تازہ ترین

کمشنرملاکنڈعثمان گل کاتفصیلی دورہ چترال

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس ) کمشنر ملاکنڈ عثمان گل نے چترال کے تفصیلی دورے پر پہنچنے کے فوراً بعد عبدالوالی خان بائی پاس روڈ پر جاری کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر سے جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق کمشنرنے بائی پاس روڈ کے بعد چترال پبلک لائبریری کا بھی دورہ کیا اور اس میں جاری کام پر اطمنان کا DSC00719اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایات بھی دیں کہ مقررہ وقت پر کام کو مکمل کیا جائے۔انہوں نے بعدازاں ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں اس سال لواری ٹنل کی بند ش اور اسکے چترال پر ممکنہ اثرات اور ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کرنے کے حوالے سے ایک نہایت ہی اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لواری ٹنل پراجیکٹ اور چترال کے سرکاری محکمہ جات کے سربراہان نے بھی شرکت کیں۔ ڈپٹی کمشنر چترال کی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ کے بعد کمشنر ملاکنڈعثمان گل نے یہ ہدایات دیں کہ متعلقہ محکمے خاص کر کے محکمہ خوراک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے ذمہ دارن ضرورت کے مطابق اشیاء خوردہ نوش اور پٹرولیم مصنوعات کو جلد از جلد ذخیرہ کریں تاکہ مشکل موسمی حالات میں عوام کی خوارک تک رسائی ممکن رہے۔ اس کے علاوہ کمشنر نے پی ۔ٹی لواری ٹنل پراجیکٹ کو بھی ہدایت کر دی کہ وہ صوبائی حکومت کے جاری کر دہ شیڈول کے مطابق ان مذکورہ دنوں میں یعنی منگل اورجمعہ کو لواری ٹنل کو عام آمدورفت کے لے فراہمی کو یقینی بنائے۔اپنے دورے کے دوسرے دن کمشنر نے ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچرز ی بحالی سے متعلق ایک غیر معمولی میٹنگ کی صدارت کی جس میں تمام لائن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان نے شرکت کی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال کو بحالی کے کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ بعد میں کمشنرملاکنڈ ڈویژن نے مختلف محکموں کے سربراہان کو لیکر وادی کالاش کے سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے بمبوریت کا دورہ کیا اور علاقے کے عمائد ین سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور متعلقہ محکمو ں کو ہدایت جاری کر دیں کہ وہ علاقے کے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔انہوں نے بمبوریت میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی اشیاء تقسیم کیں اور مزید تعاون کا یقین دلایا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق