تازہ ترین

بریپ کے متاثرین سیلاب شنوائی نہیں ہوئی تو ڈی سی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔متاثرین کا پریس کانفرنس

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)سب ڈویژن مستوج کے دور آفتادہ اور پسماندہ علاقہ بریپ کے سیلاب سے متاثرین نے حکومت کی سرد مہری اور مسائل کے حل میں عدم دلچسپی پر نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریپ گاؤں میں قیامت صغریٰ برپا ہوگئی اور 90گھرانے مکمل طورپر اور 120گھرانے جزوی طوپر برباد ہوگئے اور ہزاروں افراد کھلے اسمان تلے رہ گئے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اب تک صرف چند کلو گرام آٹا،گھی اور دال کی سوا کچھ نہیں ملا۔چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یارخون ویلی کے عمائدین میر رحیم،شکیل احمد،حکیم بابر الدین اور صاحب نادر ودیگر نے کہا کہ متاثرہ گھرانے کے لوگوں کے لئے آنے والے سردیوں میں پناہ کی کوئی جگہ نہیں جوکہ فی الحال خیموں میں رہتے ہیں اور برفباری میں خیموں کے اندر قیام ممکن نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال دیا ہے۔کیونکہ سیلاب نے ان کا سب کچھ تباہ کرکے رکھ دی ہے۔ اگر ان کی مزیدکوئی شنوائی نہیں ہوئی تو وہ بال بچوں کے ساتھ ڈی سی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھنے پر مجبور ہونگے۔اُنہوں نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے بریپ گاؤں کو اپنے پیکیج میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب بریپ گاؤں کوِ لسٹ سے نکال دینے کی خبریں آرہی ہیں جوکہ ناقابل فہم بات ہے کیونکہ اس ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں بریپ ہے۔بریپ کے متاثرین سیلاب نے کہا کہ گاؤں کے سرکاری گدام میں گندم موجود ہے لیکن اسے خریدنے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں،جبکہ ورلڈفوڈ پروگرام بھی ان کو امداد دینے سے انکاری ہے۔اور اس خبر نے گاؤں میں مایوسی کی لہر پھلادی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ضلعے کے منتخب نمائندے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین اور ایم پی اے سردار حسین نے علاقے کا دورہ کرکے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن اب تک کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوااور ان کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ آبنوشی اور آبپاشی کے تمام نظام اور انفراسٹرکچر سیلاب برد ہوچکے ہیں۔جن کی بحالی کے بغیر ان کی زندگی ممکن نہیں ہے۔جبکہ ان کی بحالی عوام کی بس سے باہر ہے۔اہالیان بریپ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کو کاغ لشٹ میں زمین الاٹ کرکے ان کی آباد کاری کی جائے کیونکہ بریپ گاؤں میں متاثرہ گھروں کی جگہوں میں دوبارہ تعمیر ممکن نہیں ہے اور دوبارہ گھر تعمیر کرنے پر اگلے سال دوبارہ سیلاب برد ہونے کا قوی خطرہ موجود ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد ایک مہینے تک سب ڈویژن مستوج روڈبند رہی جس کی وجہ سے علاقے کے عوام مختلف این جی اوز اور مخیر حضرات کے امداد ی سامان سے بھی محروم رہے اوراب سیلاب متاثرین کے پاس صرف ایک ایک عد د ٹینٹ کے سوا کچھ بھی نہیں جبکہ بعض متاثرین مذکورہ ٹینٹ بھی بھیجنے پر مجبور ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق