ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ……ڈی اور گول

………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ………….

Advertisements

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کے اندر بعض حلقوں کی احتجاجی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ ڈی میں کھیلتے ہیں گول نہیں کرتے یہ ایسا پرمغز تبصرہ ہے کہ اس پر مزید تبصر ہ کرنا مشکل ہے ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں جنرل مشرف کو پیر پگاڑا، شیخ رشید احمد اور حافظ حسین احمد کی طرح دلچسپ تبصروں کے لئے یاد رکھا جائیگا جب وطن عزیز پاکستان میں یوم آزادی کا جشن قریب آتا ہے احتجاج کرنے والوں کو احتجاج ، اور دھرنا یا د آتا ہے 2014 ؁ء میں 14 اگست کو دھرنا شروع ہوا تھا اس سال 6 اور 7 اگست کو دھرنا شروع ہوگا 14 اگست کو دھرنے کے تمام جلوس اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے گے اور بقول شیخ رشید احمد ’’دمادم مست قلندر ‘‘ ہوگا تا ہم مست قلندر یعنی قبلہ و مخدوم آصف علی زرداری اس میں شامل ہی نہیں ہیں یہی حال جنرل مشرف کا ہے وہ بھی دوبئی میں مقیم ہیں یہ خو د سا ختہ جلا وطنی یا بے ساختہ جلا وطنی ہے بہرحال اس کا نام جلا وطنی ہی رکھا جائے گا مخدوم کراچی قبلہ الطاف حسین کے ساتھ ہماری پوری سیاسی قیادت جلا وطنی کی عادی ہو چکی ہے بعض پارٹیوں کے سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹیوں کے اجلاس بھی ملک میں نہیں ہوتے بعض اوقات کا بینہ کے اجلاس بھی ملک سے باہر ہوتے ہیں سیاستدانوں کی افادیت اور صلاحیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اُن کے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف 45 دن لندن میں رہے پاکستان میں ان کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی ہمارے دوست پروفیسر شمس النظرفاطمی فرماتے ہیں کہ وزیراعظم کا کام ہر روز اخبارات میں تصویر چھپوانا ہے وہ ملک سے باہر ہوں تب بھی تصویر ہر روز کسی نہ کسی بہانے سے آہی جاتی ہے جنرل مشرف دوبئی میں جلا وطنی کے ایام گذارتے ہوئے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کسی سُہا نی صبح کوپاکستان کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر انہیں اقتدار سنبھالنے کے لئے وطن بلایا جائے گا جب بھی ڈی چوک میں دھرنا ہوتا ہے وہ اُمید کرتے ہیں کہ مخالف ٹیم کا فارورڈکھلاڑی ڈی میں داخل ہوچکا ہے اب گول ہونے والا ہے مگر ان کی اُمیدوں پر جلدہی پانی پھر دیا جاتا ہے جنرل مشرف خود بال لیکر ڈی میں داخل ہونگے تو ضرور گول کرینگے کو لمبو سے کراچی آتے ہوئے وہ ہوا میں تھے اور گول ہو گیا مگر اب ڈاکٹر وں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے بقول شاعر
وہ کچھ بھی نہیں کرتے میںآرام کرتا ہوں
وہ اپنا کام کرتے ہیں میں اپنا کام کرتا ہوں
انسان خطا کا پتلا ہے جنر ل مشرف سے چند غلطیاں سرز د ہوئیں پہلی غلطی یہ ہوئی کہ اپنے اقتدر کے دنوں میں انہوں نے طوطا چشم اور بے وفا لوگوں کے ساتھ دوستی کرلی دوسری غلطی یہ ہوگئی کہ انہوں نے وردی اتاری ، تیسری غلطی یہ ہوئی کہ ملک سے باہر چلے گئے اور چوتھی غلطی یہ ہوئی کہ واپس وطن آنے کا سوچ رہے ہیں اسلئے ڈی میں کھیلنے والوں سے گول کرنے کی تو قع کرتے ہیں جنر ل مشرف نے پُتلیوں کا تماشا نہیں دیکھا ہوگا پُتلیوں کے تماشے میںیہ ہوتا ہے کہ سامنے پتلیاں آتی جاتی نظر آتی ہیں مگر اُن کی اپنی مرضی نہ آنے میں شامل ہوتی ہے نہ جانے میں وہ آزاد ہوتے ہیں خاقانی ہند ،شیخ محمد ابراہیم ذوق نے فرمایا
لائی حیات آئے قضا لے چلی ملے
اپنی مرضی آئے نہ اپنی مرضی چلے
جنرل مشرف جہاں دیدہ آدمی ہیں انہیں پتلیوں سے گلہ نہیں کرنا چاہیے گلہ اُن لوگوں سے کرنا چاہیے جوڈوری ہلا نے پر مقر ر ہیں تماشا لگانے پر مامور ہیں افتخار عارف کی غزل کے دو اشعار میں حقیقت حال کی خبر موجود ہے شاعر کہتا ہے
کٹھ پتلیاں رقصاں رہینگی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کی خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا
کھلاڑی جب ڈی میں داخل ہوتا ہے تو رواں تبصرہ کرنے والا پر جوش لہجے میں کہتا ہے ’’ بال کو لیکر ڈی میں داخل ہوا ہے اُب زبردست حملہ ہے گو ل ہونے والا ہے ‘‘
مگر اگلے لمحے بال واپس سینٹر کی طرف جاتا ہے تو کمنٹیٹر کہتا ہے کہ گول کا اہم موقع ضائع کردیا گیا اب جنرل مشرف نے دوبئی میں بیٹھ کر کمنٹیٹر کامنصب سنبھا لا ہوا ہے کھلاڑی ڈی میں داخل ہوتے ہی اُس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ گول نہیں ہوگا کھلاڑیوں کی ڈوریاں باہر سے ہلائی جارہی ہے سارا کھیل سکرپٹ کے مطابق کھیلا جارہا ہے اور سکرپٹ میں گول کرنیکا کوئی آپشن نہیں رکھا گیااسلئے ڈی میں کھیل اسی طرح جاری رہے گا مگر گول کبھی نہیں ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى