
انتخابات کا المیہ، نفرت اور تقسیم کی سیاست – اقبال عیسیٰ خان
ہمارے معاشرے میں جمہوریت کا خواب کبھی امید کی روشنی تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ ووٹ عوام کی آواز بنے گا، طاقت عوام کے ہاتھ میں آئے گی اور فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق ہوں گے۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ اس خواب کی چمک مدھم ہوتی گئی۔ یہاں الیکشنز جمہوریت کے بجائے ایک ایسا ڈراما بنتے جا رہے ہیں جس میں کردار تو بدلتے رہتے ہیں مگر اسکرپٹ ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ اور اس ڈرامائی ماحول کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام میں نفرت اور دوریاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔
جمہوریت کا مقصد اتحاد پیدا کرنا ہے۔ لیکن یہاں الیکشنز کا موسم آتے ہی معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ دلیل کی جگہ جذبات، حقائق کی جگہ پروپیگنڈا، اور مکالمے کی جگہ الزام تراشی لے لیتی ہے۔ لوگ نظریات نہیں بلکہ چہروں اور جھنڈوں کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ یوں انتخابی ماحول ایک ایسا اسٹیج بن جاتا ہے جہاں سیاستدان کردار ادا کرتے ہیں، جلسے تماشا بن جاتے ہیں اور عوام تالیاں بجانے والے تماشائی۔
اس ڈرامے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ عوام کے درمیان نفرت اور فاصلے پیدا کرتا ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے اختلاف پر ناراض، ایک دوست دوسرے کے ووٹ پر خفا، ایک خاندان سیاسی چپقلش میں تقسیم۔ اختلاف رائے جو معاشرے کی صحت کی علامت ہونا چاہیے، یہاں دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ اور یہ دشمنی جمہوریت کی روح کو کھوکھلا کرتی ہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نفرت کیوں جنم لیتی ہے؟ وجہ واضح ہے۔ جب عوام کو شفافیت کے بجائے تماشے دکھائے جائیں، جب کارکردگی کے بجائے نعروں کا شور دکھایا جائے، جب اصل مسائل کے بجائے جذبات سے کھیلنے کی سیاست کی جائے تو عوام میں بے چینی اور غصہ پھوٹتا ہے۔ اس بے چینی کو سیاسی جماعتیں اپنی اپنی مرضی کے رنگ میں پیش کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ مزید تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔ جھوٹی خبریں، بدلتے بیانیے، اور نفرت انگیز زبان چند لمحوں میں سینکڑوں ذہنوں تک پہنچ جاتی ہے۔ نوجوان نسل جو دلیل کی بنیاد پر تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسی شور میں گم ہو جاتی ہے۔ انہیں حقیقت تک رسائی کم اور جذباتی رد عمل زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ عوام کے دلوں میں اب یہ احساس پنپ رہا ہے کہ یہ ڈراما اب زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ لوگ سوال پوچھنے لگے ہیں۔ نوجوان کارکردگی، شفافیت اور ذمہ داری کی بات کر رہے ہیں۔ یہی وہ امید ہے جو اس پورے منظرنامے میں نئی روشنی پیدا کر سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سیاست کو ڈرامے سے نکال کر اصولوں کی طرف لے جائیں۔ اختلاف کو برداشت میں بدلیں، بحث کو مکالمے میں بدلیں، اور نفرت کو شعور سے شکست دیں۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ووٹ دشمنی کا اعلان نہیں بلکہ مستقبل کا فیصلہ ہے۔ ایک ووٹ کا مقصد مقابلے کو ختم کرنا نہیں بلکہ ترقی کا راستہ کھولنا ہے۔
اگر معاشرہ یہ شعور اپنا لے تو یہاں الیکشنز جمہوریت کا سچ بن جائیں گے، ڈراما نہیں۔ نفرت اور دوریاں کم ہوں گی اور اتحاد جنم لے گا۔ یہ تلخ حقیقت ہمیں چوٹ پہنچاتی ہے مگر اسی چوٹ سے تبدیلی کا راستہ بھی نکل سکتا ہے۔
سوال تلخ ہے، مگر اس کا جواب ہمارے اجتماعی کردار میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے خود کو بدل لیا تو سیاست بھی بدل جائے گی اور جمہوریت اپنا اصل رخ پا لے گی۔
IqbalEssaKhan@Yahoo.com
