مضامین

*اخلاق کا قرآنی توازن* *نبوی رہنمائی*،..*امام غزالی کی فکراور آج کاانسان*تحریر: ابوسلمان

:انسانی اخلاق کا مسئلہ محض فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، جس پر فرد کی نجات اور معاشرے کی بقا کا دارومدار ہے۔ قرآنِ کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ جس اخلاقی نظام کی بنیاد رکھتے ہیں، امام ابو حامد الغزالیؒ نے اسی کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان کیا کہ انسانی اخلاق تین قوتوں کو اعتدال میں رکھنے کا نام ہے: قوتِ علم، قوتِ غضب اور قوتِ شہوت۔
یہ تینوں قوتیں انسان کے اندر امانت کے طور پر رکھی گئی ہیں، اور قرآن و سنت کی تعلیم یہی ہے کہ ان کو دبایا نہیں بلکہ راہِ ہدایت کے تابع کیا جائے۔
1:*قوتِ علم بصیرت کا چراغ*
قوتِ علم انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کرتی ہے۔ قرآنِ کریم علم کی قدر و منزلت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
(کہہ دیجیے! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟)
ــ سورۃ الزمر: 9
لیکن قرآن یہ بھی سکھاتا ہے کہ علم کا اصل مقصد محض معلومات نہیں بلکہ خشیتِ الٰہی ہے:
﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾
(اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں)
سورۃ فاطر: 28
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
(اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے)
صحیح بخاری
امام غزالیؒ کے نزدیک علم اگر عاجزی، حکمت اور عمل سے خالی ہو تو وہ روشنی کے بجائے فتنہ بن جاتا ہے۔ آج کا انسان علم رکھتا ہے مگر بصیرت سے محروم ہے، اسی لیے عقل مفاد کی غلام بنتی جا رہی ہے۔
2:*قوتِ غضب غیرتِ حق کی محافظ*
غضب اگرچہ ایک سخت جذبہ ہے، مگر قرآن و سنت اسے کلیتاً رد نہیں کرتے بلکہ اس کی اصلاح اور سمت درست کرتے ہیں۔ قرآن اہلِ ایمان کی ایک عظیم صفت یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ﴾
(وہ غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں)
ــ سورۃ آلِ عمران: 134
نبی اکرم ﷺ نے طاقت کی حقیقی تعریف یوں فرمائی:
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ»
(طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں گرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے)صحیح بخاری
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ غضب اگر حق کے تابع ہو تو شجاعت بنتا ہے، اور اگر نفس کے تابع ہو جائے تو ظلم اور فساد میں بدل جاتا ہے۔ آج کا معاشرتی انتشار، عدم برداشت اور تشدد اسی بے لگام غضب کا نتیجہ ہے۔
3:*قوتِ شہوت خواہشات کی تہذیب*
قوتِ شہوت انسانی فطرت کا حصہ ہے، مگر اسلام اس کو حدود و قیود کا پابند کرتا ہے۔ قرآنِ کریم واضح ہدایت دیتا ہے:
﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ﴾
(اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور نفس کو خواہش سے روکا، اس کا ٹھکانا جنت ہے)
ــ سورۃ النازعات: 40-41
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ»
(دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اور اللہ تمہیں اس میں آزمائش کے لیے بھیج رہا ہے)صحیح مسلم
امام غزالیؒ کے نزدیک شہوت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کی تربیت ضروری ہے، کیونکہ بے قابو خواہش انسان کو حیوانیت کی طرف اور مہذب خواہش انسان کو روحانیت کی طرف لے جاتی ہے۔
نتیجہ اخلاقی توازن ہی نجات کا راستہ
قرآن، سنت اور امام غزالیؒ کی فکر ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ
اصل اخلاق ان تینوں قوتوں کے درمیان توازن کا نام ہے۔
جب:
علم، خشیتِ الٰہی میں ڈھل جائے
غضب، غیرتِ حق بن جائے
اور شہوت، تقویٰ اور قناعت کے تابع ہو جائے
تو انسان نہ صرف اچھا مسلمان بنتا ہے بلکہ ایک صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
اسی توازن کے بغیر ترقی، آزادی اور طاقت سب کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں۔
آج کے بحران زدہ انسان کے لیے اگر کوئی حقیقی نجات ہے تو وہ قرآن، سنت اور امام غزالیؒ کے اس سنہری اخلاقی اصول میں پوشیدہ ہےوہی اصول جو انسان کو اس کی اصل پہچان لوٹا دیتا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock