مضامین

قربانی اور خدمت ساتھ ساتھ — غورو اور پرکوسپ کے عوام کی مثالی یکجہتی .تحریر: سید اولاد الدین شاہ…

انسانی معاشروں کی اصل خوبصورتی صرف ترقی یافتہ عمارتوں، وسیع سڑکوں یا جدید سہولیات میں نہیں بلکہ لوگوں کے کردار، ایثار، محبت اور خدمت کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم یا برادری اجتماعی مفاد کے لیے ذاتی خواہشات اور مفادات کو قربان کرنے لگے تو وہ معاشرہ ترقی، اتحاد اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ تحصیل مستوج کے گاؤں غورو اور پرکوسپ کے عوام نے حالیہ دنوں میں اسی جذبۂ قربانی اور خدمت کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔

اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی کے متوقع دورۂ پاکستان اور دیداری تقریبات کے سلسلے میں جہاں ملک بھر میں عقیدت اور خوشی کی فضا قائم ہے، وہیں اپر چترال کے دور افتادہ علاقوں میں بھی لوگ بھرپور انداز میں تیاریوں میں مصروف ہیں۔ خصوصاً غورو اور پرکوسپ کے عوام نے جس خلوص، محبت اور جذبۂ خدمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین ہے۔

علاقے کے نوجوان رضاکار دن رات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کہیں سڑکوں کی صفائی ہو رہی ہے، کہیں راستوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور کہیں کشادگی کا کام جاری ہے تاکہ آنے والے مہمانوں اور زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ تمام خدمات بغیر کسی ذاتی مفاد اور صلے کی امید کے انجام دی جا رہی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خدمتِ خلق کا جذبہ آج بھی ہمارے معاشرے میں زندہ ہے۔

اس سارے عمل کا سب سے متاثر کن پہلو عوام کی قربانی ہے۔ سڑکوں کی کشادگی کے لیے کئی افراد نے اپنی ذاتی زمینیں بلا معاوضہ عطیہ کر دی ہیں۔ زمین انسان کے لیے نہایت قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے، خصوصاً پہاڑی علاقوں میں جہاں زمین محدود اور قیمتی ہوتی ہے۔ ایسے میں اپنی زمین عوامی مفاد کے لیے دینا یقیناً ایک عظیم قربانی ہے۔ یہ عمل صرف سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے آسانی، ترقی اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔

غورو پائیں کے عوام کی قربانی تو مزید قابلِ ستائش ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں دریائے یارخون کے کٹاؤ نے کئی خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ لوگوں کی زرعی زمینیں دریا برد ہو چکی ہیں، کئی گھر متاثر ہوئے اور بعض خاندان بے گھر ہونے پر مجبور بھی ہوئے۔ اس کے باوجود اگر یہی لوگ اجتماعی مفاد کے لیے اپنی باقی ماندہ زمین بھی پیش کریں تو یہ ایثار اور حوصلے کی ایسی مثال ہے جو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہ جذبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی ترقی صرف حکومتی منصوبوں سے نہیں بلکہ عوامی تعاون، اتحاد اور قربانی سے ممکن ہوتی ہے۔ جب لوگ اپنے علاقے، اپنی قوم اور اپنے مستقبل کے لیے مل کر کام کرتے ہیں تو ناممکن کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ غورو اور پرکوسپ کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ چترال کی سرزمین آج بھی محبت، رواداری، ایثار اور خدمت کی عظیم روایات سے مالا مال ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مثبت سوچ اور اجتماعی جذبے کو مزید فروغ دیا جائے۔ نوجوان نسل کو بھی ایسے کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جائے تاکہ معاشرے میں بھائی چارہ، تعاون اور قومی یکجہتی مضبوط ہو۔ اگر ہر علاقہ اسی طرح اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں میں حصہ لے تو بہت سے مسائل بغیر کسی بڑے وسائل کے حل ہو سکتے ہیں۔

بلاشبہ غورو اور پرکوسپ کے عوام نے قربانی اور خدمت کی جو مثال قائم کی ہے، وہ نہ صرف اپر چترال بلکہ پورے ملک کے لیے قابلِ فخر اور مشعلِ راہ ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO