آواز اقبال

بین المذاہب ہم آہنگی، پرامن اور خوشحال معاشروں کی بنیاد

تحریر: اقبال عیسی خان

دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی انسان نے مذہب کو نفرت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے، اور جب مذہب کو اخلاق، احترام اور انسان دوستی کے مشترکہ اصول کے طور پر سمجھا گیا تو قومیں مضبوط ہوئیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حکمتِ عملی ہے، جو امن، ترقی اور پائیدار خوشحالی کی بنیاد بنتی ہے۔

آج کا عالمی منظرنامہ ہمیں ایک دو راہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف مذہبی عدم برداشت، انتہا پسندی اور شناخت کی سیاست ہے، اور دوسری طرف وہ معاشرے ہیں جہاں اختلاف کو طاقت اور تنوع کو سرمایہ سمجھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ امن صرف اس وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وجود، عقیدے اور وقار کو تسلیم کریں۔

یورپ کی مثال لیجیے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ مذہبی اور نسلی نفرت نے ہی اسے تباہی کے دہانے پر پہنچایا۔ آج جرمنی میں چرچ، مسجد اور سینیگاگ کے درمیان مکالمہ ایک ریاستی ترجیح ہے۔ بین المذاہب کونسلز، مشترکہ سماجی منصوبے اور تعلیمی نصاب میں مذہبی احترام کی تعلیم نے جرمن معاشرے کو نہ صرف پرامن بنایا بلکہ معاشی طور پر بھی مستحکم کیا۔

اسی طرح کینیڈا کو دنیا کے کامیاب ترین کثیرالمذاہب معاشروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہاں سکھ، مسلمان، عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب کے افراد ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ مذہبی شناخت نجی معاملہ ہے، مگر مذہبی احترام اجتماعی ذمہ داری۔ یہی سوچ کینیڈا کو امن کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہے۔

ایشیا میں ملائشیا ایک اہم مثال ہے۔ مسلمان اکثریت کے باوجود بدھ، ہندو اور عیسائی برادریوں کو آئینی تحفظ اور سماجی احترام حاصل ہے۔ نتیجہ یہ کہ ملائشیا نے سیاحت، تجارت اور تعلیم میں غیر معمولی ترقی کی۔ یہاں بین المذاہب ہم آہنگی کو قومی سلامتی اور معاشی استحکام سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔

اگر ہم افریقہ کی طرف دیکھیں تو روانڈا کی مثال بھی قابلِ غور ہے۔ نسل اور شناخت کی بنیاد پر ہونے والی ہولناک نسل کشی کے بعد، وہاں مذہبی رہنماؤں نے مصالحت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا۔ چرچز اور مساجد نے مل کر زخموں پر مرہم رکھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج روانڈا افریقہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی کامیابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ معاشروں میں اعتماد پیدا کرتی ہے۔ جہاں اعتماد ہو، وہاں سرمایہ کاری آتی ہے، تعلیم فروغ پاتی ہے اور نوجوانوں کو مثبت سمت ملتی ہے۔ نفرت تقسیم پیدا کرتی ہے، جبکہ احترام مشترکہ مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔

ہمارے خطے کے لیے یہ پیغام اور بھی اہم ہے۔ مذہبی تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھنا ہوگا۔ مدارس، اسکولوں، جامعات اور میڈیا کو یہ ذمہ داری لینا ہوگی کہ اختلافِ عقیدہ کو دشمنی میں نہ بدلا جائے۔ ریاستی سطح پر بھی ایسے فورمز کی ضرورت ہے جہاں مختلف مذاہب کے رہنما مل بیٹھ کر قومی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کریں۔

ایک مہذب شہری کے طور پر ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ امن صرف بندوق یا قانون سے نہیں آتا، بلکہ دلوں کے درمیان پل بنانے سے آتا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی وہ پل ہے جو قوموں کو خوف سے اعتماد، نفرت سے تعاون اور جمود سے خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے۔

اگر دنیا کو پائیدار امن اور ترقی چاہیے تو اسے مذہبی اختلاف کو قبول کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ یہی وہ کنجی ہے جو نہ صرف آج کے بحرانوں کا حل ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بھی۔

کالم نگار اقبال عیسیٰ خان اسٹریٹیجسٹ، بزنس کنسلٹنٹ اور ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے یونی لیور پاکستان لمیٹڈ، ہلال فوڈز، نوول اپس، سیٹس، کے بی ایس ورلڈ، ڈی این جی سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ کلیدی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ وہ ڈیولپ اینڈ گرو انٹرنیشنل اور ٹوورسٹی کے بانی ہیں اور گلگت بلتستان سمیت قومی سطح پر مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس وقت شناکی ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور ہنزہ گلگت سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock