محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان….’’خادم اعلیٰ مغرور کیوں؟‘‘

………….محمد جاوید حیات ………..


’’قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے ‘‘۔۔صبح صبح خادم سے بیعت لی گئی ہے ۔۔کہ وہ لوگوں کا خلیفہ ہے ۔۔عصر کے وقت دیکھا جاتا ہے ۔۔کہ خلیفہ کپڑے کی تھان کندوں پہ اٹھائے بازار میں پھر رہا ہے ۔۔پوچھا جاتا ہے ۔کیا کر رہے ہو ؟حکومت کے کام کون کرے گا ؟جواب آتا ہے ۔۔۔کیا میں خلیفہ بن کر اپنی فیملی کے لئے حلال کی کمائی کے کھانے کا بندوبست نہ کروں ۔۔جواب آتا ہے کہ بیت المال سے تمہارا وظیفہ مقرر کیا جائے گا ۔۔خادم اعلیٰ مانتا ہے پھر پوچھا جاتا ہے کہ کتنا مقرر کیا جائے ۔۔جواب آتا ہے ۔۔کہ شہر کے ایک ادنیٰ مزدور کی اجرت کے برابر مقرر کیا جائے ۔۔۔پوچھا جا تا ہے کہ کافی نہ ہوا تو۔۔؟جواب آتا ہے ۔۔تو پھر میں مزدور کی اجرت بڑھاؤں گا ۔۔۔۔شہر کی گلیوں میں خادم اعلیٰ رات کی تاریکی میں گشت کررہا ہے ۔۔کوئی پہرہ دار نہیں ،کوئی پروٹوکول نہیں ،سائرن نہیں ،شیڈول نہیں ،شہر سیل نہیں ،عوام لرزہ برآندام نہیں ۔۔ایک گھر سے ماں کی شکایت کی آواز آتی ہے ۔بچے بھوکے ہیں ۔۔ماں کو پتہ نہیں کہ باہر خادم اعلیٰ گلی میں سن رہا ہے ۔خادم اعلیٰ آٹا کی بوری خود کندھے پہ اٹھائے گھر تک پہنچاتا ہے ۔۔خادم اعلیٰ۲۵لاکھ مربع میل زمین پر حکمران ہے ۔کپڑوں پر ۱۳ پیوند لگے ہیں۔۔۔خادم اعلیٰ ایک پسماندہ ضلع کے دورے پر ہے ۔۔مہینہ بھر سے تیاریاں ہیں ۔سڑکوں، بازاروں ،جہاز کا میدان عر ضیکہ اپنے بدن کے کپڑوں تک کی صفائی تک کا خیال ہے ۔اپنی مجبوریوں کی لسٹ بنائی جاتی ہے ۔۔اور اس کو ’’سپاس نامہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔۔سپاس نہایت ادب سے کسی کے سامنے سر جھکاکے گذارش کرنے کو کہتے ہیں ۔۔غالب نے کہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ہر مو میرے بدن پہ زبان سپاس ہے ۔۔
خادم اعلیٰ سے اپنی مجبوریوں کی گذارش ہے ۔۔پیسہ قوم کا۔۔ مجبوری بھی قوم کی ۔۔۔دولت قوم کی۔۔ ضرورت بھی قوم کی ۔۔۔لیکن سر جھکاکے گزارش کرنا۔ ۔۔خادم اعلیٰ کو اپنی کی حفاظت کی فکر ہے گاڑیوں پہ بھروسہ ہے اپنے رب پہ بھروسہ نہیں ۔۔عام لوگ ہنستے ہیں ۔۔اچھا ہوا اس کے آنے سے کم از کم سڑکیں صاف کی گئیں ۔۔اس کے مداحوں کی دوڑدھوپ پہ بھی ہنستے ہیں ۔۔بڑے بڑے عہدوں کی شان و شوکت آج کم ہو چکی ہوتی ہے ۔۔بڑے بڑے لیڈر آج چھوٹے نظر آتے ہیں ۔۔خادم اعلیٰ کے قدموں کے ساتھ عوام کے دل کی دھڑکنیں تیز نہیں ہوتیں ۔کوئی خلوص نہیں ۔۔کتنوں کے اقتدار کے سورج ایسے ابھرے چمکے ڈوبے ۔۔۔پھر لوگوں کی یادوں سے ڈلیٹ ہو گئے ۔۔عوام واقف ہیں کیونکہ آٹے کی بوری اٹھانے والا، کپڑے کی تھان بھیجنے والا ،پرانے جوتے پہنے والا ،پارلیمنٹ میں ممبروں کو ریفرشمنٹ دینے سے انکار کرنے والا ،اپنی ذاتی کوٹھی سفارت خانے کے لئے وقف کرنے والا ،گھاس کھانے کی قسم مگر اٹم بم بنانے کی قسم کھانے والا کوئی خادم اعلیٰ کسی کو نظر نہیں آتا ۔۔لوگوں کے دلوں اور روحوں پر اپنے خلو ص اور خدمت سے حکومت کرنے والا ،عوام کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھنے والا ،عوام کی امیدوں کا سورج ،ان کی رگوں میں خون کے ساتھ دوڑنے والا ،اس دھرتی پہ اپنا سب کچھ تج دینے والا کوئی خادم اعلیٰ نہیں ملتا ۔۔۔یہ غرور کا کلچر ہے ۔۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے ۔کہ لیڈر شپ میں جب غرور شامل ہوتا ہے تو یہ بت بن جاتا ہے ۔۔اور عوام بت پوجھنے والے ۔۔۔ہمارے ہاں عجیب لیڈرشب ہے کلاس فور بھرتی کرنے کے لئے بھی اہلیت اورتعلیم کی شرط ہے ۔۔متعلقہ مضمون میں اہلیت کی شرط ہے ۔۔مگر لیڈرشپ کے لئے کوئی ا یسی شرط نہیں ۔۔خس و خاشاک ہو بس پیسے ہوں قوم کا لیڈر بنتا پھرو ۔۔اس لیے خادم مغرور ہے اور آقا یعنی عوام مظلوم و مقہور ۔۔بڑی آرزو سے کہا جاتا ہے کہ روس کا صدر اپنی گاڑی میں خود تیل ڈالتا ہے ۔ہالینڈ کا وزیر اعظم اپنے بچوں کے ساتھ پیدل چلتا ہے ۔۔امریکہ کا سابق صدر ٹریکٹرچلاتا ہے ۔۔کوئی نہیں کہتا کہ جس کے پاس ۲۵لاکھ مربع میل زمین تھی اس کے کپڑوں پر ۱۳ پیوند تھے ۔یہ کیسی دھرتی ہے کہ یہاں پہ فرزانے انگشت بدندان ہیں ۔۔کونسلر ایک بزرگ سے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملاتا ہے ۔۔ناظم سلام کرنے پر ہاتھ اٹھا کر سلام کا جواب نہیں دیتا ۔ایم پی اے کو سب پتھر نظر آتے ہیں ۔ایم این اے اپنے آپ کو آسمان سے اُترا ہوا تحفہ سمجھتا ہے بڑے بڑے لیڈروں اور عوام کے درمیان میں خلیج ہے ۔۔پہاڑ کھڑا ہوا ہوتا ہے ۔۔ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت کر رہے ہیں ۔ان کے سر پہ اقتدار کا تاج ہے ان کا حکم مانا جاتا ہے ۔۔ایسا کچھ نہیں جن کے پاس خادم ہونے کی صلاحیت نہیں وہ سردار کیسے بن سکتا ہے ۔۔ہمارے سرداروں کی اور ہماری پوزشن یہی ہے ۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق