تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …….وزیراعظم کا دورہ چترال

…………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …………..
چترال کو خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ضلع قرار دیا جاتاہے اس کا رقبہ 14850 مربع کلو میٹر ہے افغانستان سے اس کی 600 کلو میٹر لمبی سرحد ہے جبکہ گلگت بلتستان کے ساتھ اس کی 250 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے دیر اور سوات کے ساتھ بھی اس کی سرحدین ملتی ہیں بھٹو شہید اور جنرل پرویز مشرف کو لوگ اس لئے یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے چترال کا سب سے زیادہ دورے کئے اور ہر دورے میں خوشگوار اثر چھوڑگئے آفتا ب احمد شیر پاؤ اور امیر حید ر خان ہوتی بھی چترال کے بار بار دورے کرتے تھے اور ہر بار مثبت تاثر چھوڑ کرجاتے تھے موجودہ وزیراعظم محمد نوا ز شریف نے دو بار چترال میں جلسوں سے خطاب کیاور دونوں بار منفی تاثر چھوڑ کر گئے 1999 ؁ء میں کارگل کی جنگ سے پہلے انہوں نے دورہ کر کے جلسہ عام سے خطاب کیا تھا اس دورے میں گوہرایوب ان کے ہمراہ تھے جلسہ عام میں 10 ہزار کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے چار سوالات پوچھے لاکھ میں ہزار ہوتے ہیں ، کروڑ میں کتنے لاکھ ہوتے ہیں اور ارب میں کتنے کروڑ ہوتے ہیں اگر افغانستان کے راستے ایک ارب روپے خرچ سڑک بناؤں کیا تم خوش ہوجائے گے ؟انگریز ی میں ایسے سوالات کو سلی کو سچنز(Silly questions) کہا جاتاہے چترال کے لوگ بہت حساس ہیں اس کا منفی تاثر پھیلا تھا جواب تک زائل نہیں ہوا 7 ستمبر کو وزیراعظم کا دورہ اور جلسہ اس تاثر کو ختم کر نے کا اچھا موقع تھا مگر کسی نے وزیراعظم کے کان میں سرگوشی کی کہ لوگوں کے ساتھ بے تکلفی سے مذاق کرو وزیراعظم نے جلسے میں 25 ہزار کے مجمع سے پوچھا ’’ چترالیو ‘‘ ! تمہیں اردو آتی ہے ؟ جن کو اردو آتی ہے وہ ہاتھ اُٹھا ئیں میں پہلی بار یہاں آیا تو کسی کواردو نہیںآتی تھی اب کچھ لوگوں کو اردو آتی ہے یہ اچھی بات ہے جلسہ عام کو کا میاب کر نے کے لئے چترال کے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے تما م سیاسی جماعتوں کا تعاؤن حاصل کیا ضلعی حکومت کا تعاؤن بھی حاصل کیا وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام جلسے سے 3 دن پہلے چترال پہنچے انہوں نے انتظامات کا جائز ہ لیا سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے ملاقاتیں کیں اور جلسے کو کامیاب بنا نے کے لئے کامیاب حکمت علمی اپنائی انجینئر امیر مقام نے وزیراعظم سے پہلے خطاب کرتے ہوئے چترال کی تمام سیاسی جماعتوں کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر چترال کی تعمیر و ترقی کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا اور بہت بڑا جلسہ کر کے دکھا یا انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کے لوگ باالعموم اور چترال کے لوگ بالخصوص صوبائی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے گو نا گو ں مسائل سے دوچار ہیں گذشتہ سواتیں سالوں سے ترقیاتی کام بند ہیں گذشتہ سال سیلاب ، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے بنیاد ی ڈھا نچہ برباد ہوچکا ہے صوبائی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لئے ایک پائی خرچ نہیں کی اس لئے عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف دیکھتے ہیں مسلم لیگ (ن)کے ضلع صدر سید احمد خان نے انتہائی پرجوش اور جذبانی تقر یر کی ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے وزیراعظم کا خیر مقدم کر تے ہوئے چترال کے چیدہ مسائل کی طرف توجہ دلائی خصوصاً صحت کے شعبے ہسپتال نہ ہو نے کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت سے جو کچھ مانگنا تھا وہ آپ نے بن مانگے ہمیں دیدیا ہے اس وقت وفاقی حکومت چترال میں 55 ارب روپے کے میگا پر اجیکٹس پر کام کر رہی ہے چترال کے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہ چکدرہ چترال روڈ ، بونی شندور روڈ، بونی تو ر کہو روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ ، چترال بمبوریت روڈ ، ٹیلی کمیونی کیشن کے منصوبے اور گولین گول ہائیڈر پاور پراجیکٹ وفاقی حکومت کے بڑے منصوبے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مستوج بروغل روڈ کے ذریع چترال اور خیبر پختونخوا کو چائینہ پاکستان اکنامک کا ریڈر (CPEC) کے ساتھ ملایا جائے اس طرح صوبے کے کم از کم 7 دیگر اضلاع کو بھی فائد ہ ہوگا انہوں نے مجوزہ منصوبے کی تفصیلات بھی بتائیں وزیراعظم محمدنواز شریف نے اپنی تقر یر میں اعلان کیا کہ جون 2017 ؁ء میں لواری ٹنل مکمل ہوجائے گا اور منصوبے کا باقاعد ہ افتتاح ہوگا گولین گول پاور ہاؤس سے جون 2017 ؁ء میں چترال کے 100 دیہات کو بجلی دی جائیگی انہوں نے چترال میں 250 بستروں کے جدید ہسپتال کے قیام کا بھی اعلان کیا وزیراعظم نے ضلع کونسل چترال کے لئے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا اور چترال میں ایک یو نیورسٹی قائم کر نے کا عند یہ دیا اٹھا رویں ترمیم کے تحت یونیورسٹی صوبائی شعبہ ہے اور صوبائی حکومت نے چترال کے لئے یونورسٹی کی منظوری دی ہے چترال میں موجودہ یونیورسٹیوں کے دو کمپس موجود ہیں ان آپس میں ضم کر کے نئی یونیورسٹی قائم کر نی ہے وزیراعظم کے اعلان کے بعد اگر HEC نے اس کام کا بیڑا اُٹھا یا تو اگلے سال عبدالولی خان یونیورسٹی کمپس میں نئی یونیورسٹی قائم ہوجائے گی اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے لئے خریدی گئی زمین پر نئی یونیورسٹی کی عمارت تعمیر ہوگی وزیراعظم اگر اپنے دورہ چترا ل سے پہلے آدھ گھنٹہ بریفنگ لیتے اور جلسے میں مذاقیہ گفتگو نہ کرتے تو اس دورے کا بہت اچھا تاثر ہوتا اور ہم پورے و ثوق کے ساتھ کہتے کہ ’’ وہ آیا ، اُس نے دیکھا اُس نے فتح کیا ‘‘
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق