آواز اقبال

رٹہ کلچر سے تنقیدی سوچ تک، تعلیمی اصلاحات کا نا مکمل سفر

تحریر: اقبال عیسی خان

تعلیم کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی، معاشی خود کفالت اور سماجی استحکام کی بنیاد ہوتی ہے۔  ہمارے تعلیمی نظام میں موجود خلا محض نصاب یا امتحانی ڈھانچے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک فکری بحران کی علامت ہے، جہاں تعلیم کا مقصد شعور سازی کے بجائے محض ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکا ہے۔

ہمارے نظام تعلیم کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہاں تخلیقی سوچ اور سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ طالب علم کو رٹہ لگانے والا بنایا جاتا ہے، سوچنے والا نہیں۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا محور تنقیدی فکر، تحقیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی ماڈل اس کی ایک روشن مثال ہے، جہاں نصاب لچک دار ہے، امتحانات کم اور استاد پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً طالب علم ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر سیکھنے کے عمل سے جڑتا ہے۔

ایک اور اہم خلا استاد کی حیثیت اور تربیت سے متعلق ہے۔ ہمارے ہاں استاد کو وہ سماجی مقام اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع میسر نہیں جو ایک قوم کے معمار کو ملنے چاہئیں۔ جاپان میں اساتذہ کی مسلسل تربیت اور اخلاقی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جس کا اثر براہ راست طلبہ کے نظم، ذمہ داری اور اجتماعی شعور میں نظر آتا ہے۔

تعلیم اور عملی زندگی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جامعات سے نکلنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ جرمنی کا ڈوئل ایجوکیشن سسٹم اس مسئلے کا مؤثر حل پیش کرتا ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ عملی تربیت لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں نوجوان تعلیم کے فوراً بعد روزگار کے قابل ہو جاتے ہیں اور معیشت کو مضبوط سہارا دیتے ہیں۔

اصلاح کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ نصاب کو مقامی ثقافت، اخلاقی اقدار اور جدید سائنسی تقاضوں کے امتزاج سے تشکیل دینا ضروری ہے۔ اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر، تربیت جدید خطوط پر اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ اسکول اور جامعات کو تحقیق، مکالمے اور اختراع کے مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹیکنالوجی کے بغیر جدید تعلیم کا تصور ادھورا ہے۔ ایسٹونیا جیسے ممالک نے ڈیجیٹل تعلیم اور ای گورننس کے ذریعے کم وسائل میں بھی اعلیٰ معیار حاصل کیا۔ ہمارے ہاں بھی آن لائن لرننگ، اسمارٹ کلاس رومز اور ڈیجیٹل لائبریریوں کو فروغ دے کر تعلیمی عدم مساوات کم کی جا سکتی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے معاشرے میں بھی کامیابی کی مثالیں موجود ہیں۔ کچھ سرکاری اسکول، غیر سرکاری تعلیمی ادارے اور وقف سے چلنے والی جامعات محدود وسائل کے باوجود معیاری تعلیم اور کردار سازی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر قیادت مخلص، وژن واضح اور حکمت عملی مضبوط ہو تو تبدیلی نا ممکن نہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیمی اصلاحات وقتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ یہ ایک طویل المدتی قومی عزم کا تقاضا کرتی ہیں، جہاں ریاست، اساتذہ، والدین اور طلبہ سب ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کریں۔ جب ہم تعلیم کو اخراجات نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھ لیں گے، تب ہی ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونے کے قابل ہو سکیں گے۔

کالم نگار اقبال عیسیٰ خان اسٹریٹیجسٹ، بزنس کنسلٹنٹ اور ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے یونی لیور پاکستان لمیٹڈ، ہلال فوڈز، نوول اپس، سیٹس، کے بی ایس ورلڈ، ڈی این جی سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ کلیدی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ وہ ڈیولپ اینڈ گرو انٹرنیشنل اور ٹوورسٹی کے بانی ہیں اور گلگت بلتستان سمیت قومی سطح پر مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس وقت شناکی ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور ہنزہ گلگت سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO