آواز اقبال

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں حقیقی سیاسی کارکنوں کو کیوں نظر انداز کرتی ہیں؟ اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے سوال کے گرد کھڑی ہے جس نے ہزاروں مخلص کارکنوں کے دلوں کو زخمی کردیا ہے۔ حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم نے ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کردیا کہ جماعتوں کے نظریاتی، وفادار اور برسوں سے قربانیاں دینے والے کارکن آج بھی فیصلہ سازی کے دروازوں سے دور کھڑے ہیں، جبکہ اثر و رسوخ رکھنے والے، دولت مند اور وقتی سیاسی مفادات رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ صرف چند افراد کی محرومی نہیں بلکہ سیاسی سوچ کے ایک خطرناک بحران کی علامت ہے۔
وہ کارکن جو برفانی راتوں میں جماعت کا پرچم اٹھائے کھڑے رہے، جنہوں نے دور دراز وادیوں میں جماعت کا پیغام پہنچایا، جنہوں نے مشکل ترین حالات میں قیادت کا دفاع کیا، عوام کے درمیان اعتماد پیدا کیا، نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا، آج وہی کارکن خود کو تنہا محسوس کررہے ہیں۔ ان کے چہروں پر خاموشی ہے مگر دلوں میں ایک سوال جل رہا ہے کہ کیا وفاداری صرف استعمال ہونے کے لیے ہوتی ہے؟
سیاسی جماعتیں اکثر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ جمہوریت، میرٹ اور عوامی نمائندگی پر یقین رکھتی ہیں، مگر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو نظریہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور جیتنے کی نام نہاد صلاحیت سب سے بڑی دلیل بن جاتی ہے۔ اس سوچ نے سیاست کو خدمت سے زیادہ ایک کاروباری ماڈل میں تبدیل کردیا ہے جہاں سرمایہ، تعلقات اور طاقت کو کارکن کی قربانی پر فوقیت دی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں یہ رویہ مزید خطرناک ہے۔ یہاں کے نوجوان تعلیم یافتہ ہیں، شعور رکھتے ہیں اور سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ شناخت، حقوق اور مستقبل کی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ جب یہی نوجوان دیکھتے ہیں کہ برسوں جماعت کے ساتھ کھڑے رہنے والے افراد کو نظر انداز کردیا جاتا ہے تو ان کے دلوں میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ پھر سیاست ان کے لیے امید کا راستہ نہیں بلکہ بند دروازوں کا نظام بن جاتی ہے۔
ایک سیاسی کارکن صرف جلسوں کا ہجوم بڑھانے والا فرد نہیں ہوتا۔ وہ جماعت کی روح ہوتا ہے۔ وہ گلیوں، بازاروں، پہاڑوں اور دیہاتوں میں جماعت کا چہرہ ہوتا ہے۔ اگر یہی لوگ مایوس ہوجائیں تو جماعتیں وقتی طور پر نشستیں تو حاصل کرسکتی ہیں مگر عوامی اعتماد کھو دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ جماعتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں جو اپنے مخلص لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔
اگر سیاسی جماعتیں واقعی مضبوط ہونا چاہتی ہیں تو انہیں اپنے کارکنوں کو صرف نعرے لگانے والا ہجوم نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت سمجھنا ہوگا۔
گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں نے ہمیشہ وفاداری، صبر اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ جب مخلص کارکنوں کے دل ٹوٹتے ہیں تو صرف ایک فرد نہیں ٹوٹتا بلکہ ایک سیاسی خواب بکھر جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاست کو آج نئی سوچ، نئے کردار اور نئے اعتماد کی ضرورت ہے۔ ایسی سیاست جہاں ٹکٹ دولت سے نہیں، خدمت سے ملے۔ جہاں تعلقات نہیں بلکہ کردار اہم ہو۔ جہاں کارکن صرف پوسٹر لگانے والا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا حصہ ہو۔
اگر سیاسی جماعتیں اب بھی اس حقیقت کو نہ سمجھ سکیں تو شاید وہ انتخابات جیت جائیں، مگر آنے والی نسلوں کے دل ہار جائیں گی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock