اقبال حیات آف برغزی

اردو دانی کا سوال (جواب آن غزل)

 تحریر: اقبال حیات آف برغذی چترال
ہم چترال کے باسی جہاں مادری زبان کی حیثیت سے کھوار یعنی چترال زبان سے محبت کرتے ہیں۔ وہاں قومی زبان کے طور پر اردو سے بھی والہانہ پیار کرتے ہیں۔ اور اس دیس کے ہر چھوٹے بڑے میں کم وبیش اس زبان سے شناسائی اور اپنائیت پائی جاتی ہے ۔ہماری اردو زبان سے وابستگی میں وطن سے بے پناہ محبت کا جذبہ کار فرماہے۔اس کے علاوہ شرح خواندگی کے لحاظ سے بھی ضلع چترال پورے پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اور یوں یہاں کے رہنے والوں کا اردو زبان سے اُنیست مسلمہ ہے۔ اور شاید پاکستان میں سوائے کراچی کے کوئی ایسی جگہ ہوگی جہاں ہم سے زیادہ اردو دان ہونگے ۔بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہمارے حکمران ہی نہ اردو سے پیار کرتے ہیں۔اور نہ اسے بحیثیت قومی زبان اپنانے کے لئے تیار ہیں ۔مملکت خداداد پاکستان کے وجود میں آئے ستر سال کا طویل عرصہ بیت گیا۔ مگر ایک قوم کی حیثیت سے ہم اپنے لئے قومی زبان کا تعین نہ کرسکے ۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے اس سلسلے میں فیصلے کے باوجود حکمران ملی یکجہتی کے اس انمول نمونے کو اپنانے سے گریزان ہیں۔کیونکہ ہمارے ارباب اختیار غیروں کی زبان کو فخریہ طو پر بولنے کے عادی ہوچکے ہیں۔اور اپنی اولاد کو بھی اس مزاج کے حامل بنانے کے لئے اغیار کی تعلیمی درسگاہوں سے فیض یاب کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے انگریزوں سے آزادی کے بعد انہوں نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم میں اپنی زبان کو کلیدی حیثیت کے ساتھ شامل کرواکے اپنی بالادستی کے تاثر چھوڑ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے قوم کے اندر مجموعی طو ر پر انگریزی کی اہمیت سرایت کرگئی ہے۔ اور یوں ہماری معاشرتی زندگی کے اطوار بھی اس بولی کو بولنے والوں کے رنگ میں ڈھلتے گئے۔ان کے لباس اور حلیے کو اپنانے میں فخر محسوس کیا جانے لگا۔ ان کے کھانے کے اسلوب کو جدید دنیا کے تقاضوں سے جڑنے لگے۔اور ذہنی طور پر محکومیت کا تار آزادی کے بعد بھی نہ ٹوٹا ۔بحرحال اردو کو قومی زبان کا روپ دیتے ہوئے۔اس سے دفتری حدود تک محدود کرنے کی بجائے اس کادائرہ معاشرتی زندگی کے ہر شعبے تک بڑھانا چاہیے۔ہمیں Referenceکو حوالہ کہنے کے ساتھ ساتھ ممی،ڈیڈی کو بھی ماں باپ میں تبدیل کرنا ہوگا اور ساتھ ساتھ پینٹ شرٹ کو قمیص شلوار میں بدلنا ہوگااور یوں وطن اور قومی زبان سے محبت کا حقیقی حق ادا ہوگا۔ ایک زمانے میں ہمارے ایک وزیر یا تدبیر فرانس کے دورے پر گئے ہیں۔ ائیر پورٹ سے لے کر قیام گاہ اور کھانے کی میز تک میزبان وزیر نے اپنے مہمان سے خوبصورت انگریزی میں بات چیت کئے ہیں۔ لیکن حکومتی سطح پر باقاعدہ مذاکرات کے دوران میزبان نے اپنے ساتھ مترجم بیٹھائے ہیں۔ اور خود فرانسیسی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کئے ہیں۔مذاکرات سے فراغت کے بعد ہمارے وزیر کی طرف سے مترجم کی ضرورت کے بارے میں سوال پر میزبان وزیر کہتے ہیں۔ کہ چونکہ مذاکرات کے وقت میز پر میرا قومی جھنڈا میرے سامنے لہرایا ہوتا ہے۔ اس لئے دوسروں کی زبان میں بات چیت کرنے کو اپنے قومی جھنڈے کے ساتھ توہین تصور کرتا ہوں۔
اردودانی اور قومی شخص کی پاسداری کا یوں جذبہ اگر ہمارے حکمران اپنے اندر پیدا کریں گے۔ تو شاید جلسہ عام میں اردو دانی کے بارے میں عوام سے سوال کرنے کی ضرورت نہ پڑتی

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى