تازہ ترین

چترال سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن پشاور کے الیکشن ، علی بہادر نے صدارتی الیکشن جیت لی

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن سابقہ صدر عرفان اللہ کی صدارت میں پشاور میں منعقد ہوا ۔ الیکشن کمیشن کی سربراہی ایم فل اسکالر اے ایم خان اور اظہار دستگیر نے کی۔ایم فل اسکالر مجیب الرحمن نے چیف ابزرور (Observer) کی ذمہ داری انجام دی۔ الیکشن میں پانچ صدارتی اُمیدوار علی بہادر، افتخار آحمد خان، سرور محمد خان، کامران ولی خان،اور سردار علی نے حصہ لیا۔ صدارتی اُمیدوارون کی جانب سے بشارت علی ملوک، قاضی محبوب الحسن، شفیق اعظم، عبید اللہ،اور اسفندیار آحمد نے پولیٹیکل ایجنٹ کے فرائض انجام دئیے۔سی ایس اے کا الیکشن صج کے 9 بجے کو شروع ہوئی اور سہ پہر5 بجے کو اختتام پذیر ہوا۔ الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ووٹوں کی گنتی ، اور جانج پڑتا ل کے بعد ٹوٹل ووٹوں کی تعداد 754 رہا جن میں 3 ووٹوں کو مسترد کیاگیا۔ الیکشن کمیشن کے سرکاری اعلان کے مطابق علی بہادر 214 کا اکثریتی ووٹ لے کر کامیاب قرار پایا۔ اِس الیکشن میں افتخار آحمد خان 110، سرور محمد خان166، کامران ولی خان158، اور سردار علی نے 103 ووٹ لے لی۔ الیکشن کے نتائج کا اعلان اکثریتی سٹوڈنٹس، چیف ابزارور ، الیکشن کمیشن اور ممبرز، سابقہ صدر اور کابینہ، صدارتی اُمیدوار، پولیٹیکل ایجنٹس کے سامنے اعلان کیاگیا۔ اِس موقع پر سابق صدر نے اپنی اور کابینہ کی طرف سے سٹوڈنٹس اور صدارتی اُمیدواروں کے تعاون کا شکریہ اداکیا ۔صدارتی امیدواروں نے اِس موقع پر سٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہو ئے اِس مرتوب اور دوپہر کے وقت اپنے قیمتی وقت دے کر ووٹ کیلئے آنے پر شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم آپ کے اتحاد ، اور پُر امن ہونے کامظاہرہ کرنے پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔تمام صدارتی اُمیدواروں نے اِس موقعے پر نئے منتخب صدر پر مکمل اعتماد اظہار کیا، اورشفاف اور پرامن الیکشن کرنے پر الیکشن کمیشن کا شکریہ بھی ادا کیاگیا،اور نو منتخب صدر کیساتھ تعاون کا بھی اظہار کیاگیا۔ نومنتخب صدر علی بہادرنے سٹوڈنٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آپ کے ووٹوں کی بدولت میں اِس پوزیشن میں آچکا ہوں ، اور آپ باہر نکل کر مجھے آگے کرکے چترال سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کے مسائل حل کروائیں۔ اور میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرونگا ،ا ور آپ کے توقعات پر پورا اُترنے کی بھر پور کوشش کرونگا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق