
عدالت سے جنت تک، چترال لائرز فورم کا دل کو چھو لینے والا سفر..تحریر: ذیشان زرین ایڈووکیٹ
عدالتوں کی سنجیدہ فضاؤں میں گھلے ہوئے دنوں کے بعد جب فطرت کی آغوش میں قدم رکھا جائے تو دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ آنکھیں حیران، دل مسحور اور روح کو ایسا سکون ملتا ہے جو مقدمات کی فتوحات سے بھی زیادہ قیمتی لگتا ہے۔ یہ وہی لمحات ہوتے ہیں جو زندگی کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ چترال لائرز فورم پشاور کی یہ روایت برسوں سے جاری ہے ایک ایسی روایت جو نہ صرف پیشہ ورانہ یکجہتی کی علامت ہے بلکہ اخوت محبت، ہنسی مذاق اور باہمی تعاون کا ایک زندہ منظر پیش کرتی ہے۔ حال ہی میں فورم کا اسلام آباد سے مری کا یہ یادگار ٹور اسی جذباتی سفر کا ایک سنہرا باب ہے جو عدالت کی سیاہ کوٹ کو فطرت کی سبز وادیوں کی تازگی سے بدل کر دلوں کو
جوڑتا ہے۔
چترال لائر فورم کا قیام 2002ء میں چند پرجوش اور دور اندیش چترالی وکلا کی کاوشوں سے ہوا۔ شروع میں یہ صرف دو تین ساتھیوں کا چھوٹا سا گروپ تھا مگر چترال کے بہادر، محنتی اور جفاکش وکلا کی شمولیت سے یہ ایک مضبوط، اخوت بھرا کارواں بن گیا۔ سالوں کی غیر رسمی سرگرمیوں کے بعد 2018ء میں پہلا شفاف الیکشن ہوا، جس نے فورم کو ایک منظم اور جمہوری ڈھانچہ دیا۔ اس خوبصورت تسلسل میں 2024-2025ء کے لیے محترم ایڈووکیٹ شاہد علی خان یفتالی کو دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔ صدر صاحب وادی لاسپور کے تاریخی اور معزز یفتالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ خاندان جس کی جڑیں چترال کی تاریخ میں گہری پیوست ہیں۔ مہتر کے دور سے لیکر کر آج تک یہ خاندان بہادری، مہمان نوازی، سیاسی بصیرت اور سماجی خدمات کی روشن مثالیں قائم کرتا آیا ہے۔ بابائے لاسپور صوبیدار گل ولی خان کی مہمان نوازی کی داستانیں آج بھی سنائی جاتی ہیں جبکہ امیر اللہ خان یفتالی نے پولو، ثقافتی میوزیم اور فلاحی کاموں سے خاندان کا نام بلند کیا۔ شاہد علی یفتالی اسی عظیم ورثے کے امین ہیں جو فورم کی قیادت میں نہ صرف پیشہ ورانہ مسائل حل کرتے ہیں بلکہ ساتھیوں کے درمیان محبت کے پل باندھتے ہیں اور تفریح کے ایسے مواقع پیدا کرتے ہیں جو دل کو چھو جاتے ہیں۔
اس بار صدر صاحب نے اپنی روایت کو مزید خوبصورت بناتے ہوئے اسلام آباد مری ٹور کا اہتمام کیا۔ ٹور صبح دس بجے پشاور ہائی کورٹ سے شروع ہونا تھا۔ کچھ دوست وقت کے پابند صبح سویرے جمع ہو گئے مگر وکلا کی پرانی روایت کے مطابق کچھ ساتھیوں کو بار بار کالوں کے بعد بارہ بجے پہنچنا پڑا۔ آخر وکلا ہیں نا، ٹائم کو بھی کیسز کی طرح لچکدار بنا دیتے ہیں۔ پھر سب کی التجا اور اصرار پر محترم ایڈووکیٹ رحمت علی شاہ، اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے اپنا قیمتی وقت نکال کر قافلے میں شمولیت کی اور دل کھول کر چندہ دیا۔ ان کی آمد سے بس میں ایک خوشگوار لہر دوڑ گئی اور ٹور کا مزہ دوبالا ہو گیا۔
سفر شروع ہوتے ہی بس میوزک کی سریلی لہروں، ہنسی مذاق کی بوچھاڑ اور وکلا کی جذباتی قانونی بحثوں سے گونج اٹھی۔ مگر اب کیس فطرت کی خوبصورتی کے حق میں تھا۔ اسلام آباد پہنچ کر سب سے پہلے فیصل مسجد کا رخ کیا۔ پہاڑوں کے دامن میں کھڑی یہ عظیم الشان مسجد آسمان کو چھوتی سی نظر آتی ہے اور اس کی سفید میناریں دل کو ایک عجیب سی کشش میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد دل پر ایک گہرا سکون طاری ہوا جیسے تمام دنیاوی پریشانیاں دھل گئی ہوں اور روح کو حقیقی آزادی مل گئی ہو۔
نماز کے بعد سینٹورس مال کا چکر لگایا۔ وہاں کی چمک دمک، شاپنگ کی رونقیں، رنگ برنگی دکانیں اور آئس کریم کا لذیذ ذائقہ سب نے دل کو خوشی سے بھر دیا۔ یہ لمحات تھکے ہوئے دلوں کو نئی توانائی دیتے ہیں۔
شام کو جی نائین کے ہوٹل میں قیام کیا۔ رات کا کھانا تو دل کو چھو لینے والا تھا گرم گرم پنڈا، خوشبودار چاول، چکن کڑاہی کا مزہ جو زبان پر رقص کرتا رہا۔ ہوٹل میں رات بھر گپ شپ چلتی رہی۔ چترال کی برفانی وادیوں کی یادیں، بچپن کی کہانیاں، مذاق اور ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بانٹے گئے جذبات۔ یہ لمحات اخوت کی حقیقی تعریف تھے۔
اگلے دن صبح میجر صدام کی دعوت پر راولپنڈی پہنچے۔ میجر صاحب دروش چترال سے ہیں اور پاکستان آرمی کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے گھر ناشتہ ایک دسترخوانِ نعمت تھا نہاری کی بھینی خوشبو جو ناک میں گھس کر دل کو مسحور کر گئی چولوں کی کرارپن، ساگ انڈے کی لذت اور دیگر پکوانوں نے سب کو حیران و شادمان کر دیا۔ گپ شپ میں وقت کا پتہ ہی نہ چلا، جیسے ایک خاندان اکٹھا بیٹھا ہو۔
فارغ ہو کر مری کا رخ کیا۔ راستے میں چائے کی گرم چسکیاں لیں اور پھر مری کی سڑکیں جو پہاڑوں کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں۔ مری پہنچ کر پیدل چہل قدمی کی۔ تازہ ٹھنڈی ہوا جو پھیپھڑوں کو بھر دیتی ہے سبزے کی تازگی جو آنکھوں کو سکون دیتی ہے اور دور تک پھیلے سفید برف کے مناظر جو دل کو موہ لیتے ہیں۔ دسمبر کی ہلکی ٹھنڈک میں فطرت کی یہ ادائیں دیکھ کر لگتا تھا گویا جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔ دل خوشی سے جھوم اٹھا اور آنکھیں نم ہو گئیں اس خوبصورتی کو دیکھ کر۔
رات آٹھ بجے مری سے واپسی شروع ہوئی اور گیارہ بجے پشاور پہنچے۔ آخر میں قصہ خوانی بازار سے لذیذ کھانے کھا کر گھروں کو روانہ ہوئے۔ یہ ٹور محض ایک سفر نہیں تھا بلکہ دلوں کو جوڑنے والا، تازگی بخشنے والا اور نئی امیدیں جگانے والا ایک جذباتی تجربہ تھا۔
چترال لائرز فورم چترالی وکلا کی ایک حقیقی فیملی ہے، جو کھوار زبان کے تحفظ سے لے کر ثقافتی ورثے کی حفاظت تک سب کچھ کرتی ہے۔ یفتالی خاندان کی روایات اسکی روح ہیں۔ تمام ساتھیوں بلخصوص بیرسٹر اسد الملوک صاحب ایڈووکیٹ آصف جلال صاحب اور سے جی سید رخمت علی شاہ، ڈرائیور اور صدر صاحب شاہد علی یفتالی اور ایڈووکیٹ رحمت علی شاہ کا تہہ دل سے شکریہ۔ اللّٰہ تعالیٰ کرے اگلا ٹور چترال کی برفیلے وادیوں کا ہو، جہاں بلیک کوٹ والے سفید برف میں رنگ بھریں اور دل مزید قریب آ جائیں۔
یہ لمحات اب دل میں بس گئے ہیں۔ عدالت میں بیٹھ کر جب تھکن چھا جاتی ہے، یہ یادیں سکون دیتی ہیں۔ ایسے ٹورز زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں، اخوت کو مضبوط کرتے ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی صرف مقدمات نہیں، محبت اور خوشیوں کا نام بھی ہے۔ چترال لائرز فورم کی یہ روایت ہمیشہ چمکتی اور دل کو چھوتی رہے۔
