پروفیسر شفیق احمد

نفاذ اُردو کی راہ میں سماجی رُکاوٹیں اورکہوار کا مستقبل

چترال کی سر زمین قدیم آیام سے مختلف حکومتوں کاحصہ رہ چکا ہے ، قدیم گزرگاہ ہونے کی وجہ سے مختلف شعبہ ہائے  زندگی سے تعلق رکھنےوالے  باشندوں کا مسکن رہاہے۔کیلاش قبیلہ انکی قدامت کی عکاسی کرتا ہے۔جب آریائی نسل کے با شندے۲۵۰۰ قبل از مسیخ میں اس خطے  کے اندر داخل ہو گئے ،تو اُس وقت یہاں ایک قدیم وحشی پاسیجا باشندےآباد تھے ۔اُنکی زبان کو  پاسیچا  یا  داردِک  کے نام سے پکارا گیا ہے ۔تو اسکا مطلب ہے کہ اس سے قبل بھی قدیم  تہذ یب  سے وابستہ باشندوں کی آماجگاہ رہ چکی ہوگی۔ مُختلف زبانوں کے اثرات اس وادی کی سب سے بڑی زبان کہوارمیں شامل ہو چکے ہونگے۔اُن میں قدیم  مقامی  داردِک زبانیں کہوار یا آرنیا،کلاشیاء،شینا،گواربتی  یا  نارستی،کوہستانی ،پاشیاء،دیری،تیرائی،کشمیری اوربشگالی زبانوں کےعلاوہ بیرونی زبانیں سنسکرت ،چینی ،ترکی،عربی اور فارسی زبان کے گہرے اثرات موجود ہونگے ۔قدیم مقامی داردک زبانوں میں      کہوار یا ارنیا،اور کیلاشیاء زبانیں پہاڑوں کے درمیان کم بیرونی مداخلت  کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں قائم ہیں ۔ان قدیم  داردک زبانوں پر دیگر بیرونی زبانوں کے گہرے اثرات پڑنے کی وجہ سے اپنی اصلیت کو کھو چکے ہیں ۔اسکے علاوہ یہ علاقہ بعض بیرونی زبانوں کے زیر اثر رہ چکاہے۔ یہ خطہ ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے انکی سلطنت  کابالائی  حصہ رہ چکا ہے۔  جس کی وجہ سے کہوار میں    فارسی زبان کے بڑے گہرے اثرات  نظر آتے ہیں ۔ فارسی مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان تھی،اس وجہ سے اس خطے میں فارسی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔اس خطے میں  خالص مُبلغین کی زبان اُردو بھی اپنی روحانی،ادبی اور سیاسی  زبان بنے  کی وجہ سے بہت جلد سرکاری زبان کی  حئیثت حاصیل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔انگریزوں کی آمد کے بعد برصغیر و پاک وہند میں اُردو کو بہت پذیرائی ملی اور اُردو کو سرکاری زبان کی حیئثیت مل گئی ۔چترال میں انگریزوں کی آمد کے بعد اُردو کو شہرت ملی، کیونکہ انگریز اُردومیں گفتگو  کرکے لوگوں کے مسائل سنتے تھے ،اس بناءپرفارسی  کی جگہ اُردوزبان آہستہ آہستہ رائج ہو گئی ۔ چترال میں  فارسی کے بعداُردو بہت تیزی سےمقام پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔آج کہوار کے بعد اُردو اس وادی کی سب سے بڑی   عام فہم زبان بن گئی ہے ۔چترال کے باشندوں کے لئے  ایک قسم کی مادری زبان کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔اسکی اصل وجہ انگریزوں کی آمد کے علاوہ ہائی سکول چترال بھی ہے ،جو کہ سر ناصر الملک مہتر چترال کی طرف سے اپنے باشندوں کے لئے ایک عظیم تحفہ تھا ۔1جسکی بُنیاد ۱۹۳۷ ء میں رکھی گئی اور اس سکول میں اردو ذریعہ تعلیم تھا ۔تمام مضامین اُردو میں  پڑھائے جاتے تھے۔۔ اسی درسگاہ نے بڑے بڑے شخصیات پیدا کئے۔تحریک پاکستان میں اور چترال سکاوٹس کی  طرف سے جنگ آزادی کشمیر ۱۹۴۸ ءمیں حصہ لے کر ہمارے بزرگوں نے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔اسکے بعد حق تو یہ تھا کہ تمام تعلیمی نظام کو اُردو میں پڑھاےئےجاتے ،لیکن انگریز قوم سے وفا نبھانے کی خاطر اور غلامی کے لیبل  کو قائم رکھنے کے لئے،ہنوزانگریزی   ذریعہ تعلیم کو  برقرار رکھا گیا ہے ۔آج خدا کے فضل سے عدالت عظمی (سپریم کورٹ)نے یہ فیصلہ سنا  چکا ہے کہ پاکستان کی سرکاری زبان  اُردو ہوگی۔ اُمید کی جاتی ہے کہ عنقریب اُردو ذریعہ تعلیم  کا فیصلہ بھی   سنایا جائے گا۔


سندھ باب الاسلام اور سُپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

ہمیں بحیثیت پاکستانی قوم عدالت عظمی(سُپریم کورٹ) کے اس تاریخ ساز فیصلے کو شکریہ کے ساتھ سلام بھی پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس نے  عظیم تر قومی مفاد اور آئینی تناظر کی روشنی میں جو فیصلہ کر چکا ہے  ، جس کے تحت اُردو کو سرکاری زبان کی حیثیت مل گئی ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے اگر غور سے دیکھا جائے ،تو انگریز نواز معاشرے میں اس سے اِتنی  پذ یرائی  نہیں ملی جتنی ملنی   چاہئے تھی۔ کیونکہ اس معاشرے میں پہلا طبقہ وہ  پاکستانی والدین ہیں، جو اپنے بچوں کو انگریزی خواں اس لئے بنانا چاہتا ہے،تاکہ اُسکے بچےا،ب ,ت ,ث پڑھنے والے پست طبقے میں شمار نہ ہوں۔ اس معاشرے میں دوسرا  طبقہ اُن لوگوں  پر مشتمل ہے، جو خیر مقدم تو کرتے ہیں  ،لیکن انتہائی تذبذب کے شکار ہیں کہ ہماری نجات کس زبان میں اور کونسے ذریعہ تعلیم سے ممکن ہوگی؟ اس میں تیسرا  طبقہ اُن والدین کاہے ،جوخود علم کے خزانے سے بے بہرہ ہیں ،لیکن اپنے بچوں کوہر صورت انگریزی تعلیم دینے کی خواہش میں میدان میں اُتارا ہے، جو کبھی بھی اُردو کی حمایت نہیں کرے گا۔  چوتھا  طبقہ کا تعلق اُن والدین سے  ہے ،جو اُس فیصلے کو  حقیقی آزادی تصور کرکے نہایت قلبی سکون و اطمینان محسوس کرتے ہیں   اور بلا خوف و خطر جشن بھی مناتا ہے۔ میں اُن تمام طبقات کو مخاطب کرتے ہوے یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں  کہ برصغیرو پاک و ہند میں دو چیزیں، ایک اُردو  اور  دوسری چیز پاکستان  مٹنے کے لیے نہیں، بلکہ قائم رہنےکے لیے بنے ہیں ،اِن دو چیزوں کو مٹانے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن  ہر بار ناکامی کا سامنا رہاہے۔ آئیندہ بھی اس قسم کی کوششوں کو کامیابی نہیں ملی گی۔

عربی ہماری روحانی اور  اُردو  ہماری قومی وخطے کی سب سے بڑی زبان ہے۔  عرب ممالک کے مُلحقہ علاقوں میں نومسلم مسلمانوں کواسلامی تعلیمات کے حصول اور اُسکی پر چار کے لئے عربی سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔اسی طرح برصعیرو پاک و ہند  و مُلحقہ علاقوں کے نو مسلم، باشندوں  کو اسلامی تعلیمات کی احیاء اور اسلام کی روشنی پھیلانے کے لئے ،  ُاردو سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاریخی نقط نظر سے بھی دیکھا جاے ،تو ایک نوجوان سپہ سالارمحمد بن قاسم نے دیبل موجودہ کراچی کو فتح  کر کے راجہ داہر کو شکست دے دی  ۔ تو اُس وقت سے تبلیغ کے سلسلہ کا آغاز ہو گیا، اُنکے فوج میں عربی تُرکی اور فارسی بولنے والوں پر مشتمل تھی۔ بیرونی ، مقامی بولیوں اور ہندی کی آمیزیش سے ایک نئی بولی  کی نمو ہوئی ،جسے مختلف زمانے  میں مختلف  ناموں، یعنی ریختہ ،ہندی ،گجری ،دکنی اور اُردو کے نام سے موسوم کیا گیا  اور اخیر کار اُردو نام پا کر، اپنی باقیماندہ  عمر گزار رہی ہے ۔ لفظ اُردو ترکی زبان کا لفظ ہے، اس کا مطلب ہے (لشکر،لشکر گاہ،اُردو بازار ،چھاونی بازار،صدر بازار، بر صعیروپاک و ہند  کی وہ زبان جو مختلف زبانوں سے مل کر بنی ہو) یعنی اُنکی مناسبت سے فوجیوں کی بولی ،بیرونی اور مقامی زبانوں کی ملاپ سے وجود میں انے والی زبان ،مسلمان مُبلغین  کے لئے رابطے کی سب سے بڑی زبان بن گئی ۔   جنہوں نے اسلام کی روشنی کو شمالی ہند اور بنگال تک  پھیلا دی، جہاں اسلام کا کو ئی نام و نشان تک  بھی  نہیں  تھا ۔یقیناً برصغیرو پاک وہند اور وسط ایشاء کی طرف اسلام کی   آمد  ،مُبلغین اورصحابہ کرام اور اولیاء کرام کے ساتھ ساتھ فتوحات کا بھی ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ باب الاسلام سندھ  کے راستے داخل ہونے والے مُبلغین کی نئی بولی( لشکری ) اُردو کو سیکھ کر تبلیغ  کا  سلسلہ جاری رکھا گیا ۔چونکہ وسط ایشیاء کی طرف سے بھی آنے والے مُبلغین کے بارےمیں ” تاریخ چترال “منشی عزیز الدین کی کتاب صفحہ نمبر۲۲،۲۳ میں اسکی طرف اشارے ملتے ہیں ۔”روایت کے مطابق حضرت عثمان غنی کے دور میں بدخشان  سے   دو سردار “سیفینوش” اور “اسفینانوش” کوتورکہو کی طرف بھیجا گیا ۔جو اس زمانے کا بادشاہ بہمن کوہستانی (جے ورمن) کوپکڑ کر بدخشان لے گئے اوراسکومسلمان بنایا گیا، جو بعد میں  بغاوت کی ،لیکن اس پر شدید فوج کشی کی گئی اور اُنکا  پہلا مقابلہ قاقلشٹ اور دوسرافیصلہ کن  مقابلہ کہوت آن سے ہوتے ہوے بریپ قلعہ  میں ہوا اور  گلگت تک اپنی فتوحات کا سلسلہ وسیع کیا  ، اس طرح خطے کا مکمل  صفایا کر کے اسلام کی روشنی پھیلادی گئی ۔اسکے بعد برصعیرو پاک ہند میں مسلمان مُبلغین کےآنے کا سلسلہ جاری رہا  ۔ جنگوں اور دیگر مقاصد  سے اسلام کی روشنی کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ اُردو بھی پھیلتی گئی ۔اور ان گروہوں میں یقیناً عربی ،تُرکی اور فارسی بولنے والوں کی تعداد زیادہ تھی ۔مقامی زبانوں سے اثر لے کر وجود میں آنے والی بولی آہستہ آہستہ ہندوستان کے درباری اور عوامی زبان کی حیثیت اختیار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔مُغل حکمران دولت کی فراوانی اور خوشحالی کی وجہ سے قسم قسم کے قبیح عمل کے مرتکب ہوتے گئے ، اُنکی فہرست تیار کر کے موجودہ  دور کے ساتھ موازنہ کرایا  جا سکتا ہے ۔اُنکے غلط فیصلوں اور انتہائی غفلت کی وجہ سے ، انگریز قوم   ہم سے عظیم اسلامی حکومت کو چھینے میں کامیاب ہو گئی ۔اگرمغل حکمران تاج محل  ،لال قلعہ اورشاہی قلعہ لاہور جیسے  بڑے بڑے  قلعوں کے بجائے درسگاہیں بناتے2تویقیناً اس خطے میں اُنکی بادشاہت  ان حسین قلعوں کے اندر قائم رہتی اور ہم عظیم طاقتور  ملک کے طور پردُنیا  پہچانے جاتے،جس طرح انڈیا آج ہماری  رہی سہی وراثت   کے بل بوتے پر سپُر پاور ہونے کی دعویداری کرہا ہے۔ایک رپورٹ  کے مطابق تاج محل کی آمدنی سے پورے ملک کی معیشت کا انحصار ہے۔ مغل حکمران اپنی رعا یا   کا خیال رکھتے  ،توعادل بادشاہت کی وجہ سے غیر مذہب کے باشندوں  کے لئے قابل قبول ہوتے اورنہ غیروں کی اتنی  ہمت ہوتی، اُسکی بہترین  مثال آپ  کے سامنے یہ ہےکہ  آج اسٹریلیا اوراسکاٹ  لینڈ،جیسے ممالک برطانیہ کی بادشاہت کے زیر اثر رہنے کو  فخر محسوس کررہے ہیں   ۔اس کے بعد انگریز قوم اس خظے میں قدم جمانا شروع کئے، تو اُس وقت اُردوزبان اپنی ارتقا ئی مراحل طے کر چکی تھی اور نووارد گوروں کو اپنی ضرورت کااحساس دلا چکی تھی ۔جو فورٹ ولیم کالج کی شکل میں اُردو کی ترویج وترقی کا ذریعہ بنا، جب انگریز قوم ۱۸۵۷ءمیں مغل تاجدار کو پکڑ کر رانگون کا راستہ دیکھایا گیا، تومسلمانوں سے ہندوؤں کی غداری کی وجہ سے جنگ آزادی میں ناکامی کا   سامنا کرنا پڑا اورانگریز قوم  مُکمل طورہندوستان  پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔  تو ہندوقوم جن کو گوروں کی قربت حاصل تھی ،اپنی مکارانہ چال چلا کر سرکاری زبان اُردو کے بجاے ہندی کو قرار دلوانے میں کامیاب ہو گئی ۔ا س فیصلے سے اُردو اور مسلمان دونوں کی ساکھ بہت نقصان پہنچاگئے، جسے تاریخ “اردو ہندی تنازعہ “کے نام پر یاد کرتی ہے ۔اُسی دوران ایک عظیم انسان سر سید احمد خان جو بیک وقت عالم و فاضل ،سیاستدان ،صحافی اور ادیب بھی تھا۔،اس نے مسلمانوں  حالات زار پر رحم کھا کر،بہ امر مجبوری  دو قومی نظریہ پیش کیا ۔ اس عظیم انسان کے اوپر کُفر کے فتوے لگے لعن طعن کا سامنا رہا ا ور وہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ ُاس وقت  مسلمان  بد ترین غلامی اوربے مروتی کی پست ترین زندگی  سےہر گز واقف نہیں تھےاوراپنے نا عاقبت اندیش بادشاھوں کی سزا بُھگت رہے تھے۔سر سید اور اسکے رفقاء  کے انتہا یئ جانفشانی اور خالص جذبے کے تحت اُنکو ان مشکلات سے نجات دلانےکے لیے اُردو زبان کا سہارا لیا ۔ 3جب “رسالہ تہذیب الاخلاق”کا اجرا ء ہو گیا ،تومسلمانوں کی تاریخی،اخلاقی،اصلاحی،ثقافتی ،تہذیبی دینی ،ادبی اور سیاسی حوالے سے مضامین چھپتے رہے اور غلط فہمیاں دُورکرکےمسلمانوں کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع   کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکے تھے ۔۱۸۵۷ء کے بعد اس عظیم انسان کی کوشسوں کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک پُر امن ماحول میسر آچکا تھا ۔اور مسلمانوں کی مایوسی میں کمی اور جدید علوم تک رسائی  کافی حد تک ہو چکی تھی۔  علی گڑھ کالج اس حوالے سے ایک بہترین مثال ہے ۔اسی پرُ امن ماحول میں ہمارے عظیم راہنما ءقائد اعظم اور مفکر علامہ محمد اقبا ل نے بھی  آنکھ کھولے اور مسلمانوں کی بھر پور وکالت کرتے رہے۔انہوں نے ایک ملک کےتصورکو عملی جامہ پہنانےکے ساتھ ساتھ ،ملک کے لئے نام اور زبان بھی تجویز کر چکے تھے ۔ملک پاکستان کی قومی زبان اُردو کو سرکاری زبان قراردینے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔تحریک پاکستان اور سر سید تحریک بھی اُردو زبان میں چلائی گئی اور آج کے مشکل دور سے نجات بھی اس زبان میں ممکن دیکھائی دے رہی ہےاورآج بھی سر سید تحریک کی اشد ضرورت ہے ،تاکہ غافل باسیوں کا قبلہ اُنکی تاریخ کے بھیانک رُخ کو دیکھا کر درست کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ خداوندپاک برصغیرو پاک وہند میں اسلام کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ایک ملک کو بھی تشکیل پانی تھی ،جسکے لیےزبان بھی ساتھ تیار کر لی گئی تھی۔لیکن باباے قوم نے قیام پاکستان کے بعد انگریزی  زبان کو اخیری انگریز کے جانے تک رائج رکھنے کو کہا تھا۔  اس وقت سے آج تک اُردو زبان اور پا کستان کے ساتھ جو ناراوا سلوک ہوتا رہا،اسکی مثالیں نہیں ملتی ہیں ،اسکی اصل وجہ یہ تھی کہ پاکستان بنے سے آج تک اخیری انگریز اس ملک سے نہیں گیا تھا۔جس کو سُپریم کورٹ نے اپنی راہ پتا  سمیت دیکھا دیا،ساتھ یہ بھی یاد کرایاگیا  کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں ہمارے پاس ایک آزاد ملک  ہے، اسکا نام پاکستان ہے اور ایک قومی زبان ہے اسکا  نام اُردو ہے،اسکے بعد یہ ملک اپکی آماجگاہ نہیں رہی اور  کب تک ریشہ دوانیاں کرتے رہو گے ،کب تک مذہبی،نسلی، لسانی اور علاقائی تفرقہ پھیلاتے رہو گے۔لہذا ہمیں اس عظیم فیصلے پر مزید لیت و لعل سے کام لئے بے غیر اس پر عمل در آمد کرایا جاے ،کیونکہ یہ فیصلہ قوم کی مفاد میں  ہے، تاکہ انے والی  نسل کے گلے سے ذہنی غلامی کے طوق کو نکال باہر پھینک سکے۔

انگریزخواہ معاشرہ اورہماری معیشت

ہماری انگریز خواہی کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کباڑ یعنی پرانی ملبوسات خریدنے والا پہلا ملک بن گیاہے۔ہم اپنے مصنوعات کو ہاتھ نہیں لگاتے ہیں، اسی لیے ہماری صنعت کی حالت ابتر ہے۔ ہم زرغی ملک ہونے باوجود بھی گندم امریکہ سے منگواتے ہیں ،انگور چائنا کا کھاتے ہیں بلکہ تمام پھل باہر سے منگواتے ہیں ۔اپنے ملک کے اشیاء کو ترجیح دینے کے بجاے دیگر ممالک کے اشیاء خریدتے ہیں، اس وجہ سے ہمارے ملک کے کار خانے بند ہو چکے ہیں ۔معدنی وسائل سے بھر پور ملک  ہےاور پاکستان کا سب سے اعلے لوہا چترال میں ملتا ہے ،لیکن سٹیل مل خسارے میں  ہے۔قدرتی حسن سے مالامال  ملک میں سڑکوں اور دیگر سہولیات کی کمی وجہ سے محکمہ سیاحت خسارے میں ہے ۔سب سےبڑی بات یہ ہےکہ  اعلے ذہن کے مالک لوگ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے  کےبعد  ملک واپس آنے کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں ۔پھر ہم اپنے پیارے ملک اور اُسکے بانیوں کو گلے شکوے کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں ، اورپھریہ بھی کہتے ہیں ، پاکستان ترقی کے اس سفر میں دیگرممالک سے پچھے ہےاور یہ بھی کہتے ہیں کہ اُردو زبان میں وہ طاقت اور سکت موجود  نہیں ہے جو ٹیکنالوجی کی تعلیم دے سکےاور پاکستان کے اندرونی حالات انتہائی خراب ہیں ،سرمایہ کاری کے لئےموزوں نہیں ہے ،ملک کے باسی خود چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ جو جاتا ہے اور اپنا سب کچھ باہر ملک میں لگا تا ہے ،پھر وہ  اپکے ملک کا باسی نہیں رہتا ہے ،اسکے لئے حد بندیاں  کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں ۔ہم سب کو ایک زندہ شہری کے طور پر اُبھرنا پڑے گا ،اپنے ماحول کو صاف رکھنا پڑے گا ،اپنی سرکاری  املاک کو ذاتی املاک کی طرح حفاظت کرنی پڑے گی ۔ بُنیادی سہولیات تعلیم اور صحت پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بچہ ان بُنیادی  سہولیات سے محروم رہ کر معاشرے پر بوجھ نہ بنے ۔شرح خواندگی بڑھانے کی ضرورت ہے اور فنی تعلیم کے ذریعےسے ہم زراعت،صنعت کو ترقی دے کر اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔ان تمام کاموں کے لئےمغرب کے طرز کی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ہم خود سوچ سمجھ کر ایسی منصوبہ بندی کرے اور اپنی زبان میں اسکی تربیت فراہم کرے تاکہ عام لوگوں کو آگہی ملے اور اُسے بھر پو ر فائدہ اٹھائے ۔اگر بنگلہ دیش جیسے ملک میں ہم جیسا عام بندہ بنک بنا کراور دوسری طرف سیلاب زدہ ملک چاول و پٹ سن کے پیداوار سے ملک کو چلا سکتا ہے، تو ہم جغرافیائی ،معدنی ،آبی اور دریاے سندھ جیسے ذرخیز ترین خطے سے مالامال ملک میں رہ کربھی  ملک کو قرضے کے زور سے چلا رہے ہیں ۔ پاکستان کے معیشت کی خرابی اور اندرونی بد امنی  کا طعنہ  دیتے رہتے ہیں ۔قول مشہور ہے ،”حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے”اس طرح  کسی بھی ملک اور نظام میں کوئی غلطی نہیں  ہوتی ہے،غلطی انکے باسیوں میں پائی جاتی ہے ۔تو اس حوالے سے میں اپنے ملک کے نونہالوں سے گزارش کرتا ہوں آئیئے  ہم  اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق لے اپنے مسقبل کو سنوارے اور بہت جلد ہم اپنے ملک کی معیشت اور دیگر شعبوں کو اپنے ماحول کے مطابق منصوبہ بندی کر کے ترقی سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔

زبان ,علم  اور ہمارے ویران تجربہ گاہیں

میرے اُستاد محترم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کا کہنا تھا کہ اُردو زبان وسعت پھیلاؤ اور ضرورت کے لحاظ سے دُنیاکی تیسری بڑی زبان بن چکی ہے ،کیونکہ اُردو اپنے لیے اوڑنا بچھونا کا انتطام خود کر لیتی ہے۔اُسکی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہےوہ اپنی ارتقاء کی مراحل خود طے کر لے گی اور بھارتی فلمیں ا، جنگیں اسکی اشاعت وترقی کے لیے کافی ہیں، افغانستان میں بھی   آفغان جنگ کی وجہ سےاُردو فہمی عام ہو چکی  ہے ،اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے لیکر آج تک اسکی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔  جاپان  کےایک  یونیورسٹی  میں شعبہ  اُردو  قائم ہے،اسی میں باقاعدہ طریقے سے جاپانی طلباء زیر تعلیم ہیں اور جاپانی پروفیسرز اُردو پڑھا رہے ہیں ۔چین ،کوریا ،افغانستان اور برطانیہ میں اُردوسیکھانے کے مراکز قائم ہیں ۔بنگلہ دیش ،بھارت اور آفغانستان میں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے،بلکہ اس خطے میں اُردو رابطے کی واحد بڑی زبان بن چکی  ہے۔ میرے محترم قارئین کرام !  درج بالا حقائق کی روشنی میں یہ باور کراناچاہتا ہوں کہ ہم جتنی بھی کوشش کریں ، اُرد وکو نقصان نہین پہنچا سکتے ہیں ،کیونکہ ان دونوں کی والی و وارث خداوندے پاک ہی ہے۔ہماری نجات اس زبان کے علاوہ ممکن نہیں ہے اور ہم اپنی قوم کو اپنی قومی زبان میں ہی تعلیم دے کر ذہنی غلامی کی بد ترین زندگی  کی گرفت  سے نکال سکیں گے۔حقیقت میں علم اورزبان، دونوں الگ الگ چیزیں  ہیں، زبان علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے،علم کسی بھی زبان کے ذریعے حاصل کر سکتے ہو۔ لہذا علم کے لئے انگریزی زبان کی  کوئی محتاجی نہیں  ہےاور انگریزی علم  کا نام نہیں ہے۔علم کسی بھی چیز کے بارے معلومات حاصل کرنے کا نام ہے،جو آپ دُنیا کے کسی زبان کے ذریعے سے حاصل کر سکتے ہو، جس طرح ہمارے پڑوسی ممالک کر رہے ہیں۔ کیونکہ ۶۸سال انگریزی سیکھنے میں صرف کی ،اجنبی زبان کے ذریعے علم کو  غیرفطری طریقے سے نونہالوں میں ٹھونسنے کی کوشش ناکام رہی۔جدید  ماہرین تعلیم  بھی مادری زبان میں تعلیم دینے پر متفق ہو چکے ہیں، جو سب سے مؤثر ہے۔پچھلے سال اقوام متحدہ کا سربراہ بانکی مون نے،یہ  اعلان کیاتھا ۔  اگر شرح خواندگی بڑھانا چاہتے ہو،تواپنی مادری زبان میں تعلیم دےدی جائے ۔ایک اوررپورٹ کے مطابق انگریزی تعلیم پڑھانےوالے استاتدہ کو برطانیہ کے گلی کوچوں کی زبان ، وہاں رہ کر سیکھنی پڑے گی تب جا کر آپ پڑھا سکتے ہیں ،نہ ہم اس بوجھ  کو اٹھا سکتے ہیں اور نہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک تجزئے کے مطابق اسرائیل قدیم عبرانی زبان کواٹھا کر جو کب کی معدوم ہو چکی تھی، اسکو  سرکاری اور تعلیمی  زبان قرار دے دے کر، اس زبان میں سائنس کی تعلیم بھی پڑھائی جارہی ہے۔مجھے کسی اعلے عہدادار نے ایران کے دورے کا  قصہ سُنایا ،جا معہ میں پروفیسر  ٖفارسی زبان میں فزکس پڑھا رہاتھا، اور محترم کو ہم سب کی طرح  اسے بھی انتہائی خوشی حاصل ہو گئی تھی،اس نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ کاش ہمارے ملک میں بھی اُردو  میں فزکس پڑھائےجاتے تو ہماری قوم میں بھی انکی طرح اعتمادیت پیدا ہوتی اور اپنی بات منوانےکے قابل ہوتے ۔اِسی طرح چین کا صدر انگریزی میں تقریر کرنے سے اس لیے انکار کیا تھا کہ ہم آزاد قوم ہیں ہم گونگے نہیں  ہیں، ہماری اپنی شناخت ہے ،ترجمہ کا کام ان پر چھوڑ دیا ۔ رواں مہینے پاکستان کا صدر محترم ممنوں حسین صاحب  نے فلسطین کے مسئلے پر ایک  کانفرنس میں اُردو زبان میں خطاب کیا، اور  اس عمل کی وجہ سے مجھ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کو قلبی سکوں میسر آچکا ہوگا ۔ سب سے بڑٰی بات یہ ہے یہاں سے عدالت عظمیٍ نے نوید سنادی اُدھر سے امریکا نے اپنے اُردو(ویب سائٹ )کا اجرا ءکیا اور بیان دے دیا کہ اردو صارفین کو امریکہ فہمی میں اسانی ہو گی۔ جب میں پشاور یونیورسٹی سے فارغ ہو گیا تو شعبہ جغرافیہ پشاور   کی وساطت سے ایک جرمن ایم فل سکا لر مسٹر انٹ کو میرے گھر میں مجھے حوالہ کیا گیا ،وہ میرے ساتھ لگ بھگ ایک مہینے تک رہا۔میں نے اسے کہا ،میں تو اُردو کا طالبعلم ہوں مجھے انگریزی اتنی اچھی نہیں  اتی ہے ،اسکا جواب یہ تھا مجھے بھی نہیں  اتی ہے ،اس نے کہا  ضرورت کی حد سے زیادہ  اس پر وقت صرف کرنا مناسب عمل نہیں  ہے۔  کافی عرصہ تک  میں اسکی ترجمانی کرتا رہا اور اسکومیری کمزور انگریزی  سے  کوئی  دقت پیش نہیں ائی، جب میں نے وہ رپورٹ کی کاپی اور تصاویر بھیجنے کو کہا، تو اسنےسختی سے  تردید کرتے ہو ے،انگریزی میں اپنے مقالے چھاپنے کو ممنوع و غیرقانونی قرار دے دیا۔ہمارے راہنماءانگریزی میں خطاب کرتے ہیں، عدالتی فیصلے بھی اسی زبان میں آتے ہیں ،یہ زبان امرا ء اور غرباء کے درمیان دیوار کی طرح کھڑی ہے اور یہ خلا بڑھتا جا رہا ہے جو قومی مفاد میں ہر گز نہیں ہے۔اسکے علاوہ انگریزی پڑھانےوالے کاروباری طبقہ بھاری رقم غریب کے بچوں سے بٹورتے ہیں اور یہ طبقہ کبھی بھی انگریزی کی مخالفت نہیں  کرے گا۔ جو اجنبی زبان میں عیر فطری طریقے سے تعلیم دے رہے ہیں ۔طالب علم سارا سال اپنا قیمتی وقت انگریزی  پڑھتےپڑھتے صرف کرتا ہے اور نتیجہ انے پر اس میں فیل ہوتا ہے ۔دوسری طرف سائنس جیسے علم کو پریکٹیکل کے بعیر پڑھنا چاہتا ہے اور سارا سال سائنس کے تعریفیں  رٹ رٹ کر تجربہ گاہوں کا راستہ بھول جاتا ہے اور سائینس پریکٹیکل کے علاوہ نامکمل ہے ۔امتحان بے شک پاس کر تا ہے مگر تجربہ گاہوں کی طرف رُخ کئے  بے غیر ،اسکا  اندازہ آپ سائنس کے میدان میں  اپنی ترقی سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ہم پاکستانی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنی ترقی کر چکے ہیں۔آج کاطلباء کلاس روم سے کیوں بے زار ہیں ؟علم پاکستان میں کیوں پیچیدہ ہے؟شرخ خواندگی کے لحاظ کم ترین سطح پر کیوں ہیں ؟آج لاکھوں  بچے تعلیم سے محروم کیوں ہیں ؟میرے تجزئے کے مطابق ہمارے  انگریز  دوستی اور انگریزی ذریعہ  تعلیم نے ہمارے مسائل میں اضافےاور اپنے وسائل تک رسائی میں  رُکارٹ کے سوا کچھ نہیں دیا ہے ۔  بیرون ملک سفر کرنے والے صرف اشرافیہ کے بچے ہی ہوتے ہیں ، اس ذریعہ تعلیم سےیہی طبقہ  بھر پور مُستفید   ہوگا ۔جب تک صاحب استطاعت لوگ فیصلہ کرتے وقت اپنے بچوں کے علاوہ غریب کے بچے کا خیال نہ رکھا کیونکہ انکو پاکستان میں رہنا ہے ،تو معاشرے میں افراتفری اور بے چینی بڑھتی رہے گی اور معاشرہ عدم توازن کا شکار رہے گا ۔زبان اظہار رائے کا ذریعہ  ہے انسان زیادہ تر کام اشاروں سےچلاتا  ہے ۔ہمارے ملک کے زیادہ تر ان پڑھ لوگ  بیرونی  کمپنیوں کے ساتھ اشاروں کے ذریعے سے  اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے   ہیں۔ان میں سے اکثر انگریزی ،فرنچ ،چائنا ،کورین ،عربی ،فارسی اور دیگر زبانیں سیکھ بھی لیتے ہیں ۔میرے اندازے کے مطابق ہم کسی اجنبی زبان کو اپنے اوپر مسلط کئے بے غیر اپنی  پیاری زبان اردو  میں تعلیم دے کر ،فطری طریقے سے اپنے نونہالوں کومختلف علوم وفنوں سے آراستہ کر سکتے ہیں ۔اگر مندرجہ بالا غیرت مند قومیں، انگریزی کے علاوہ بھی علم حاصل کر کے  سائنس و ٹیکنالوجی کی دُنیا میں   اپنے اپکو ثابت کر  سکتے ہیں ۔تو ہمیں انگریزوں کی ذہنی غلامی کیوں قبول ہے ؟کیا ہم اس خول سے نکل کر حقیقت کی دُنیا میں قدم رکھ کر فطری تقاضوں کے تحت نوجوان نسل کو مزید اندھیرے میں رکھے بے غیر تعلیم سے ہمکنار نہیں کر سکتے ہیِں؟اگر جرمنی کا طالب علم اپنےمقالے کو انگریزی میں چھاپنے کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے ،تو ہم انکو انگریزی میں بنا بنا یا مقالہ کیوں پیش کر رہے ہیں ؟ہمارےراہنما ؤں کے بیانات،  عدالتی ،سرکاری اور دیگرخطوط اور ارشادات انگریزی زبان میں کیوں آتے ہیں ؟  میرے خیال میں ہمیں تعلیم اپنی قومی زبان اُردو  دی جائے ۔انگریزی کو بطور بین الاقوامی اورعربی کو روحانی  زبان کی حیثیت سے  سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسکے علاوہ فارسی ،چینی ،جاپانی ،کورین ،رشین ،جرمن ،فرنچ اور ہندی  زبانوں کو بھی صرف زبان کی حیثیت سے سیکھنے کی ضرورت ہےتاکہ ہم ان ممالک کے ساتھ اپنی تعلقات کو بہتر بنا کر مختلف شعبوں میں ترقی  کر سکتے ہیں ،کیونکہ ترقی انگریز قوم کے علاوہ  دیگر اقوام بھی کر چکے ہیں ۔

نفاذاُردو اور سماج کے چند موٹے موٹے سوالات

مجھ سے ایک انگریز ی حواں دوست نے سوال کیا،کہ اپ مختلف چیزوں اور مشینوں کے نام کہاں سے لائینگے ،میرا جواب اسکے لئے یہ تھاکہ اگر کوئی قوم کسی چیز کو بنا لیتی ہے ،ساتھ نام بھی تجویز کرتی ہے ، جو نام وہ رکھے  گا وہ ہمیں بھی منظور ہو گا ۔میں نے اپنے کالج کے پروفیسروں سے دریافت کیا کہ کیا ہم سائنس کے مضامین کو اُردو میں پڑھا سکتے ہیں؟تو اُنکا جواب تھا پڑھائی بھی موثر ہوتی ہے اور طلباء کو   سمجھنے میں اسانی ہوتی ہے ۔اسکا ایک مثالی نمونہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد کی شکل میں  موجود تھا،اُس زمانے میں ایم۔بی۔بی ۔ایس کی مشکل ترین تعلیم بھی اُردو میں پڑھاے جاتے تھے ۔4اس طرح دیگر مقامی کالجز سکول اور ہائی سکول چترال میں  بھی اردو نطام تعلیم رائج تھا ۔ایک اور دوست نے مجھ سے سوال کیا اگر پاکستان بنے سے قبل اُردو نظام تعلیم رائج تھا ،تو آج کیوں نہیں ہے ؟میں نے اس کےسوال کا جواب دیتے ہوے کہا کہ پاکستان بنے سے قبل دہلی سے  طورخم اور درگئی تک ریلوے لائین بچھائے گئے تھے اور باقاعدہ ریل گاڑیاں چلتے تھےاورچترال ، مستوج ،تورکہو ،موڑکہو ،دروش ،ارندو اور لٹکوہ تک ٹیلفون کی لائینیں بچھائے  گئے تھے جو پاکستان بنے کےبعد  کیوں ختم کئے گئے ؟اسنے دوبارہ سوال کیا ،تو  پھر انگریزوں کادور اچھا تھا، ریل گاڑی ،پُلیں ،ٹیلیفون اور ٹیلیگراف کی سہولیات موجود تھے۔میرا جواب تھا ،کیا فورٹ ولیم کالج  اُردو کو ترقی دینے        کے لئے بنایا گیا تھا ؟ہر گز نہیں اسکا مقصد تھا کہ اس خطے کی عام فہم زبان سیکھ کر ان باشندوں پراسانی کے ساتھ حکومت کر سکے۔ریلوے لائین اور ٹیلیفون اپکے سہولت کے لئے نہین بنائے گئےتھے،بلکہ اپنےاور  مستقبل میں  انے والے نوارد گوروں کی سہولت کے لئے بنائےتھے ۔ریل اپکے لئے نہین بلکہ آفعانستان اور وسط ایشاء تک سرحدات کو بڑھانے کے لئے بنائے جا رہے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ مسلمانوں کے آزادی کی ایک منظم تحریک اوردو عالمی جنگیں برطانیہ کو اس خطے کو چھوڑ نے پر مجبور کیا ،ورنہ انگریز قوم یہاں سے جانے والی نہیں تھی  اور نشانی کے طور پر انگریزی کو ہمارے پاس چھوڑ کر گئی ہے تاکہ اس علاقے کے لوگ اس زبان پر عبور حاصل کرسکے تاکہ دوبارہ موقع ملنے پر حکمرانی کرنے میں  اسانی ہو۔اردو زبان عربی ،ترکی ،فارسی ،ہندی انگریزی اور اس خطے کے مقامی بولیوں کے ساتھ مل کر وجود میں انے کی وجہ سے،اس زبان میں کسی بھی زبان کے الفاظ کو ہضم کرنے کی بے پناہ قوت موجود ہے۔اور کسی بھی زبان کے الفاظ اجنبیت سے پاک ہو کر اس زبان کا حصہ بن جاتا ہے۔کہوار زبان پہاڑوں کے بیچ ہونے کیوجہ سے اپنی اصلی حالت میں  موجود ہے ۔یہ خطہ قدیم گزرگاہ ہونے کی وجہ سے قدیم اور جدید زبانوں کی آمیزیش سے بنی ہے۔ موجودہ وقت میں ُاردو کے ساتھ معاون زبان اور رابطے کےزبان کی حئثیت اختیار کر چکی ہے ۔چترال کے وادی میں  اُردو رابطےکے لئے   یکساں  ، عام فہم اور غیر متنازعہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا اور رابطے  کی زبان ہونے کی وجہ سے ،چترال کے وادی میں بڑی تیِزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔

انشاء اﷲ ہم بہت جلد ا پنی  پیاری قومی زبان کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر تمام جدید علوم کو اپنی زبان   میں منتقل کر کے   پڑھا سکتے ہیں ۔انگریزی کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں اور ٹیکنالوجی کے متعلق تما م علوم کوُ اردو میں  منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔اسکے لئےباقاعدہ دارالتراجم بنانے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے اُردو سائنس بورڈ کافی حد تک کام کر چکا ہے۔اُمید کی جاتی ہے کہ ہماری قومی زبان کو تعلیمی زبان کی حئیثت  قرار دینے کی خبر سنے کو ملے گی۔  ہمارے ملک کے  دوہرے نظام تعلیم نے  ہمارے ذہنوں کو مکمل طور پر کھوکھلا کر چکا ہے۔سوچنے محنت کرنے اور خود کوئی چیز تخلیق کرنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے۔اسی بناء پر پیاری زبان کی وساطت سے تما م بولیوں اور علاقوں کے درمیان اتحاد واتفاق پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ہمارے پاس رابطے کے لئے ایک بہترین غیر متنازعہ اور اسلامی زبان موجود ہے ،جوعام فہم ہونے کی وجہ سےسب کے لئے یکساں ہے ۔اسکے مقابلے میں  اجنبی زبان میں غیر  فطری  ذریعہ  تعلیم دینے کی وجہ سے ہم ۶۸ سالوں  میں  کوئی خاطرخواہ نتائج بر آمد نہ کر سکے۔آج وقت اور حا لات  بھی یہ  تقاضا کررہا ہے اور  ماہرین بھی کسی ایک ملک کے لئے نصاب ترتیب دیتے  وقت اس ملک کی زبان ،مذہب ،ثقافت اور  مختلف شعبوں میں ان باشندوں کی دلچسپیوں کو مد نظر رکھتے ہیں ۔اس طرح ہم حکومتی نگرانی میں اپنے ملک کے نونہالوں  کے لئےنصاب   سازی کرینگے ،تو ہمیں کسی   بیرون ملک  کے اداروں کے نصاب کو پڑھانےاوراس نتیجے میں پیش انے والے قسم قسم کی پیچیدگیوں سے نوجواں نسل کے ذہنوں کو خراب ہونے سے محفوظ بنا سکتے ہیں ۔اس ملک کے خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے غریب بچوں  کو مد نظر رکھ کر قانون سازی اور نصاب سازی کی جاےتاکہ سب نونہالوں کو یکساں  نظام تعلیم میسر اسکے ۔اگر ہم ایسا نہ کر سکا تو قیامت کے روز وہ ہم سے  حساب  مانگ لینگے ۔ان تمام مسائیل کا حل یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے ہماری قومی زبان کو سرکاری و تعلیمی زبان رائج کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کسی بھی قسم کی پیچیدگیوں سے پاک ہو کر اپنے پیارے ملک  کے ترقی میں حصہ لے کر دُنیا کے لئے اسکو نمونہ بنا سکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق