کاوشات اقبال

چترال میں سڑکوں کی ابترصورت حال۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر

کسی بھی علاقے کی ترقی،خوشحالی اور مہذب قوم ہونے کی نشانیوں میں ایک کشادہ وسیع پختہ سڑکوں کا ہونا بھی ہے وادی چترال سڑکوں کے سلسلے میں دوسرے ضلعوں کی نسبت پسماندہ تریں ضلعوں میں ًشمار ہوتے ہیں۔دوسرے ضلعوں کے سیاسی اکابرین اپنے اپنے علاقوں میں صاف اور پختہ کشادہ سڑکوں کا جال بچھا کر بلکہ اپنے علاقے کے ملحقہ دھات اور قصبوں میں پختہ سڑکوں کی ایک لمبی داستان رقم کی ہیں لیکن ہمارے والے گرمی میں ٹھنذے کمروں اور سردی میں گرم راتوں کے مزے لوٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں چترال میں سیاسی نماٸندوں کی عدم دلچسپی اور عدم توجہ کی نشانی اس علاقے کے زبوں حال اور شکستہ ٹھوٹ پھوٹ سڑکیں ہیں جو شھری علاقوں سے لیکر دیہی علاقوں میں وحشتناک حالت میں موجود ہیں انفارمیشن اور موصلات کے جدید تریں دور میں اہل چترال ان سڑکوں پر محو سفر ہیں چترال وہ پسماندہ ضلع ہے جس میں بڑی شاہراہوں کا کوٸی جامع اور پاٸیدار نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے اہل علاقہ گزشتہ سالوں سڑکوں کی پاٸیداری کی حصول کیلے احتجاج کی کیفیت سے گزر رہے ہیں پھر بھی کوٸی دیرپا طریقہ نظر نہیں آتا۔۔
چترال شندور روڈ جو اس علاقے کا واحد روٹ تھا جو پختہ صورت میں علاقے میں سیاحت اور معیشت کا واحد سہارا تھا جو 2021 سے اب تک ایک کمپنی کے ہاتھوں زبوں حالی کا شکار ہے اور گزشتہ مہینے سے اس کام میں کچھ بہتری آٸی ہے تاہم کام کی معیار ،رفتار اور تسلسل میں بہت زیادہ فرق ہے پتہ نہیں یہ چترالی عوام کو پھر نا امید نہ کرے اس کمپنی نے چترال کے عوام پر اتنا بڑا ظلم اور نا انصافی کی کہ ترکول اکھاڑ کر اس کی جگہ پھتر بچھا کر تین سال تک اذیت کا نشانہ بنا دیا اس کا بدلہ اللہ دو جہانوں میں ضرور اس سے لے گا ۔اس بار عوام بیدار ہو چکی ہے ۔۔ان کو اس روٹ کی اہمیت کا اندازہ ہو چکا ہے۔
کسی بھی علاقے کیلے رابطہ سڑکوں کا ہونا انتہاٸی اہم ہے کیونکہ سڑک وہ بنیادی زریعہ ہے جس کی بدولت انسان اپنے طویل سفر کو مختصر کر سکتا ہے دنیا کے جتنے بھی ممالک ترقی کر چکے ہیں ان کی ترقی کا راز سڑکوں کی بہترین نظام ہے چترال میں شہری آبادی اور دیہی علاقات جات میں سڑکوں کی ناقص صورت حال کی وجہ سے عوام پسماندگی اور پسپاٸی سے دوچار ہیں چترال لوٸر اور چترال آپر میں شہری اور دیہی علاقاجات میں سڑکوں کی ناقص صورت حال کی وجہ سے عوام شدید کرب والم کے دور سے گزرتی ہے جہاں سڑکوں کی عدم دستیابی اور ناقص صورت حال کی وجہ سے بزرگ،سکولی بچے اور مریض پریشان ہوتے ہیں کرب اور اذیت کی زندگی سے گزرنا پڑتا ہے جب سے یہ سڑک تعمیر کی گٸی ہیں تب سے لیکر آج تک اس پر مرمت کا کام نہیں کیا گیا اور اکثر اب دریا برد ہیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس پہ کچھ کام کرتے ہیں جو ناکافی ہیں ۔
موجودہ حکومت ملک میں سڑکوں،موٹر ویز کی تعمیر اور موٹر بس جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو کہ ایک اچھی پیش رفت ہے یہ ترقی کے نہ تھامنے والی ترقی ہے جو نہیں رکنی چاہٸے۔
جب ہم سڑک پر نکلتے ہیں تو وہ ایک جعرافیاٸی راستہ نہیں ہوتا بلکہ ہمارے داخلی رویوں اور ذہنی کیفیت کی بھی عکاسی کرتا ہے سڑک ہمارے ہر قدم،ہر فیصلہ اور ہر ردعمل ہماری شخصیت کے پہلوں کو اجاگر کرتا ہے ہم اکثر سڑکوں پر چلتے ہوۓ یا گاڑی چلاتے ہوۓ یہ ہیں سوچ پاتے ہماری ر فتار،فاصلہ اور برتاو ہماری شخصیت کے حقیقی عکس ہیں سڑک صرف حسمانی ساخت نہیں ہیں بلکہ یہاں ایک مجازی منظر نامہ بھی فراہم کرتی ہیں جو ہماری اندر چھپے ہوۓ رویوں،عادات اور فیصلوں کو ظاہر کرتی ہیں یہ ہماری ذہنی حالت اور شخصیت کی عکاسی کرتا ہے
انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سڑکوں پر گزرتا ہے اور اس تعلق سے سڑکیں اس کیلے ایک راستہ نہیں بلکہ اس کی زندگی کا دوسرا گھر بن جاتی ہیں سڑکوں پر اپنی زندگی کے سفر میں سوچ رویوں اور فیصلوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ چترال میں سڑکوں کو محض ایک فاصلہ طے کرنے کا زریعہ سمجھا جاتا ہے نہ کہ ایک اجتماعی اثاثہ یا ثقافتی ورثہ سڑکوں سے محبت یا ان کی عزت کا کوٸی خاص تصور ہمارے ہاں ابھی تک پیدا نہیں ہوا ۔سڑکوں پر گندگی پھینکنا، پانی ڈالنا ہمارے عمومی رویے کا حصہ بن چکا ہے اس طرح کے کام نہ صرف سڑکوں کی عزت کو مجروح کرتے ہیں بلکہ نعمت خداوندی کی ناشکری کا سبب بن جاتے ہیں جس کا خمیزہ ہم سڑکوں کی آبتر صورت میں بھگت رہے ہیں اگر ہم سڑکوں کو عزت دیں ان کی صفاٸی اور حفاظت کا خیال رکھیں اور دوران توسیع یا مرمت مغیار اور مقدار پر نظر رکھیں تو یہ ہماری مجموعی تہذیب میں اضافے کا باعث بنے گا۔۔
چترال کے دونوں ضلعوں میں سڑکوں کی صورت حال ابتر ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اۓ روز سڑکوں کی ناقص نظام کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں عوام سڑکوں کی بہتری کیلے روز سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں چترال میں دیہی اور شہری آبادی کیلے کشادہ اور پختہ سڑکوں کی فوری ضرورت ہے جن کا حصول ہر شہری کو حاصل ہونا چاہٸے چترالی عوام دھاٸوں سے معیاری سڑکوں کی حصول سے محروم ہیں مرکزی حکومت سے اپیل ہے اگرچہ سڑکیں بہت تیزی سے بہتر کیے جاٸیں ان کی حالت کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے چترال شندور روڈ پر خصوصی توجہ دی جاۓ ان کی معیار اور تسلسل کو جاری رکھ کر بروقت تکمیل کو یقینی بناٸی جاۓ اس کام میں سستی علاقے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ تصور ہوگی چترال کی ترقی اور ملک کی ترقی کا اس روٹ کے ساتھ گہرائی کا جعرافیاٸی تعلق ہے۔۔۔اور ملک کی ترقی کا راز وابسطہ ہے۔۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock