تازہ ترین

دروش میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن کے حوالے سے وضاحتی بیان

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) جمعیت علماء اسلام دروش کے سابق عہدیداران صلا ح الدین طوفان، قاری فضل حق، قاری مبارک ، حافظ کاشف جمال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ مورخہ 28فروری کو جمعیت علماء اسلام کے بعض کارکنان کی کوششوں سے مدرسہ قاسم العلوم دروش میں ورکرز کنونشن کا اعلان کیا گیا ہے اور اس بابت خاص و عام کو شرکت کی دعوت بذریعہ اشتہار دیا گیا ہے۔ چونکہ ضلع چترال میں جمعیت علماء اسلام واضح دو گروپوں میں تقسیم ہے، ضلعی کابینہ تحلیل ہے جبکہ تحصیل دروش کابینہ اور تمام یو سی دستور جمعیت کے مطابق خود بخود تحلیل ہوئے ہیں۔مذکورہ کنونشن کیلئے دعوت نامے میں دستخط سابق سنیئر نائب امیر کی طرف سے تھا جسکی بناء پر دوسرے گروپ اس کنونشن کے انعقاد کو غیر دستوری قرار دیکر کنونشن کے خلاف تھے۔ چونکہ 27فروری کو قاری جمال ہاؤس میں ہنگامی بنیاد پر ایک اجلاس زیر صدارت مہتمم مدرسہ قاسم العلوم مولانا محمد شاہ منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بحیثیت میزبان مولانا محمد شاہ نے مخالف گروپ کو یقین دلائی کہ یہ کنونشن مدرسہ قاسم العلوم کے ناظم اور دوسرے جماعتی ورکروں نے ترتیب دی ہے ، یہ کنونشن تحصیل کابینہ کی طرف سے نہیں ہے کیونکہ ازروئے دستور کابینہ تحلیل ہے لہذا جمعیت علماء اسلام کے بہترین مفاد اور کارکنوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کیلئے یہ فیصلہ ہوا کہ کنونشن کا کامیاب بنایا جائے ۔ دونوں فریق کے کارکنا ن اور اکابرین باہم اعتماد کو یقینی بنائیں ۔ جمعیت کے اختلافات کے بارے میں صوبائی اور مرکزی فیصلوں کا انتظار کریں نیزکوئی گروپ جب بھی چاہے اس مدرسہ میں پھر سے کنونشن کا انعقاد کرے۔ اس ہونے والے کنونشن میں ضلعی باڈی یا تحصیل باڈی کا نام استعمال نہیں ہو گا اور نہ ہی اس بابت کسی گروپ کے حق میں یا مخالفت میں قرارداد ذکر ہو گا۔لہذا اس معاہدے کے مطابق مخالف گروپ کا کنونشن پر اعتراض نہیں ہوگا بلکہ کنونشن کو جمعیت کے حق میں بہترین فائدہ تصور کیا جائیگا لہذا مخالف فریق اپنا کنونشن اسی مرضی کے مطابق جب چاہے کرے۔ اس قرارداد کو میڈیا تک پہنچایا جائے تاکہ مزید غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق