
’’انوارِ مستجاب‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے مولانا محمد مستجابؒ کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔
کتاب میں ان کی دینی زندگی کے ساتھ کرامات، کشف، تصوف، تزکیۂ نفس، مجاہدۂ نفس، اصلاح و ارشاد اور سلسلۂ نقشبندیہ جیسے موضوعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ ان موضوعات کے مطالعے سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیر معمولی واقعات صرف انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ خاص ہیں، یا اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے ذریعے بھی ایسے واقعات ظاہر فرما سکتا ہے؟
اسلامی اصطلاح میں انبیائے کرام علیہم السلام کے غیر معمولی واقعات کو معجزات کہا جاتا ہے، جبکہ کسی نیک اور صالح غیر نبی کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوئی غیر معمولی واقعہ ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے۔ تاہم کرامت کو نبوت کی دلیل یا صاحبِ کرامت کے لیے کوئی ذاتی اور مستقل اختیار سمجھنا درست نہیں۔
قرآنِ مجید میں حضرت مریمؑ کے بارے میں آتا ہے:
’’جب بھی زکریاؑ ان کے پاس محراب میں جاتے تو ان کے پاس رزق پاتے۔‘‘
(سورۂ آلِ عمران، 3:37)
اسی طرح اصحابِ کہف کا واقعہ بھی قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو ایک طویل عرصے تک غار میں محفوظ رکھا۔
(سورۂ الکہف، 18:9 تا 26)
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے غیر معمولی حالات پیدا کرنے پر قادر ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے: ہر عجیب یا غیر معمولی واقعہ کرامت نہیں ہوتا۔ کسی واقعے کو کرامت قرار دینے سے پہلے تحقیق اور قرآن و سنت کے اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
مولانا محمد مستجابؒ سے منسوب ایک خواب
’’انوارِ مستجاب‘‘ سے متعلق شائع شدہ روایت میں مولانا محمد انسؒ کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ان کے مطابق وہ دارالعلوم کراچی میں زیرِ تعلیم تھے، جہاں انہیں حج کے سفر کے دوران مولانا محمد مستجابؒ کی خدمت کا موقع ملا۔ انہوں نے مولانا مستجابؒ سے بیعت بھی کی۔ بعد میں مولانا مستجابؒ کا انتقال ہوگیا۔
کچھ عرصے بعد مولانا محمد انسؒ محسوس کرنے لگے کہ ان کے معمولات میں سستی پیدا ہو رہی ہے اور وہ اس صورتِ حال سے پریشان تھے۔ اسی دوران انہوں نے خواب میں مولانا محمد مستجابؒ کو دیکھا۔
روایت کے مطابق مولانا مستجابؒ نے خواب میں ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں حضرت علاؤ الدین شاہ جیلانیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ یہ فرمایا کہ میرے دامن کو نہ چھوڑنا، ان شاء اللہ آپ کامیاب ہوں گے۔
مولانا محمد انسؒ کے بیان کے مطابق خواب سے بیدار ہونے کے بعد وہ شیخوپورہ کی خانقاہ نقشبندیہ دارالسلام گئے اور حضرت علاؤ الدین شاہ جیلانیؒ سے بیعت کی۔ ان کے مطابق اس کے بعد انہیں دوبارہ قلبی سکون حاصل ہوا اور اصلاح و تربیت کا سلسلہ آگے بڑھا۔
اس واقعے کو خواب کی ایک منقول روایت کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ خواب کی اپنی ایک دینی حیثیت ہے، لیکن خواب کو وحی یا شریعت کا مستقل ماخذ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لیے ایسے واقعات سے روحانی سبق لیا جا سکتا ہے، مگر عقیدہ اور شرعی احکام قرآن و سنت ہی سے لیے جائیں گے۔
کشف کا تعلق بھی انسان کی باطنی کیفیت سے ہے۔ بعض اہلِ تصوف کے نزدیک انسان پر کبھی ایسی روحانی کیفیت طاری ہوتی ہے جس میں اسے بعض امور کا ایسا ادراک ہوتا ہے جو عام حالات میں حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن کشف کو وحی قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے قرآن و سنت سے بالاتر کوئی حیثیت حاصل ہے۔
اسی طرح تصوف اور تزکیۂ نفس کا بنیادی مقصد انسان کے باطن کی اصلاح ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے:
’’یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔‘‘
(سورۂ الشمس، 91:9)
نفس کی اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اندر موجود تکبر، حسد، لالچ، غصے، ریا اور دوسری برائیوں پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ مجاہدۂ نفس دراصل اسی مسلسل جدوجہد کا نام ہے؛ یعنی انسان اپنی خواہشات کو دین اور اخلاق کے تابع کرے اور اپنے کردار کو بہتر بنائے۔
اصلاح و ارشاد بھی اسی مقصد کا اہم حصہ ہے۔ ایک مصلح یا مرشد کا کام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنا، ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح میں مدد دینا اور انہیں دین پر عمل کی ترغیب دینا ہے۔ کتاب میں سلسلۂ نقشبندیہ کا ذکر بھی مولانا محمد مستجابؒ کی روحانی نسبت اور تربیتی پہلو کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
یہاں توحید کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ کرامت ہو یا کشف، اسے کسی انسان کی ذاتی اور مستقل طاقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کسی صالح بندے سے کوئی غیر معمولی واقعہ ظاہر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور قدرت سے ہے۔ انسان خواہ کتنا ہی نیک اور بزرگ کیوں نہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہی رہتا ہے۔
اسی لیے مولانا محمد مستجابؒ کی شخصیت کو سمجھتے ہوئے صرف کرامات یا روحانی واقعات پر توجہ دینا کافی نہیں۔ اصل اہمیت ان کی دینی وابستگی، تقویٰ، عبادت، اخلاق، اصلاحی جدوجہد اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی ہے۔ بزرگوں کا احترام اپنی جگہ، لیکن عبادت، دعا اور حقیقی مستقل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔
اس پورے موضوع کا خلاصہ یہ ہے کہ کرامت ممکن ہے، لیکن ہر دعویٰ قابلِ قبول نہیں؛ کشف کا ذکر ہو سکتا ہے، لیکن وہ شریعت سے بالاتر نہیں؛ تصوف قابلِ قدر ہے، اگر وہ تزکیۂ نفس اور اصلاحِ کردار کا ذریعہ بنے؛ اور ان سب کی بنیاد توحید پر قائم رہنی چاہیے۔
یہی توازن ’’انوارِ مستجاب‘‘ کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ کسی بزرگ کی اصل پہچان صرف غیر معمولی واقعات نہیں، بلکہ اس کا کردار، تقویٰ، اصلاحی فکر اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے۔
مولانا محمد مستجابؒ کی دعوتی زندگی، معاشرتی خدمات اور معاشرے پر ان کے اثرات کا ذکر اگلی اور آخری قسط میں کریں گے۔
جاری ہے۔۔۔