ارشاد اللہ شاد

( رُموز شادؔ ) ……’’ترقی کا اصل راز‘‘

……..( ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)…..


آج پوری دنیا اضطراب اور بے چینی کے عالم میں ہے اور کہیں سکون نہیں ہے۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جنگ و جارحیت آگ بر سا رہی ہے۔حقوق پا مال ہو رہے ہیں، ہر طرف ظلم و نا انصافی کا برہنہ رقص ہو رہا ہے، ظلم و زیادتی افراد ہی کا نہیں قوموں کا شیوہ بن گئی ہے۔ محبت ، اخوت ، اخلاص، ہمدردی، صداقت، امانت، دیانت اور ایفائے عہد سے انسان کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ رشوت ، چوری اور خون ریزی کا بازار گرم ہے۔ شراب اور منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ عریانی و فحاشی اور بے حیائی کا دور دورہ ہے، معصوم بچے جرائم میں لت پت کر دئے گئے ہیں۔ معمولی باتوں پر قتل عام سی بات ہے۔ عشق و عاشقی کے نام پر ہوس کاری پھیلی ہوئی ہے اور بہت سارے اسکول اور کالج اس کے اڈے بن چکے ہیں۔ یہ ساری خرابیاں اور برائیاں رُوپ بدل بدل کر سامنے آرہی ہیں۔
یہ ہے نتائج عورت کی کوتاہیوں کا جسے انسان کا کردار سنوارنے پر مامور کیا گیا تھا، مگر وہ ترقی اور ملازمت ، مساوات، مردوزن، فیشن و میک اپ اور تفریح کی محفلوں میں کھو گئی ہے۔ بظاہر آج کی عورت بہت ترقی کر گئی ہے ۔ ملازمت کے ہر شعبے اور بیشتر کاروبار سے وابستہ ہے۔وہ باس بنی بیٹھی ہے اور بزنس کے بڑے بڑے شعبے چلا رہی ہے۔ اور کونسا ایسا میدان ہے جہاں عورت نہیں۔ کلرک ، ٹیچر، لیکچرار کاروبار سے لیکر آئی پی ایس اور آئی ایس افسر تک کے عہدے پر فائز ہے۔ تعلیم میں اپنی قابلیت اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتی چلی جا رہی ہے۔ ترقی کی دھن میں وہ آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی یہ محنت ، جستجو اور کامیانی قابل ستائش ہے۔ لیکن اس دورمیں وہ اپنا نام، شناخت اور پہچان بھول چکی ہے، پیچھے مڑنا اُسے گوارا نہیں ، نسوانیت کو وہ بائے بائے کہہ چکی ہے، دوڑتے دوڑتے اس نے شرم و حیا کا لبادہ اُتار کر پھینک دیاہے ۔ پردے کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ اپنی عزت و عصمت کی دھجیاں خود ہی بکھیر دی ہیں۔ اس کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے خون خوار بھیڑئیے ہیں جنہیں وہ اپنا ہمدرد ، پرستار اور دوست سمجھ رہی ہے۔ یہ اس کی بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ آزادی، ترقی اور ملازمت کے چکر میں وہ جیسے ہی گھر سے نکلتی ہے اس کی تباہی اور بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔شیطان جانتا تھا کہ انسان کا سب سے مظبوط مورچہ اس کا گھر ہے ، اس لئے اس نے اپنے چیلوں کو اشارہ کیا کہ جب تک اس ’’ گھر کی نگہبان ‘‘ کو بے گھر نہ کیا جائے اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی ۔ چنانچہ اس کے چیلوں نے عورت کی آزادی کا نعرہ بلند کیا، پھر آواز لگائی کہ عورت اور مرد دونوں ہر حیثیت سے برابر ہیں اور عورت کو گھر میں رکھنا اس پر ظلم کر نا ہے ۔ لہذااسے بھی مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا جائے۔ عورت کی نا دانی دیکھئے کہ وہ مساوات مرد وزن کے چکر میں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار بیٹھی اور اب اس پر دوہری ذمے داری عائد ہے۔
اسے گھر سنبھالنا ہے اور دفتر بھی۔ کیا یہ صنف نازک پر ظلم نہیں ہے؟صبح سویرے اٹھنا ، گھر کے سارے کام انجام دینا ، بچوں کا کھلانا ، ٹفن تیا ر کرنا اور پھر دفتر جانے کیلئے اپنی تیاری کرنا ، گھر کی صفائی خادمہ کے حوالے،شام میں جب میاں بیوی دونوں تھکے ہارے آتے ہیں اور غصہ ان کی ناک پر ہوتا ہے اور ذرا سی بات کو لیکر جھگڑا ہو جاتا ہے۔ جبکہ پہلے ہوتا یہ تھا کہ جب شوہر دفتر سے تھکا ہارا گھر لوٹتا تھا تو بیوی مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کرتی، چائے پیش کرتی ، گھر صاف ستھرا رکھتی اور اس طرح بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر شوہر بھی اپنی تھکان بھول جایا کرتا تھا ، مگر اب ایسے منظر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
اس ہائی ٹیک دور میں دونوں میاں بیوی کے کمانے اور معیار زندگی بلند کرنے کے چکر میں کہاں گھر کا سکھ چین ملے گا۔دونوں کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں یا بچوں کی ضرورتوں کو محسوس کر سکیں اور ایسے ماحول میں تربیت پانے والے بچے کیسے ہو سکتے ہیں آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو انہیں ماں باپ سے بھی کوئی محبت نہیں ہوتی اور جہاں خون کے رشتے میں محبت نہ ہو وہاں انسانیت کہاں باقی رہتی ہے۔ پیسے کمانے کی دھن میں ہم آج کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں، جتنی ہی دولت ہمارے ہاتھ آتی ہے وہ ہمارا پیٹ نہیں بھرتی بلکہ آتش حرص اور بھڑکتی ہے۔ اگر عورت سلیقہ شعار اور سگھڑ نہ ہو اسے ماہانہ بیس ہزار بھی کم پڑیں گے اور شکوے شکایت کا پٹارا الگ کھول دے گی۔ آج کئی خواتین ایسی ہیں جو ملازمت بھی کرتی ہیں اور گھر داری بھی بحسن و خوبی نبھاتے ہیں۔ شوہر بھی اُن سے خوش ہیں اور بچے بھی تربیت یافتہ ہیں کیونکہ وہ ملازمت کے ساتھ گھر کے سارے فرائض بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ وہ ملازمت یا کاروبار کرنے کے باوجود اپنی عصمت و عزت کی نگہبانی کر نا خوب جانتی ہیں۔ترقی صرف معاشی خوش حالی کا نام نہیں ہے۔ اگر خواتین نئی نسل کو اچھی تربیت دیں، انسانیت سکھائیں اور ان کے اندر اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں تو یہ نہ صرف قوم و ملت کے لئے مفید ہے بلکہ ملک کی ترقی کیلئے بھی سود مند ہو سکتا ہے۔ الغرض عورت کا اصل میدان اس کا اپنا گھر ہے، اس حقیقت کو نہ بھولیں۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق