آواز اقبال

کیا گلگت بلتستان کی سیاسی و مذہبی قیادت ناصرآباد ہنزہ کے دھرنے میں شریک ہوگی؟

تحریر: اقبال عیسی خان

ناصرآباد ہنزہ آج ایک خاموش بغاوت کی تصویر بن چکا ہے۔ یہ بغاوت ہتھیاروں کی نہیں، پیاس کی ہے۔ یہ احتجاج نعروں کا نہیں، سسکتی ہوئی زمین اور سوکھتے ہوئے درختوں کی فریاد ہے۔ مناپین نگر سے ناصرآباد ہنزہ تک پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ اب ایک ترقیاتی اسکیم نہیں رہا، بلکہ سولہ برس پر محیط ایک المیہ بن چکا ہے، جس نے کسانوں کی کمر توڑ دی اور ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
یہاں کھیت اجڑ چکے ہیں، فصلیں ختم ہو چکی ہیں، اور دس سے پچیس سال پرانے پھل دار درخت پانی کی کمی کے باعث مر چکے ہیں۔ یہ صرف کسانوں کے لیے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان نہیں، یہ اس قدرتی توازن کی تباہی ہے جس پر پورا علاقہ زندہ تھا۔ درختوں کا مر جانا محض معاشی نقصان نہیں، یہ آنے والی نسلوں سے سانس چھین لینے کے مترادف ہے۔
اس تباہی کی جڑیں واضح ہیں۔ بدعنوانی، غفلت اور نااہلی۔ متعلقہ محکموں کی بے حسی اور کچھ ٹھیکیداروں کی لوٹ مار نے ایسے کئی منصوبوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سولہ برس کی تاخیر کے بعد بھی حالات یہ ہیں کہ اگر ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو اس منصوبے کے مکمل ہونے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ یہ تاخیر حادثہ نہیں، یہ ایک منظم ناکامی ہے۔
ایسے میں ناصرآباد ہنزہ کے عوام سوال کر رہے ہیں۔ کیا گلگت بلتستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت اس دھرنے میں شریک ہو کر عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی؟ یا پھر یہ قیادت بھی خاموش تماشائی بن کر تاریخ کے حاشیے میں دفن ہو جائے گی؟ یہ دھرنا کسی ایک گاؤں کا نہیں، یہ پورے گلگت بلتستان اور چترال کے ان تمام منصوبوں کی آواز ہے جو بدعنوانی اور نااہلی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
عوام کا مطالبہ بالکل واضح ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری اور چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ فوری نوٹس لیں۔ ان مافیا عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے اس منصوبے کو برسوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ مناپین نگر سے ناصرآباد تک پانی کی پائپ لائن کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ مزید کھیت، مزید درخت اور مزید زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں تاخیر کا شکار تمام ترقیاتی منصوبوں کا جامع آڈٹ کیا جائے۔ ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جو بروقت تکمیل کو یقینی بنائے۔ یہ صرف اصلاحی نہیں بلکہ حفاظتی اور پیشگی اقدامات ہوں، تاکہ آئندہ کوئی مافیا عوامی وسائل سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
آج ناصرآباد انتظار میں ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون سی قیادت اس کے زخموں پر مرہم رکھنے آتی ہے اور کون صرف بیانات کی سیاست پر اکتفا کرتی ہے۔ یہ لمحہ حب الوطنی کے دعووں کا امتحان ہے۔ وقت خود فیصلہ کرے گا کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہوا اور کون خاموشی کے ساتھ ناانصافی کا حصہ بن گیا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock