آواز اقبال

تیسری عالمی جنگ دنیا کی دہلیز پر کھڑی ہے ۔ اقبال عیسیٰ خان

 

آج ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے دنیا کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانیت ایک بار پھر عالمی جنگ کی دہلیز پر آن کھڑی ہوئی ہو۔ فضا میں بارود کی بو ہے، خبروں میں دھماکوں کی گونج ہے، اور دلوں میں ایک انجانا خوف سرایت کر چکا ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کے یہ واقعات محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں، بلکہ ایک ایسی چنگاری ہیں جو اگر شعلہ بن گئی تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے وسیع حملوں کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں آسمان میزائلوں کی لکیر سے بھر گیا، زمین گولوں کی گرج سے کانپ اٹھی، اور ہر طرف اضطراب پھیل گیا۔ انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی دنیا نے جنگ کا راستہ اختیار کیا، اس کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔ پہلی عالمی جنگ، جو ۱۹۱۴ سے ۱۹۱۸ تک جاری رہی، تقریباً ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو نگل گئی۔ لاکھوں زخمی ہوئے، بستیاں اجڑ گئیں، اور ماؤں کی گودیں ہمیشہ کے لیے خالی ہو گئیں۔ زمین نے جوان لاشوں کو اپنے اندر سمو لیا اور فضا میں آہوں اور سسکیوں کی بازگشت رہ گئی۔
پھر دوسری عالمی جنگ آئی، ۱۹۳۹ سے ۱۹۴۵ تک پھیلی وہ قیامت جس نے چھ کروڑ سے زائد انسانوں کی جان لے لی۔ شہر راکھ بن گئے، خاندان بکھر گئے، اور ایٹمی ہتھیاروں نے لمحوں میں زندگی کو مٹا دیا۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقے کھنڈرات میں بدل گئے۔ زندہ بچ جانے والے لوگ اپنے پیاروں کی یادوں کے ساتھ عمر بھر کا درد لیے جیتے رہے۔ انسانیت نے اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں خود کو جلایا۔
لیکن افسوس کہ ان خونی اسباق کے باوجود دنیا نے جنگ کو ترک نہیں کیا۔ آج بھی کئی خطے خون میں نہا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین برسوں سے آگ اور بارود کی لپیٹ میں ہے۔ افغانستان، عراق، شام اور یمن کے گلی کوچے بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ معصوم بچوں کی آنکھوں سے معصومیت چھن چکی ہے، گھروں کی جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں، اور ہر طرف خوف کا سایہ ہے۔
اور اب ایران پر حالیہ حملوں نے عالمی جنگ کے خدشے کو اور گہرا کر دیا ہے۔ یہ محض دو یا تین ممالک کا تنازع نہیں، بلکہ ایسی آگ ہے جو بڑی طاقتوں کو آمنے سامنے لا سکتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو تیسری عالمی جنگ کا دروازہ کھل سکتا ہے، اور اس بار تباہی پہلے سے کہیں زیادہ بھیانک ہوگی۔ جدید ہتھیار، ایٹمی قوت اور عالمی اتحاد اس آگ کو پوری دنیا تک پھیلا سکتے ہیں۔
جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں رہی۔ اس کے دامن میں صرف خون ہے، آنسو ہیں اور ویرانی ہے۔ یہ بچوں کی مسکراہٹیں چھین لیتی ہے، ماؤں کے سہارے توڑ دیتی ہے، اور قوموں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ہر جنگ کے بعد امن کی بات ہوتی ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ قبرستان پھیل چکے ہوتے ہیں اور خواب مٹی میں دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔
آج انسانیت کو رک کر سوچنا ہوگا۔ اگر ہم نے عقل و دانش کا راستہ نہ اپنایا تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔ امن ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ مکالمے، برداشت اور انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ آئیے دعا کریں کہ یہ کشیدگی عالمی تباہی میں نہ بدلے، کہ دلوں میں نفرت کی جگہ سمجھ بوجھ پیدا ہو، اور بارود کی جگہ بات چیت کے دروازے کھلیں۔ کیونکہ جنگ کا حاصل کبھی فتح نہیں ہوتا ہے، صرف خونریزی اور تباہی ہوتی ہے۔

 

IqbalEssaKhan@yahoo.com

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO