
*نوجوانوں کے لیے حضرت لقمانؑ کی سات سنہری نصیحتیں*۔۔(سورۂ لقمان کی روشنی میں)۔۔تحریر: ابو سلمان
انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ہدایتِ الٰہی میں پوشیدہ ہے، اور یہ ہدایت ہمیں قرآن مجید کے ذریعے عطا ہوئی۔ اس کتابِ ہدایت میں جہاں انبیاء علیہم السلام کے واقعات ہیں، وہیں بعض نیک بندوں کے حکیمانہ اقوال بھی محفوظ کیے گئے ہیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک جلیل القدر نام حضرت لقمانؑ کا ہے، جوکہ جمہور علماء کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے نیک، صالح اور دانا بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت، دانائی اور فہم و فراست سے نوازا، حتیٰ کہ ان کے نام پر ایک مکمل سورت سورۂ لقمان نازل فرمائی۔
حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے (اور درحقیقت تمام نوجوانوں) کو جو سات سنہری نصیحتیں کیں، وہ قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آئیے ان نصیحتوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھتے ہیں:
1. *توحید کی تعلیم (شرک سے بچاؤ)*
*يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ* (لقمان: 13)
اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
یہ سب سے پہلی اور بنیادی نصیحت ہے۔ انسان کی کامیابی کا دارومدار عقیدۂ توحید پر ہے۔ شرک انسان کے تمام اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ۔” (بخاری)
2. *اعمال کی پیشی کا یقین (حساب کا شعور)*
*إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ* (لقمان: 16)
اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اللہ اسے بھی لے آئے گا۔
یہ آیت نوجوان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اللہ کے ہاں ہر چھوٹا بڑا عمل محفوظ ہے، لہٰذا زندگی ذمہ داری کے ساتھ گزارنی چاہیے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔” (مسلم)
3. *نماز قائم کرنے کی تاکید*
*يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ (لقمان*: 17)
اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو۔
نماز دین کا ستون ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ نوجوانی میں نماز کی پابندی زندگی کو سنوار دیتی ہے۔ نماز کا حکم اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے سب سے بڑا حکم ہے۔
نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
“نماز دین کا ستون ہے۔” (ترمذی)
4. *امر بالمعروف اور نہی عن المنکر*
*وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ*
نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔
ایک صالح نوجوان صرف خود نیک نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی اصلاح کا بھی جذبہ رکھتا ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
“تم میں سے جو برائی دیکھے، اسے اپنے ہاتھ سے روکے…” (مسلم)
5. *مصائب پر صبر کی تلقین*
*وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ*
اور جو مصیبت تم پر آئے، اس پر صبر کرو۔
زندگی آزمائشوں سے بھری ہے۔ کامیاب وہی ہے جو صبر اور استقامت اختیار کرے۔
حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے:
“صبر مومن کے لیے روشنی ہے۔” (مسلم)
6. *تکبر اور غرور سے اجتناب*
*وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ..*
لوگوں کے سامنے تکبر سے منہ نہ پھیرو۔
تکبر انسان کو اللہ اور بندوں دونوں سے دور کر دیتا ہے۔ عاجزی ہی اصل عظمت ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:
“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔” (مسلم)
7. *رفتار اور آواز میں اعتدال*
*وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ*
اپنی چال میں اعتدال رکھو اور اپنی آواز پست رکھو۔
اسلام توازن اور اعتدال کا دین ہے۔ نہ چال میں تکبر ہو اور نہ آواز میں سختی۔
نبی کریم ﷺ کی چال درمیانی اور گفتگو نرم و متوازن ہوتی تھی۔ (شمائل ترمذی)
حضرت لقمانؑ کی یہ سات نصیحتیں دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہیں، جو نوجوانوں کو عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاشرت کے ہر پہلو میں راہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اگر آج کا نوجوان ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ نہ صرف اپنی دنیا سنوار سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان حکیمانہ نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
