آواز اقبال

پاکستان کے نوجوانوں کیلئے دس سنہرے مواقع

تحریر: اقبال عیسی خان

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ یہ نوجوان اگر درست سمت پا جائیں تو معیشت کو سنبھال سکتے ہیں، ریاست کو وقار دے سکتے ہیں اور معاشرے کو نئی روح بخش سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے برسوں تک نوجوانوں کو صرف اعداد و شمار میں گنا، ان کی صلاحیت کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بنایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جذبات سے نکل کر شعور کی سطح پر بات کی جائے، کیونکہ مواقع موجود ہیں، کمی صرف سمت کی ہے۔

سب سے پہلے ڈیجیٹل دنیا کو دیکھنا ہوگا، جہاں پاکستان کا نوجوان خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایسے میدان ہیں جہاں ایک عام نوجوان بھی عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ محض روزگار نہیں بلکہ خود اعتمادی کی بحالی ہے، ایک ایسا احساس کہ ہم کسی کے محتاج نہیں، بلکہ مسابقت کے قابل ہیں۔

اس کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس وہ شعبے ہیں جو آنے والے برسوں میں طاقت کا نیا پیمانہ ہوں گے۔ جو قومیں اس علم میں آگے ہوں گی، وہی فیصلہ ساز ہوں گی۔ پاکستانی نوجوان اگر آج خود کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر لے تو کل وہ نہ صرف اچھی ملازمت حاصل کرے گا بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرے گا۔
زراعت، جسے ہم اکثر ماضی کا شعبہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، دراصل مستقبل کی معیشت بن سکتی ہے۔ جدید کاشتکاری، فوڈ پروسیسنگ اور ایگرو بزنس نوجوانوں کو نہ صرف روزگار فراہم کر سکتے ہیں بلکہ ملک کو غذائی خود کفالت کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔ زمین آج بھی وفادار ہے، شرط یہ ہے کہ اسے جدید سوچ کے ساتھ اپنایا جائے۔
کاروبار اور انٹرپرینیورشپ نوجوانوں کے لیے ایک ذہنی تبدیلی کا نام ہے۔ نوکری کی تلاش سے نکل کر مسئلہ حل کرنے کی طرف آنا اصل ترقی ہے۔ چھوٹے اسٹارٹ اپس، مقامی صنعتیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کو خود مختار بناتے ہیں اور معاشرے میں روزگار کا پہیہ گھماتے ہیں۔

پاکستان کا جغرافیہ ایک اسٹریٹجک حقیقت ہے۔ علاقائی تجارت، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ اگر وژن وقتی فائدے سے نکل کر طویل المدت حکمتِ عملی کی طرف جائے تو یہ شعبے قومی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں بھی نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ آن لائن لرننگ، اسکل بیسڈ تربیت اور تعلیمی پلیٹ فارمز نہ صرف سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو علم بانٹنے کا موقع بھی دے رہے ہیں۔ جو نوجوان علم کو ذریعہ بنالے، وہ کبھی بے اثر نہیں رہتا۔

صحت کا شعبہ صرف روایتی ملازمتوں تک محدود نہیں رہا۔ ہیلتھ ٹیک، ذہنی صحت، کمیونٹی سروس اور سماجی کاروبار نوجوانوں کو انسانیت کی خدمت کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی کا موقع دیتے ہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں جذبہ اور نظم اکٹھے چلتے ہیں۔4

ماحولیاتی تبدیلی نے نئی معیشت کو جنم دیا ہے۔ صاف توانائی، پانی کے تحفظ اور ماحول دوست منصوبے نوجوانوں کے لیے مستقبل کی نوکریاں ہیں۔ جو نوجوان آج ماحول کے لیے کام کرے گا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔

تخلیقی صنعتیں، میڈیا اور ڈیجیٹل اظہار نوجوانوں کو آواز دیتے ہیں۔ فلم، تحریر، صحافت اور سوشل میڈیا محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی کی طاقت ہیں۔ ذمہ دار اور باخبر نوجوان یہاں قوم کی سوچ بدل سکتے ہیں۔
آخر میں، عوامی خدمت اور ریاستی نظام میں کردار ادا کرنا بھی ایک اہم موقع ہے۔ سول سروس، پالیسی ریسرچ اور سماجی قیادت وہ راستے ہیں جہاں دیانت دار اور اہل نوجوان نظام کو اندر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ تنقید آسان ہے، تعمیر مشکل مگر ضروری ہے۔

یہ کالم کسی خواب کی تشہیر نہیں بلکہ ایک حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان کا نوجوان اگر خود پر یقین کر لے، مہارت کو شعار بنا لے اور وقتی مایوسی کے بجائے طویل سفر کا انتخاب کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک ترقی کی راہ پر نہ گامزن ہو۔ قومیں شور سے نہیں، سوچ سے بدلتی ہیں، اور یہ سوچ آج پاکستان کے نوجوان کے ہاتھ میں ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock