٰ خان

 

یہ صرف ایک جنگ نہیں… یہ ایک چیخ ہے، ایک ایسا کرب جو ان لوگوں کے نصیب میں لکھا جا رہا ہے جن کی آواز کبھی طاقت کے ایوانوں تک پہنچتی ہی نہیں۔
جب میں اس تنازعے کو دیکھتا ہوں تو مجھے سرحدوں کی لکیریں نہیں دکھتیں، مجھے مٹی میں ملتے ہوئے گھر نظر آتے ہیں، ادھورے خوابوں کی راکھ نظر آتی ہے، اور ایک ایسی انسانیت دکھائی دیتی ہے جو خاموشی سے رو رہی ہے۔ تہران کا مزدور ہو، کراچی کا رکشہ چلانے والا یا لاگوس کا محنت کش، انہیں نہ عالمی سیاست کی سمجھ ہے، نہ سفارتی کھیل کی۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ آٹا مہنگا ہو گیا ہے، روزگار ختم ہو رہا ہے، اور زندگی غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ ان کے چولہوں کی آخری لو بھی بجھا دے گی۔
یہ تنازعہ صرف سیکیورٹی کا نہیں، یہ طاقت، وسائل اور تیل کی وہ کہانی ہے جس میں انسان کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی شطرنج بن چکا ہے، جہاں مہرے انسان ہیں اور چالیں اقتدار کی۔ ایک طرف ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کی بات کرتا ہے، دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل اپنی برتری کو قائم رکھنے کی جدوجہد میں ہیں۔ مگر ایسی لڑائیوں میں کبھی توازن پیدا نہیں ہوتا، صرف انتشار بڑھتا ہے، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کمزور کندھوں پر آتا ہے۔
دل یہ سوال کرتا ہے، کیا قیادت کا مطلب آگ لگانا ہے یا اسے بجھانا؟ اگر فیصلے انا کے اندھے پن میں کیے جائیں تو نتیجہ ہمیشہ بربادی ہوتا ہے۔ ایک سچا لیڈر اپنی طاقت کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کو بچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ جنگ ہمیں ایک خطرناک سچ کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ جب طاقتور اپنے مفادات کو انصاف پر فوقیت دیتے ہیں تو اصول مر جاتے ہیں، اور دنیا جنگل کے قانون پر چلنے لگتی ہے۔ یہ صرف ایک علاقائی کشمکش نہیں رہی، یہ ایک نظریاتی زلزلہ ہے، جہاں سوال یہ ہے کہ کیا دنیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوگی یا طاقت کے غرور کے ساتھ؟
حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں کوئی فوری فتح نہیں۔ یہ ایک لمبی، تھکا دینے والی اور غیر یقینی لڑائی بن سکتی ہے۔ ایران اپنی مزاحمت جاری رکھے گا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنی طاقت کے ذریعے دباؤ بڑھائیں گے۔ مگر تاریخ گواہ ہے ایسی جنگیں اکثر فاتح نہیں، صرف شکستہ خواب چھوڑتی ہیں۔ اور پس منظر میں ایک اور سچ چھپا ہے، تیل، اثر و رسوخ، اور خطے پر کنٹرول کی خواہش۔ اگر یہ آگ بھڑکتی رہی تو اس کی لپیٹ میں صرف ایک خطہ نہیں، پوری دنیا آئے گی۔ معیشتیں ہل جائیں گی، اور انسانیت ایک اور امتحان میں ڈال دی جائے گی۔
ایک کڑوا مگر سچا احساس، یہ جنگ شاید طاقتوروں کی خواہشات کو وقتی تسکین دے دے، مگر یہ ایک غریب انسان کی امید، اس کی روٹی، اس کا مستقبل چھین لے گی۔
اگر یہ انا کی جنگ نہ رکی، تو وقتی جیت کسی کی بھی ہو، مگر ہار ہمیشہ انسانیت کی ہوگی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock