تازہ ترین

ضلع کونسل کے دوروزہ اختتامی اجلاس کی کاروائی

چترال( نمائندہ چترال ایکسپریس )ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ چترال کے بہترین مفاد کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر آگے چلیں۔یہ بات اُنہوں نے ضلع کونسل کے دوروزہ اجلاس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اُنہوں نے کہا کہ سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں نے پورے ضلع کا نظام ہی تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔اُنہوں نے ممبران کی تحفظات پر بتایا کہ سیلاب اور زلزلے کی تباہی کے بعد جو حکومتی امداد آئی کہاں خرچ ہوئے اور کتنے بحالی کے کام ہوئے تمام سرکاری ادارے اس کے جواب دہ ہیں اور مختلف محکموں کیلئے کونسل کے ممبران کی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔اس سلسلے میں مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کے78 بعدہی کچھ کہا جاسکتاہے۔اُنہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کی طرف سے ڈھائی کروڑروپے کی اسکیموں کی تفصیلات مل چکے ہیں ۔کونسل کے اجلاس میں ممبران نے فنڈ کی مساوی تقسیم ،لینگ لینڈ سکول کو ایک چار رکنی سوسائٹی کے حوالے کرنے کی ایجوکیشن کی طرف سے وزیراعلیٰ کو بھیجے گئے سمری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔لینگ لینڈ سکول کو سوسائٹی کے حوالے کرنے کے بارے میں کونسل نے متفقہ قرارداد پاس کیا۔کہ مذکورہ سکول اینڈ کالج کے ساڑھے چار ارب روپے کے اثاثے کسی بھی صورت سوسائٹی کے حوالے کرنے نہیں دیا جائے گا۔اس کی بھرپور مذاحمت کی جائے گی۔اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑایچ نے کہا کہ ریلیف کے بارے میں کافی مشکلات ہیں تاہم وزیراعظم کے حکم کے مطابق تین دن کے
اندر متاثرین کو ریلیف کے رقم دینے تھے۔تین دن میں14ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے متاثرین کے نقصانات کے بارے معلومات اکھٹے کرنا آسان نہیں تھا۔پھر بھی ہم نے اُن نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل کئے اور18414 لوگوں کو2ارب 19کروڑ کے امدادی چیک تقسیم کئے۔اُنہوں نے کہا کہ سیلاب اور زلزلے سے نقصانات کا تخمینہ لاگت16سے 17ارب روپے ہے تاہم صوبائی حکومت نے اتنے بھاری رقم دینے سے معذرت ظاہر کی ہے۔ایسے میں ریلیف کی مد میں مزید امداد کا تقاضا کرنا بے سود ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آئیندہ ایک مہینے کے اندر چترال،بو نی روڈ،گرم چشمہ روڈ،بمبوریت روڈ ،دریائے چترال اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلاب بردہونے کاخطرہ ہے اس لئے ضلع کونسل سے اپیل ہے کہ وہ کونسل کی فنڈ سے ان سڑکوں کی مرمت کا بندوبست کریں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق