
زندگی کا معاملہ۔۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔محمد اقبال شاکر
اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنےعمل کا آعاز کیا جاۓ اور ناکامی کاواحد بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کی حصول میں لگا دیا جاۓ دنیا دارالامتحان ہے اس میں امتحان کی مصلحت لازمی طور پر شامل رہتی ہے یہ معاملہ کسی صاحب سیادت شخص کا ابھرنا ہے ایک سچا انسان جب اللہ کی توفیق سے سیادت و قیادت کی میدان میں ابھرتا ہے تو پورے معاشرہ کیلے امتحان کا ایک پرچہ بن جاتا ہے۔۔
اب جو لوگ سچاٸی کے طالب ہیں جن کے اندر سچاٸی کو پانے کی خواہش موجود ہے جو حق کو سب سے بڑا درجہ دیتے ہوۓ زندگی گزارتے ہیں وہ پیشگی طور پر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آذاد ہوتے ہیں وہ ابھرنے والے قاٸد کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے درمیان وہ محبوب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے وہ دل سے اس کا اعتراف کرتے ہیں وہ اس کو دعاٸیں دیتے ہیں وہ اپنے بہترین الفاظ اور بہترین جذبات اس کیلے وقف کر دیتے ہیں۔
بازار میں تمام چیزیں ضروری قیمت دینے کے بعد ملتی ہیں بازار کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے ۔۔جتنا دینا اتنا پانا۔۔نہ اس سے کم نہ اس سے ذیادہ ۔۔یہ اصول پوری زندگی کیلے بھی ہے کہ تم دنیا کو اپنا بہترین دو اور تمہاری طرف بھی دنیا کا بہترین واپس اۓ گا۔اگر اپ لوگوں کے خیر خواہ ہوں تو لوگ بھی آپ کے خیر خواہ ہوں گے اگر آپ لوگوں کیلے میٹھا بولیں تو لوگ بھی آپ کے ساتھ محبت کرنے والے بن جاٸیں گے۔۔
یہ دنیا لین دین کی دنیا ہے یہاں انسان وہ پاتا ہے جو دوسروں کو دیتا ہے یہاں دوسرے لوگ کسی دوسرے لوگوں کیلے وہی کچھ ثابت ہوتے ہیں جو کہ وہ خود دوسروں کیلے ثابت ہوا ہو۔
اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بڑاٸی میں جی رہے ہوں جو حق کے طالب نہ ہوں بلکہ اپنی خواہش نفس کے طالب ہوں ایسے لوگ جب کسی کو ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں تو فوراً حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں یہ کمینے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کا قد کا بڑھنا گویا میرے قد کا چھوٹا ہونا ہے یہ لوگ حسد کی آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں تو ایسے لوگوں کی دل عداوت اور کینہ پروری ان کے رگ رگ میں بھری ہوتی ہے اور بلا اخر قانوں فطرت کا مزہ بھی چھکتے ہیں تو وہ وقت بہت دور ہوگا۔۔ہر ایک صاحب سیادت آدمی کا ایک امتحان ہے اس امتحان میں ایک قسم کے لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسرے قسم کے لوگ ناکام۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اچھا ماحول پانا آدمی کے اپنے اختیار میں ہے آپ دوسروں کے دوست بن جایۓ ،اس کے بعد اپ کو بھی دوستوں سے بھرا ہوا ماحول مل جاۓ گا ۔آپ دوسروں کی ناخوشگوار باتوں کو برداشت کیجٸے اس کے بعد آپ کو بھی زندگی گزارنے کے لیےایسی دنیا میں مل جاۓ گی جہاں ہر ایک آپ کو فاٸیدہ پہنچانے میں مصروف ہوگا ۔۔
اگر آپ پھول بن کر رہنا جانتے ہوں تو اپنے رہنے کیلے
پھولوں کی کیاری پالیں گے اگر آپ کے وجود کے ساتھ کانٹے لگے ہوۓ ہوں تو اس کے بعد آپ کو زندگی گزارنے کیلے جو دنیا ملے گی وہ صرف کانٹوں کا جھاڑ جھنکاڑ ہوگا۔۔
انسان پیداٸشی طور پر معیار پسند ہوتا ہے ہر ایک میں معیاری دنیا کا تصور بسا ہوتا ہے مگر دوسری ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ اس دارالامتحان میں کسی شخص کیلے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی معیاری دنیا کو حاصل کر سکے عملی طور پر جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ معیار سے کم کو لینے پر راضی ہو جاۓ تب اعلی انسانی صفات آپ کے اندر پرورش پا سکتے ہیں۔۔
اس دنیا میں سب سے بڑی براٸی دوسروں کا برا چاہنا ہے کیونکہ آپ خواہ دوسرے کا برا نہ کر سکیں مگر اپ اپنا برا یقینا کرا لیتے ہیں دوسرے کو تباہ کرنا کسی آدمی کےاختیار میں نہیں مگر جب کوٸی شخص کسی دوسری کی تباہی کا نقشہ بناتا ہے تو وہ اپنے آپ کو یقینا تباہ کر لیتا ہے
۔دوسروں کی بدخواہی صرف دوسرے کی بدخواہی نہیں اس کے ساتھ وہ خود اپنی بدخواہی بھی ہے آدمی کو چاہیۓ اگر دوسرے کا خیر خواہ نہیں بن سکتاتو اپنی ذات کا خیر خواہ بنے ۔وہ دوسرے کو
دینا نہیں چاہتا تھا تو کماز کم اپنے اپ کو محروم نہ کرے وہ دوسرے کیلے جینا نہیں چاہتا تو اپنے آپ کیلے جیٸے۔۔یہ تو اچھی زندگی کا معاملہ ہے۔۔۔
