ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا ….مسترد ووٹ

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ…..


منگل 10 نومبر کے اخبارات میں دلچسپ خبر آگئی ایک دن پہلے قومی اسمبلی کے ایوان میں سپیکر کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالتے قومی اسمبلی کے ایک معزز ممبر نے جان بوجھ کر اپنا ووٹ مسترد کر وایا ووٹ کی پرچی پر مقررہ جگہ نشان لگانے کے سوا کچھ بھی لکھنا ممنو ع ہے کوئی بھی لکیر یا تحریک ووٹ کو مسترد کر وادیتی ہے معزز ایم این اے اپنے قیمتی ووٹ کی پرچی لیکر اندر گیا اُس نے کسی اُمیدوار کے حق میں نشا ن نہیں لگا یا نشان لگانے کے بجائے اُس نے ووٹ کی پر چی پر خط لکھا اسی طرح اُ ن کا ووٹ رائے شماری کے وقت مسترد ہوا ہمیں اس سے غرض نہیں کہ جیتنے والے کو کتنے ووٹ ملے اور ہارنے والے کو کتنے ووٹ ملے ہمیں اس سے بھی غرض نہیں کہ معزز رکن اسمبلی نے اپنا ووٹ جان بوجھ کر کیوں مستر د کروایا ؟ہماری دلچسپی اُس عبارت میں ہے جو معزز رکن اسمبلی نے ووٹ کی پرچی پر لکھا انہوں نے ووٹ کی پرچی پر پاکستان سے ،پاکستان کے پارلیمنٹ سے ، پاکستان کے آئین سے اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے بیزاری اور نفرت کا ایسا اظہار کیا جیساہمیں ڈاکٹر دانش اور حسن نثار کی تقریر وں او رتحریروں میں ملتا ہے معز ز رکن اسمبلی نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کو ووٹ دینے پر ترجیح دی یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا شخص ایم این اے کیوں منتخب ہوا؟ ایسا شخص قومی اسمبلی میں کیوں بیٹھا ہوا ہے ؟ میرے دوست فلٹر بابا نے اس سوال کا مختصر جوا ب دیا ہے وہ کہتا ہے کہ اسمبلی کے اندر 30 ایسے ارکان بھی بیٹھے ہیں جنہوں نے 126 دنوں تک میڈیا کے سامنے پارلیمنٹ کو گالیاں دیں قومی اسمبلی کو جعلی اسمبلی قرار دیا اور قومی اسمبلی کی عمارت پر باقاعدہ حملہ کیا اُن میں ا یک بزرگ ایسے ہیں جو دوبار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو ئے اور ایک بزرگ ایسے ہیں جو 1985 ؁ء سے 2015 ؁ء تک 30 سالوں میں7بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں اور 6 بار وفاقی وزیر کے عہد ے پر فائز رہے شیخ رشید احمد اور عمران خان نے جو کام اعلانیہ کیا تھا اگر جمشید دستی نے وہ کام خفیہ کیا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ ایک رکن اسمبلی کو جعلی ڈگری کی وجہ سے عدالت نااہل قرار دیتی ہے وہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر دوبارہ اور سہ بارہ منتخب ہوتاہے تو اُس کا حق بنتا ہے کہ پاکستا ن سے بدلہ لے لے پارلیمنٹ سے بد لہ لے لے مگر فلٹر با با نے پہلے سوال کا جواب دینے کے بعد دوسرا سوال اُٹھا یا ہے اُ ن کا سوال یہ ہے ووٹ کی پر چی پر اپنے ملک کو گولی دینے پر سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اس سوال کا جواب ہم دیتے ہیں وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نا م پر وجود میںآیا یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق ملزم کی مالی استعداد اور استطاعت کے مطابق اُس کو شک کا فائد ہ دیا جاتاہے نیز اسلامی شریعت کے مطابق ملزم اور مجرم کی مالی حالت کو دیکھ کر خون بہا کے بدلے مجرم کو چھوٹ دی جاتی ہے کھرب پتی تاجر منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں رنگے ہاتھوں مال کے ساتھ پکڑا جائے تو اُس کو سزا نہیں ہوتی دن دیہاڑے بھر ے بازار میں کھرب پتی شخص کا بیٹا یا غیر ملکی دولت مند شخص ایک نوجوان کو یا تین نوجوانوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کرتا ہے پکڑا جاتاہے مقدمہ چلتا ہے مگر سزا سے بچ جاتاہے 40 من چرس ،10 کلو ہیروئین ،5 لاکھ ڈالر یا 300 کلاشنکوف سمگل کر نے والا مجرم سزا نہیں پاتا غریب نوجوان کا دولت مند قاتل با عزت بری ہوجاتاہے پاکستان کو ، پارلیمنٹ کو ، آئین کو اور سیاسی جماعتوں کو گالی دینے والا کس قانون کے تحت کس عدالت سے سزا پائے گا ؟ اور کیونکر سز پائے گا ؟ قومی اسمبلی کے ایوان میں سپیکر کے انتخاب کے لئے پیر 9 نومبر کو ڈالے گئے 300 ووٹوں میں سے ایک مسترد ووٹ ہمارے ملکی آئین ،قانون اور عدالتوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے اگر مسترد شدہ ووٹ کا سراغ نہیں لگا یا گیا ، اگر مسترد ووٹ پر پاکستان کے خلاف نعرے لکھنے والے کو سزا نہیں دی گئی تو مایوسی پھیلانے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جمشید دستی ،حسن نثار اور ڈاکٹر دانش جیسے شہری جس طرح مایوسیاں پھیلاتے ہیں اُ ن پر مفکر پاکستان علامہ اقبال کا ایک شعر صادق آتا ہے
شاعر کی نو ا ہو یا مغّنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو، وہ باد سحر کیا !

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق