تازہ ترین

چترال میں بارش کے سبب مختلف نالوں میں درمیانے درجے کا سیلاب

چترال ( نمایندہ چترال ایکسپریس) چترال میں جمعرات کے روز لواری پاس پر بارش ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں زیارت نالے میں درمیانے درجے کا سیلاب آیا ۔ تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ۔ بارش کے باوجود لواری ٹاپ پر آمدورفت جاری رہی ۔ گذشتہ روز دروش کے مقام پر بھی دروش گول نالے میں بھی سیلاب آیا ۔ اور ساری رات دروش کی بڑی آبادی سیلاب سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے ۔ اور رات بھر گھروں سے باہر رہے ۔ ادھر گذشتہ دو تین دنوں سے چترال میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے نتیجے میں گلیشرز کے پگھلاؤ کی وجہ سے دریائے چترال کا بہاؤ بھی بڑھ گیا ہے ۔ اور چترال کے کئی علاقے زیر آب آنے کے ساتھ ساتھ کٹاؤ کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایون گاؤں میں گذشتہ سال بننے والے مصنوعی جھیل کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اور مکانات کے علاوہ مکئی اور دھان کی فصل والے زمینات جھیل میں ڈوب گئے ہیں ۔ جبکہ بالائی چترال کے مقام کارگین میں دریائے یارخون کے کٹاؤ کی وجہ سے چار گھر مکمل طور پر دریا برد ہو گئے ۔ اور کئی گھروں کو شدید خطرہ ہے ۔ اسی مقام پر یارخون روڈ بھی کٹاؤ کا شکار ہو رہا ہے ۔ جسکے کٹاؤ ہونے کی صورت میں بروغل کا پورا علاقہ آمدو رفت سے محروم رہ سکتا ہے ۔ مستوج تعلق رکھنے والے ممتاز سوشل ورکر سیف الرحمن عزیز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ۔ کہ کہ کارگین میں دینار خان اور دینار ولی کے گھر دریا برد ہو گئے ہیں ۔ اور وہ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ سید عابد شاہ ، میر جعفر بیگ ، حاجی حسین ،سلطان مراد اور حبیب حسین کے مکانات کو بھی نقسان پہنچا ہے ۔ انہوں ے کہا ۔ کہ دریا بالکل بپھر گیا ہے ۔ اور پورا علاقہ اس کی تباہی کی زد میں ہے ۔ اب یہ لوگ مہاجر بن گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ان لوگوں نے دریا سے بچاؤ کیلئے پہلے ہی حکومت سے اس مقام پر حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کا بار بار مطابہ کیا ۔ لیکن اُن کی ایک نہ سنی گئی ۔ اب وہ مستقل بنیادوں پر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اور یہ موجودہ صوبائی حکومت کی کُھلی نا اہلی ہے ۔ جو دانستہ طور پر عوام کی مشکلات پر توجہ نہیں دیتی ۔ اور نتیجتا لوگ اپنے مکانات و زمینات و باغات سے مستقل طور پر محروم ہو جاتے ہیں ۔ ان کی بلین ٹریز کی تکمیل تک چترال میں سنگلاخ پہاڑوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا ۔ تب حکومت یہ پودے کہاں لگائے گی ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق