
ضلع چترال اپنی دلکش وادیوں، ثقافتی ورثے اور بین الاقوامی سیاحت کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں بنیادی مالیاتی سہولیات، خصوصاً منی ایکسچینج (زرِ مبادلہ کی تبدیلی) کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مقامی آبادی بلکہ غیر ملکی سیاحوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی مسلسل مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔
چترال کے خوبصورت کلاش وادیوں میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ یہ سیاح جب ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں یا مقامی دکانوں سے خریداری کرتے ہیں تو اکثر انہیں اپنی ملکی کرنسی میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان اور دکاندار، مجبوری کے تحت، یہ غیر ملکی کرنسیاں وصول تو کر لیتے ہیں، مگر ان کو تبدیل کرنے کے لیے انہیں چترال ٹاؤن کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ وہاں بھی باقاعدہ اور مستند منی ایکسچینج سہولت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بعض دکاندار اگر کسی حد تک غیر ملکی کرنسی سے واقفیت رکھتے بھی ہوں تو وہ قانون کے خوف کے تحت نہایت احتیاط سے یہ لین دین کرتے ہیں۔ وہ سیاحوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے محدود پیمانے پر کرنسی خریدتے ہیں اور بعد ازاں اسے پشاور لے جا کر منی ایکسچینج سروس کے ذریعے تبدیل کرواتے ہیں۔ اس سارے عمل میں نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ خرید و فروخت کرنے والے دونوں فریق مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان میں منی ایکسچینج کے کاروبار کے لیے سخت قوانین اور پیچیدہ رجسٹریشن طریقہ کار نے اس شعبے میں داخلے کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ قوانین غیر قانونی سرگرمیوں جیسے حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں، مگر چترال جیسے دور افتادہ اور سیاحتی علاقے میں جہاں کوئی متبادل سہولت ہی موجود نہیں، وہاں ان قوانین میں مناسب نرمی ناگزیر ہے۔
چترال کے عوام، اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی سیاحوں کو آج بھی اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے پشاور یا اسلام آباد کا طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ مہنگا بھی۔ اس صورتحال میں چترال کی جغرافیائی اہمیت اور سیاحتی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومتی حلقوں اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور چترال کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے منی ایکسچینج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ بینکوں میں فارن ایکسچینج ڈیسک قائم کیے جائیں یا نجی شعبے کو آسان شرائط کے تحت اس کاروبار کی اجازت دی جائے تاکہ مقامی سطح پر یہ سہولت دستیاب ہو سکے۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف مقامی معیشت بلکہ چترال کی سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ چترال کے عوام اور یہاں آنے والے مہمان جدید مالیاتی سہولیات سے مستفید ہو سکیں اور یہ خوبصورت خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
