تازہ ترین

چترالی نوجوان کا منفرد اعزاز۔ سالوں کا کام مہینوں میں۔۔

دروش (خصوصی رپورٹ)
چترال سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بنیادی طور پر تورکہو اجنو سے تعلق ہے اسکا والد صاحب صوبیدار غیرت علی چترال سکاؤٹس میں ملازم اور آجکل دروش میں اباد ہیں۔ عمر حیات کو آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اس کے والد نے اسے حفط قران پاک کیلیے مدرسہ انوارالقرآن شاد باغ ملیر کراچی بھیج دیا۔ جہاں سے انہوں نے 95 دنوں میں پورا قرآن پاک حفظ کرلیا۔ مدرسے کی سند میں چار ماہ درج ہے جبکہ بچے کے بقول چار مہینے سے پانچ دن پہلے حفظ قرآن پاک پورا کرلیا۔ اور چھٹیاں نکال کے صرف پچھانوے دن انہوں نے کلاس لیا ہے۔ اگر چار مہینہ بھی مان لیا جائے تو یہ پاکستان میں تیسرے نمبر کا بڑاریکارڈ ہے۔ اور یہ کارنامہ انجام دینے کے باوجود بھی کسی نے بھی اس کے سر پہ دست شفقت پھیرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے باوجود بھی عمرحیات پچھلے سال ستمبر میں مدرسے سے فارع ہوکے گھر آیا۔ اور تعلیمی سال کا نصف حصہ گزرنے کے بعد ایف سی پی ایس دررش میں نویں جماعت میں داخلہ لیا۔ اور ہمت نہیں ہاری صرف پانچ مہینے کی محنت سے نویں جماعت کے امتحان میں 412 نمبر حاصل کرلئے۔
عمر حیات نے اپنی تمام تر کامیابیوں کو اللہ تعالی کی مہربانی والدین کی دعائیں اور اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔ عمر حیات عصری اور دینی علوم ایک ساتھ حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں چھوٹی سی باتوں کیلیے بڑے بڑے انعامات بھی دئے جاتے ہیں۔ مگر آج تک حکومتی اداروں سے لے کے این جی اوز تک اور نوجوانوں کیلیے کام کرنے والے مختلف تنظیموں میں سے اس بچے کا حال تک کسی نے نہیں پوچھا۔ عمر حیات ایک موتی ہے۔ اور ملک و قوم کا سرمایہ ہے اسے صرف حوصلہ اور ہمت دلانے کی ضرورت ہے۔ ہم سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے صرف یہی گزارش کرینگے کہ۔


گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی۔
اے خانہ براندازچمن کچھ تو ادھر بھی۔

اس کے علاوہ مجھے ایک اور حیرت تب ہوئی جب مجھے پتہ چلا کہ عمر حیات شاعری بھی کرتے ہیں۔ میں نے اس سے تازہ کلام سنانے کی فرمائش کی۔ غزل کے تمام اشعار بیت الغزل کہلانے کے قابل تھے مگر ایک شعر بہت ہی متاثر کن تھا۔

ہسے مہ روخچی نیشی متے دی روخچے ریران۔
بوختہ نیویشیرو نام شاو کورا بوغیین۔

وہ خود مجھے بھول کے مجھ سے بھی خود کو بھلانے کا تقاضا کرتی ہے۔ مگر پتھر کو جلدی مٹانا آسان تو نہیں۔.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق