ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )….’’مقصد ہی زندگی ہے‘‘

…… ( ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)…….


جب میں سونے کیلئے بستر پر لیٹا تو ایک خیال نے میرے ذہن میں ہلچل مچادی کہ آخر میرا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟میں سوچنے لگا سارا دن کھا پی لیا ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگالیا ، گھوم پھر لیا ، پڑھ لیا اور پھر سو گئے۔ کیا یہی زندگی ہے؟ آخر انسان کا اس دنیا میں آنے کاکوئی مقصد تو ہوگا ۔ مقصد یہی زندگی ہے۔ کیونکہ بے مقصد زندگی گزارنے والے لوگ کبھی اللہ کے پسندیدہ بندے نہیں ہو سکتے ، انسان کا مقصد ہی اُسے زندہ و توانا رکھتا ہے۔
یہ سوچتے سوچتے میرا دھیان ایک کتاب کی طرف پڑھی ’’ابو بن ادھم‘‘کی اس نظم کی طرف چلا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ خدا ان سے محبت کر تا ہے جو اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں ۔اُن کی خدمت کرتے ہیں اور مصیبت میں اُ ن کے کام آتے ہیں۔
خدا کے بندے تو ہے ہزاروں بنوں میں پھرتے ہے مارے مارے
میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
ایک دن جب میں بہت زیادہ الجھن کا شکار ہوگیا اور مجھے اپنی زندگی بے مقصد نظر آئی ۔ تو اپنے ایک استاد سے مدد لینے کا فیصلہ کیا، اور استاد سے جاکر بات کی تو انہوں نے کہا کہ بیٹا آج تم عصر کی نماز کے بعدمیرے کمرے میں آنا پھر تفصیل سے بات کریں گے ۔ اور استاد کے ساتھ میرا روّیہ دوستوں کی طرح تھا اسی لئے میں دل کی ہر بات اُن سے شئیر کر لیتا تھا۔میں عصر کی نماز کے بعد استاد جی کے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد استاد جی نے کہا ۔جی بیٹا! ’’زندگی کے مقصد کے بارے میں جاننا چاہتے ہوں نا۔۔۔‘‘میں بول پڑا ’’جی استاد جی‘‘ استاد جی کہنے لگے ’’ اصل میں ہر طرف افراتفری اور مایوسی ہے ، گھر میں ، سکول میں، محلے میں اور پھر ملک میں۔۔۔ ایسے میں ہم اتنی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہمیں زندگی بے مقصدمحسوس ہونے لگتی ہے اور ایسا اس لئے بھی ہوتاہے کہ ہم ہر طرف سے مایوس ہو جاتے ہیں، اور نا امیدی کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔۔حالانکہ یہ سب ہماری سوچ کی پیداوار ہے۔ اس دگر گوں اور مایوس کن ماحول میں بھی کچھ لوگ زندگی کا مقصد پا لیتے ہیں۔۔ وہ اپنی مقاصد حاصل کر لیتے ہیں، تو اس کا وجہ یہ ہے کہ وہ اس خود غرضی اور افراتفری کے ماحول کو خود پر حاوی نہیں کرتے ۔۔اور اپنامقصد حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔۔ یعنی کہ یہ سب ہماری سوچ کا کیا دھرا ہے‘‘ یہ کہتے کہتے استاد جی کو کھانسی آگئی تو میں نے میز پر رکھی جگ سے انہیں ایک گلاس پانی دیا ۔ چند لمحے کے توّقف کے بعد وہ دو بارہ بولے’’ میں تمہیں ایک ننھی منھی سی کہانی سناتا ہوں۔ایک باپ اور بیٹا پہاڑوں کے درمیان چلے جارہے تھے کہ اچانک بیٹے کو ٹھوکر لگی اور اس کے منہ سے زور سے آواز نکلی’’ آآآہ‘‘ اس کے ساتھ ہی اُسے’’آآآہ‘‘کی ایک اور آواز بھی سنائی دی جو بالکل اس کی آواز سے مشابہہ تھی وہ حیران ہوا ۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن اسے کہی بھی کچھ نظر نہ آیا ۔ لڑکے کو غصہ آگیا ، اس نے سمجھا کوئی دوسرا اس کی نقل اُتار کر اس کے گرنے پر خوش ہو رہا ہے۔ اس نے چیخ کر کہا ’’ کون ہے بد تمیز‘‘ دوسری طرف سے بھی جواب آیا’’ کون ہے بد تمیز‘‘ وہ پھر زور سے چیخا ’’ بزدل! سامنے آؤ‘‘ دوسری طرف سے بھی جواب آئی ’’ بزدل!سامنے آؤ‘‘اس نے حیران نظروں سے باپ کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ ’’ یہ کیا ہو رہاہے‘‘۔
باپ نے کہا ’’ بیٹے! ذرا اب میری طرف توجہ دو ‘‘ باپ نے زور سے آواز لگائی’’ مجھے تم پر بہت فخر ہے ‘‘ آواز آئی دوسری طرف بھی’’ مجھے تم پر بہت فخر ہے‘‘ باپ نے پھر آواز لگائی ’’تم بہت اچھے ہو‘‘ دوسری طرف پھر آواز آئی ’’ تم بہت اچھے ہو‘‘ بیٹے نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن اُسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ دوسری آواز کہاں سے آرہی ہے۔
تب باپ نے مسکرا کر کہا ’’ یہ جو دوسری آواز آتی ہے لوگ اسے ’’صدائے باز گشت‘‘ کہتے ہیں لیکن یہ در اصل زندگی ہے۔ آپ جو کہیں گے ، زندگی پلٹ کر آپ سے وہی کچھ کہے گا ۔ آپ جو طرزعمل اختیا ر کرو گے ، وہی طرز عمل آپ کے سامنے آئے گا ۔ مختصراََ یہ کہ ہماری زندگی ہمارے اعمال ہی کا عکس ہوتی ہے‘‘ یہ کہانی سناتے ہوئے استاد جی ایک لمحے کو رُکے ، پھر بولے ’’ آپ مثبت سوچیں گے ، مثبت کریں گے تو جواب میں آپ کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا ۔ مکافات عمل اسی کا نام ہے ، اسی لئے بیٹا یاد رکھو ۔ زندگی کا مقصد بھی دوسروں کے کام آنا ہے، خدا کے بندوں سے پیار کرنا ہے ۔
میں چونک اٹھا ، جی استاد جی! میری کوشش ہوگی کہ میں آئندہ زندگی کے ہر معاملے میں دوسروں کے بارے میں اچھا سوچوں اور اچھا کروں۔ میں نے فرمانبرداری سے استاد جی سے کہا۔استاد جی بولے بیٹا! دنیا میں کوئی چیز بھی اپنے آپ کیلئے نہیں ہے، دریا خود اپنا پانی نہیں پیتے ، درخت خود اپنا پھل نہیں کھاتے، سورج اپنے لئے حرارت نہیں دیتا ، پھول اپنی خوشبو اپنے لئے نہیں بکھیرتے ۔۔۔ اس لئے کہ دوسروں کے کام آنا ، دوسروں کیلئے ہی جینا اصل زندگی ہے۔ بیٹا! یاد رکھنا اللہ تعالیٰ بے مقصد لوگوں کو زمین کا بوجھ سمجھتا ہے ۔ چنانچہ ان کی زندگی میں برکت اور سکون ختم ہو جاتا ہے ۔ نیکی انسان کی صحت اور صدقہ زندگی میں اضافہ کر تاہے۔ جو لوگ زندگی کا مقصد تلاش کر لیتے ہیں وہ خوبصورت ، توانا اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔ اور یہ بات تو ذہن میں بٹھا لوکہ اچھا انسان ، اچھی کتاب اور اچھی گفتگو جہاں میّسر آئے، اس میں دوسروں کو بھی شریک کرو کیونکہ ان سے تنہا فائدہ اٹھانا بد دیانتی ہے۔
استاد جی ایک لمحے کو ٹھہرے اور میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ اس دوران میں جذبات سے بھر پور لہجے میں اپنی نشست سے کھڑے ہو کر بولا’’ جی استاد جی۔۔۔ آپ نے میری ایک بڑی الجھن حل کردی ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ اپنی زندگی اور دوسروں کی بھی اپنے جیسے انسانوں کی مدد اور کام آنے والی بن جائے کیونکہ اس سے بڑا انسانی زندگی کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ ۔ کہ خلق خد ا کے کام آیا جائے۔۔‘‘
استاد جی مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں کھولیں اور میں ہنس کے اُن کے گلے لگ گیا ۔
نیکی انسان کی صحت اور صدقہ زندگی میں اضافہ کر تاہے۔۔ یہی قسمت کا بہترین اصول ہے۔ ’’ استاد جی نے میرے چہرے کی طرف دیکھا ’’ انہیں لگاکہ شادؔ اپنی زندگی کا مقصد پا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق