تازہ ترین

لویر چترال کے چودہ یونین کونسلوں میں دوبارہ پولیو مہم چلائی جائے۔ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد واڑائچ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے پولیو مہم میں محکمہ صحت کے افسران اور اہلکاروں کی عدم دلچسپی اور سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کارکردگی میں بہتری نہیں آئی تو اس کا بھیانک نتیجہ پولیو کیس کی صورت میں سامنے آئے گا اس لئے آئندہ کے لئے پولیو مہم کے انتظامات اور ڈیوٹی کی انجام دہی میں غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکار سخت سے سخت سزا بھگتنے کے لئے تیار رہیں۔ جمعہ کے روز اپنے دفتر میں پولیوکے خاتمے کے لئے ضلعی کمیٹی (ڈپیک) کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ ماہ کی 14تاریخ سے شروع ہونے والی تحصیل چترال کے دس یونین کونسلوں میں چلائی جانے والی مہم کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ اس بارے میں انکوائری کے بعد ذمہ داری کا تعین کرکے متعلقین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر موجود ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر اسرار اللہ کی طرف سے پیش کی جانے والی وضاحتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس پیش کی اور کہاکہ ملک میں پولیو کے ختم نہ ہونے کی بڑی سب سے بڑی وجہ محکمہ صحت ہے جس کے افسران اور اہلکاروں میں دلچسپی اور کام سے لگاؤ نہیں ہے جن کا پرائمری کردار متعین ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیو مہم کی کامیابی کے لئے راستے میں کسی بھی قسم کی حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن اس سلسلے میں پروپوزل یا رکاوٹوں کی نشاندہی محکمہ صحت کی طرف سے ہی آنی چاہئے جبکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ چترال میں پولیو کی مخالفت یا پولیو ڈراپ پلانے سے انکار کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس موقع پر ای پی آئی کوارڈینیٹر ڈاکٹر ارشاد احمد کی طرف سے 18اپریل سے شروع ہونے والی مہم کے لئے انتظامات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایاگیا کہ اپر چترال کے دس یونین کونسلوں میں 21ہزار 477بچوں تک پہنچنے کے لئے 202ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر محکمہ صحت کے حکام کو ہدایات جاری کردی کہ لویر چترال کے چودہ یونین کونسلوں میں دوبارہ پولیو مہم چلائی جائے اور پولیو ڈراپ سے محروم بچوں کو سوفیصد کوریج دینے کی کوشش کریں۔ اس موقع پر ڈپیک اجلاس کے لئے مختلف سرکاری محکمہ جات کے ضلعی سربراہان کی بجائے نچلے درجے اور کلریکل اسٹاف کی حاضری کا بھی نوٹس لیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالغفار بھی اس موقع پر موجود تھے۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق