تازہ ترین

تعلیمی و تعزیتی ریفرینس بیاد علیجا ہ ذین لعابدین مرحوم

24اپریل 2016 کو پامیر ادبی سوسایٹی اور کلچر فورم گرم چشمہ اور پامیر پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج گرم چشمہ کی جانب سے پامیر پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج میں سابق ایم پی اے علیجاہ ذین لعابدین مرحوم کی یاد میں ایک تعلیمی و تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پامیر ادبی سوسائٹی اور کلچر فورم گرم چشمہ کے عہدیداران ، ممبران، پامیر پبلک سکول ینڈ ڈگری کالج کے اساتذہ ، طلبہ وطالبات، ذین لعابدین مرحوم کے خاندان کے افراد اور ان کے دوست و احباب نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند خواتین و حضرات نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی جنرل مینیجر AKESPچترال برگیڈیر(ریٹایرڈ) خوش محمد اور صدر ایم پی اے سلیم تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔اس کے بعد پامیر پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج گرم چشمہ کی طالبات نے ت نعت اور قصیدہ پیش کئے۔ تقریب کے آغاز میں خلیفہ شاہ دریا نے مرحوم کی روح کے ایثال ثواب اورانکے خاندانکی آبادی، ترقی و خوشحالی کے لئے اجتماعی دعا کی۔ اسکے بعد مرحوم کے نواسے ساجد اللہ خان نے چترال کے ابھرتے نامور شاعر اور جنت مکان کے بھتیجے اظہر علی اظہر کا کلام پڑھ کر سنایا جس نے پورے ماحول کو اشکبار کر دیا۔ ان ہی کے خاندان کے ایک اور فرزند وسیع حسین الہان نے بھی اپنی محبت کے اظہار میں لکھا ہوا کلام پیش کیا۔ غم کے اس ماحول میں کمی لانے کے لئے اور مرحوم کے خاندان کا درد بانٹنے کے لئے، تقریب میں شریک خاندان کی خواتین کو روایتی شال پیش گئے، جو کہ اس علاقے کے مکینوں کی الیجاہ ذین لعابدین کے ساتھ بے پناہ محبت اور عقیدت کا اظہارتھا۔
پرنسپل پامیر پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج اسلام الدین نے بڑے خوبصورت الفاظ میں مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ ہر وہ انسان جو اس دنیا فانی میں موجود مخلوق کے لئے اپنی زندگی وقف کر کے رخصت ہو جائے، ہم اس کی کو ششوں کو سراہیں اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کریں ۔انھوں نے کہا کہ انفرادی تعزیت پر اجتما عی تعزیت کو فوقیت دی جائے تاکہ معاشرے میں ایک اچھی روایت قائم ہو ۔ الیجاہ ذین لعابدین کی مجموعی صفات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ آج کی یہ تقریب جس شخص کی یاد میں رکھی گئی ہے وہ خدمت خلق، انسان دوستی، خوش مزاجی اور درویشی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اور ان تمام لوگوں میں سرفہرست تھے جنھوں نے خدا کے مخلوق کی بقاء اور فلاح کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔اور جو لوگ انسان کی فلاح وبقاء کے لئے اپنی جان ومال سے خدمت کرتے ہیں وہ تا حیات لوگوں کے دلوں اور ان کی دعاووں میں زندہ رہتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سابق ایم پی اے ذین العابدین مرحوم نے ہمیشہ اسلام کے مختلف فرقوں و دیگر مذاہب اور قوموں کے درمیان مضبوط پل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ وہ چترالی ثقافت اور اعلیٰ اقدارکے مجسم تھے ۔جس سیاسی کلچر کی چترال کو ضرورت تھی وہ اس کے بانی تھے۔ان شخصیت کی یاد میں یہ تقریب رکھنے کا مقصد ان کی تعلیمات کو زندہ رکھنا اور اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ان کی زندگی کے زرین اصولوں کو ہم بھی اپنائیں اور انسان دوستی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔


اس کے بعد تقریب میں جنت مکاں ذین لعابدین کی زندگی کی ایک تصویری جھلک دکھائی گئی جس میں ان کی حیا ت کے ہر رخ، ہ پہلو، کاوش اور ہر کامیابی کا حاطہ کیا گیا۔ اس تصویری جھلک نے ایسے یاد تازہ کئے جس کو شرکاء نے بہت سراہا۔ الیجا ہ ذین لعابدین مرحوم کے خاندان کی نمایندگی کرتے ہوئے نامور استاد نورلصباح نے منتظمین ، مہمانان اور دیگر شراکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاندان کے اندر مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ بحیثیت بھانجے کے نورالصباح نے بہت ہی خوبصورت الفاظ میں اپنے ساتھ اور دیگر ممبران خاندان کے ساتھ ان کے روئے کو بینظیر قرار دیا۔
اس کے بعد تقریب میں مدعو مہمانوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا۔ پروگرام میں موجود دوست و احباب نے جنت مکان کے بارے میں بات کی۔ سابق امیر جماعت اسلامی مستوج مولانا سراج الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا محسن سب کا خیر خواہ تھا۔ انسان تو انسان ہر چرند پرند نے ان کی محبت اور شفقت کا مزہ چکھا تھا۔ممتاز ماہر تعلیم و سابق EDO صمد گل نے مرحوم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بین الاقوامی شخصیت تھے، انھوں نے ہندوستان اور برطانیہ اور جہاں جہاں وہ گئے وہاں چترال کی بھر پور نمائندگی کی۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی اور کسی کو ان کی زندگی کے کسی بھی پہلو پر اعتراز نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ کرحوم کی ابتدائی زندگی عسکری تھی، پھر سماجی خدمات میں قدم رکھا اور پھر مذہبی خدمات انجام دیں اور ہر فریضے کو ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا۔ استاد محترم نے ان کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا انھوں کہ وہ سیورج پبلک سکول چترال کے بانی ممبران میں سرفہرست تھے اور ڈگری کالج بونی کا قیام ان ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا پامیر پبلک سکول بونی کا قیام بھی ان کی دوراندیشی کے سبب ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سیاسی زندگی پر کوئی بھی اعتراز نہیں کر سکتا اور یہ کہ ان کی محبت، شفقت اور ان کی خوشبو ہم تا حیات نہیں بھول سکیں گے۔
معروف ماہر تعلیم و سیاسی و سماجی کارکن لیاقت علی جو کہ مرحوم ذین لعابدین کے بہت قریبی دوستوں میں سے ہیں ، نے ان کے لئے اپنی قدردانی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متوازن شخصیت کے حامل اور ہر فن مولا انسان تھے۔ جب بولتے تو ہر بولنے والے سے بہتر، جب لکھتے تو ہر لکھنے والے سے بہتر ، ان کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر بھی اور ان کی شفقت ہر شفقت سے بر ترتھی۔ ماہر سماجی ترقی محمد کرم نے نہایت ہی پرجوش، والیہانہ اور نہایت پر اثر انداز میں الیجا ہ مرحوم کی شخصیت کا نقشہ کھینچا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انگریزی کے دونوں الفاظ Bignessاور Greatnessکی عکاسی کرتے تھے۔ بڑا بنے کی ہر کو ئی کوشش کرتا ہے مگر عظیم بننا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایڈوکیٹ شرین خان نے جنت مکان کی محبت، دوستی، خلوص، ملنساری، رحم دلی اور شفقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے ان کی محبت کا عالم یہ تھا کہ جب گرم چشمہ تک پہنچی ان کی علالت کی خبر پہنچی تو علاقے کے ایک فرزند نے مجھ سے کہا کہ اگر کسی اور کی جگہ اپنی زندگی قربان کرنے کی اجازت ہوتی تو میں اپنی زندگی اس شخص کے نام کرتا۔ ایڈوکیٹ نے اپنی محبت کے اظہار میں لکھا ہوا کلام پڑھ کر سنایا جس کو حاضرین نے بہت پسند کیا۔
الیجا ہ ذین لعابدین مرحوم کے انتہائی قریبی دوست ، ماہر قانون صاحب نادر نے مرحوم کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا وہ ایک نہایت ہی بہادر اور صابر انسان تھے۔ان کا میرے ساتھ نہایت ہی دوستانہ، مشققانا اور رہبرانہ تعلق تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی جنرل منیجرAKESP چترال برگیڈیر) ریٹایرڈ) جناب خوش محمد نے جناب ذین لعابدین مرحوم کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور ذاتی زندگی پر بات کرتے ہوئے نہایت نفیس انداز میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انکا کہنا تھا کہ یقیناًیہ ایک انسان کے عظمت کی نشانی ہے کہ انکی غیر موجودگی میں بھی ان کو یاد کیا جا تا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک تکثیری شخصیت کے مالک انسان تھے۔ انھوں نی اپنی زندگی میں بہت سے کٹھن مراحل کا سامنا کیا، گو کہ کچھ مراحل کا انکی زندگی پر گہرا اثر تھا مگر انھوں نے کبھی کسی پر عیاں ہونے نہیں دیا۔ انھوں نے نا چاہنے والوں کو بھی ایسے گلے لگایا کہ ان کو اپنے کئے ہوئے مظالم کا احساس تک نہ ہوا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ذین لعابدین صاحب اپنی ذات میں ایک جامعہ تھے۔ سیاست کی ۔۔تو شریف اور ملنسار سیاست دان کی مثال قائم کی، سماجی کی خدمت کی تو اپنا ثانی نہ چھوڑا ، انسانی تعلقات میں کوئی انکا مقابل نہیں اور عظمت کا یہ عالم تھا کہ ہر مکاتب فکر سے عزت کمائی۔ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ جہاں کسی کو تکلیف میں پاتے وہاں خود کو حاضر جانتے ۔انھوں نے اپنی زندگی میں تعلیم اور اعلیٰ اقدار کو اولین ترجیح دی جس کی مثال ان کے خاندان کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
پروگرام کے اختتام پر سابق ایم پی اے ذین العابدین کے فرزند نعمان ذین لعابدین نے اپنے خاندان کی جانب سے تمام شرکاء کی محبت، خلوص اور صدق دل کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہلیان گرم چشمہ کی یہ کاوش نہایت ہی قدردانی کی حقدار ہے۔ انھوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اپنے بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انکا پورا خاندان ہر فرد کی خدمت میں ہر دم تیار رہے گا اور ان کی محبت ، عزت اور شفقت کے درس کو زندہ رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرے گا۔


آخر میں صدر محفل ایم پی اے سلیم خان نے مرحوم کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بطور سیاست دان ان کی زندگی کا حال سب کے سامنے واضح ہے۔ اراکین صوبائی سمبلی میں سب سے یادہ ووٹ لے کر جیتنے والے چترال کے واحد سیاست دان تھے، انھوں نے اپنے اقتدار کے 22مہنوں پر مشتمل مختصر عرصے میں علالت کے باوجود جو کارنامے سر انجام دیے ان کی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے ہر میدان، ہر محفل ہر نشست میں چترال کے لئے آواز اٹھائی۔ چترال کے لئے سب سے بڑا مسلہ بجلی کا تھا انھوں نے اپنی انتھک کوششوں سے چترال کے لئے بجلی کے خواب کو پورا کر دکھایا اور نیشنل گرڈ سٹیشن سے بجلی کی ترسیل کو یقنی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تعلیم کے میدان میں بھی ان کی نمایاں خدمات رہیں جن میں سب سے بڑی مثال ڈگری کالج فار بوایز بونی ہے۔ اپنے ساتھ ان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایم پی اے سلیم خان نے کہا کہ میرے ساتھ انکا بہت گہرا تعلق تھا، انھوں نے سیاست کے ہر میدان میں میری حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر کھڑا ہوں اس میں سب سے بڑا کردار انکا رہا ہے۔ پارٹی کے ساتھ ان کے مخلصانا رویے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم خان کا کہنا تھا کہ وہ بھٹو خاندان کے لئے بہت محبت رکھتے تھے اور آخری سانس تک پارٹی کے مخلص رہے۔ میری یہی کوشش رہے گی کہ میں سابق ایم پی اے کی نصیحتوں پر عمل کرکے قوم کی خدمت میں حاضر رہوں۔
صدارتی خطبے کے ساتھ اعزازی تقریب اختتام پزیر ہوا۔
رپورٹ(ٖفرخندہ احمد)

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock