تازہ ترین

اٹلی پاکستان کی اقتصادی ترقی سے متعلق نیٹ ورک میں وسعت پیدا کرنے کے ایجنڈے اور پاکستان کی نوخیز معیشت کی ترقی کے ذریعے یہاں غربت میں کمی لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔(اے آئی سی ایس)کے ڈائرکٹر ڈومینیکو بروزون

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پاکستان میں اٹلی کے ڈیویلپمنٹ کواپریشن (اے آئی سی ایس)کے ڈائرکٹر ڈومینیکو بروزون نے کہا ہے کہ اٹلی پاکستان کی اقتصادی ترقی سے متعلق نیٹ ورک میں وسعت پیدا کرنے کے ایجنڈے اور پاکستان کی نوخیز معیشت کی ترقی کے ذریعے یہاں غربت میں کمی لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حا ل ہی میں اٹلی کی حکومت نے پاکستان کو کئی آسان قرضے کی سہولت فراہم کی جن میں فنی تعلیم کی ترقی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبہ جات کے لئے 239ملین یورو ، شعبہ زراعت کی ترقی بشمول زیتون کی کاشت کی ترقی کے لئے 20ملین یورو اور شمالی علاقہ بشمول گلگت بلتستان اور چترال میں سیاحت اور اس سے متعلق سرگرمیوں کے لئے 20ملین یورو شامل ہیں۔ اٹلی کی سفارت خانے کے کنسلٹنٹ س پاؤلا مانفریڈی اور اٹلی کے معروف ماہر آثار قدیمہ ماریہ وکٹوریہ کی معیت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اٹلی میں پاکستانی کمیونٹی اپنی حجم کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے جوکہ ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لے رہے ہیں اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی استحکام میں اٹلی کی حکومت گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سرحدی علاقوں میں رہنے والوں، خطرات سے دوچار کمیونٹی کی کنزرویشن، ثقافتی ورثے کی تحفظ اور دیہی ترقی کے لئے 40ملین یورو کی خطیر رقم دی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ یو ایس ایڈ کی شراکت سے کرم تنگی ڈیم کی تعمیر کے لئے 43ملین یورو دے دئیے گئے۔ ڈومینیکو بروزون نے کہاکہ چترال میں کالاش کمیونٹی اور ان کی وادیوں کی ترقی کے لئے خصوصی اقدام کئے جائیں گے تاکہ یہاں سیاحت کو فروع مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی ٹیم گزشتہ کئی دنوں سے چترال میں سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سمیت ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر سے تفصیلی ملاقات کرکے علاقے کے مسائل معلوم کئے ۔ انہوں نے مسائل کا گہری ادراک رکھنے اور ان کے مجوزہ حل رکھنے پر ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ کی کارکردگی کی تعریف کی۔ اس موقع پر پاکستان پاورٹی الیویشن فنڈ کے جنرل منیجر طاہر ملک بھی موجود تھے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق