مہمان کالم

مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی پانچ روزہ سفرِ چترال کی روداد

تحریر: خلیق الرحمن الجنید۔معاون ناظم عمومی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ضلع چترال

ہر گلی اچھی لگی، ہر ایک گھر اچھا لگا
وہ جو آیا شہر میں، تو شہر بھر اچھا لگا

چترال کی پرسکون وادیوں میں *22 ستمبر 2025ء* کی سہ پہر کو وہ لمحہ آیا، جب فضاؤں میں عقیدہ ختم نبوت کی خوشبو بکھر گئی۔ لواری ٹنل کے دہانے سے جب مہمانانِ ختم نبوت نے قدم رکھا تو یوں لگا جیسے برسوں کی پیاسی وادی پر بارانِ رحمت برسنے کو ہے۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ، چہرہ چہرہ مسرت و شادمانی کی روشنی سے دمک اٹھا۔ جیسے کسی گلشن میں مالی بہار لے کر اتر آیا ہو۔

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے، کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

یہ وہی مہمانانِ گرامی تھے جنہوں نے 2016ء میں اس خطے میں عقیدہ ختم نبوت کا بیج بویا تھا۔ آج وہی ننھا پودا ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرچکا تھا، جس کی جڑیں مضبوط ہوچکی تھیں، لیکن اس کے پھل کو مزید شیریں بنانے کے لیے ان اکابر کی آمد ناگزیر تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چولہے پر رکھا توے کا آٹا تیار تھا، مگر دستِ ہنرمند کی تلاش تھی جو اس پر روٹی پکا سکے۔

پہلا دن: ورودِ مسعود

دوپہر چار بجے کا وقت تھا، جب *حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب، حضرت مولانا عابد کمال صاحب اور ان کے رفقاء کا قافلہ* چترال میں داخل ہوا۔ استقبال کا سماں دیدنی تھا۔ امیرِ ضلع حضرت مولانا حسین احمد صاحب، حضرت مفتی شفیق احمد صاحب، خطیبِ شاہی مسجد حضرت مولانا خلیق الزمان صاحب اور تحریک کے کارکنان کا ایک جمِ غفیر والہانہ جوش و خروش کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھا۔ عشریت کے مقام پر مقامی عوام نے مہمانانِ کرام پر محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔

رات کا قیام نگر کے مدرسہ تعلیم القرآن میں ہوا، جہاں مہمانانِ گرامی کو اہلِ دل کی دعاؤں اور اہلِ ایمان کی محبتوں کا حصار میسر آیا۔

*دوسرا دن: دروش اور چمرکن کی رونقیں*

23 ستمبر کی صبح، جامع مسجد خورانڈوک دروش میں عظیم الشان اجتماع ہوا، جس میں علما و عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ خطابات نے دلوں کو گرما دیا، ایمان کو تازہ کردیا۔

اسی روز مغرب کے بعد، تاریخِ چترال کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ جامع مسجد السلام چمرکن میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے کے استقبال میں عاشقانِ ختم نبوت نے ایسی ریلی نکالی کہ ہر طرف نعروں اور عشقِ رسول ﷺ کے ترانوں کی گونج سنائی دی۔

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم
تم آؤ گے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

جلسے میں ہزاروں سامعین کی موجودگی میں جب مہمانانِ گرامی نے لب کھولے تو گویا دلوں کی سرزمین میں نور اترنے لگا۔

تیسرا دن: تورکھو اور برنس کی صبحیں

*24 ستمبر کی صبح*، قافلہ چترال شہر سے نکل کر اپر چترال کی طرف بڑھا۔ پہاڑی راستے کٹھن تھے، مگر جذبہ عشقِ رسول ﷺ نے سب کچھ آسان کردیا۔ شاگرام کی عظیم الشان شاہی جامع مسجد میں ایسااجتماع ہوا کہ جس کی مثال تورکھو کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اہلِ ایمان کے جوش و خروش نے آسمان کو چھو لیا۔

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر
بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

واپسی پر برنس میں مختصر مگر پراثر خطاب ہوا۔
چوتھا دن : گلشن قریشی، وادی بمبوریت کی رونقیں اور ضلعی کابینہ کے ساتھ نشست۔

پھر اگلے روز صبح جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال میں طلباء کرام سے حضرت قاضی صاحب نے مدلل اور پر مغز بیان فرمایا اس کے بعد پروگرام کی روانگی بمبوریت کی وادیوں کی طرف تھی، جہاں غیر مسلم کیلاش آبادی کے بیچ نورِ ختم نبوت کی مشعل جلائی گئی۔ اس جلسے کا اثر برسوں تک وادی کی فضاؤں میں باقی رہے گا۔

اسی شام بلچ کے مقام پر ایک پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں پر مہمانانِ کرام نے ضلعی کابینہ کے اراکین کو خصوصی نصائح سے نوازا۔ اکابرین کی تاریخ کو اس انداز میں بیان کیا کہ دل عشق و محبت میں جھوم اٹھے۔

پانچواں دن: وکلاء سے خطاب اور شاہی جامع مسجد چترال کا عظیم الشان اجتماع

*25 ستمبر کو* 9 بجے حضرت قاضی صاحب نے وکلاء کے ایک بڑے مجمعے سے خطاب فرماتے ہوئے قانون تحفظ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا، 11 بجے شاہی جامع مسجد چترال میں مرکزی اور شہری حلقے کی کانفرنس ہوئی۔ قاری عبد الرحمن قریشی صاحب کی پرسوز تلاوت نے محفل کو نورانی بنایا۔ امیرِ ضلع کے استقبالیہ کلمات کے بعد حضرت قاضی احسان احمد صاحب نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ ان کا بیان ایسا تھا کہ دلوں میں عقیدہ ختم نبوت کی جڑیں مزید پیوست ہوگئیں۔

بعد از جمعہ علما کے لیے ضیافت کا اہتمام تھا۔ اور پھر، قافلہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوا۔ الوداعی لمحات نہایت جذباتی تھے۔

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر
کہا جب الوداع اس نے پلٹ کر

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

نتیجہ

یہ پانچ روزہ سفر چترال کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اس کی برکت سے ختم نبوت کا پیغام پہاڑوں کی چوٹیوں سے وادیوں کی گہرائیوں تک گونج اٹھا۔ عشقِ رسول ﷺ کے دیپ ہر دل میں جل اٹھے۔

شکریہ تیرا، ترے آنے سے رونق تو بڑھی
ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock